منی لانڈرنگ بل میں جرائم کی تعداد6 کردی گئی ہے،سلیم مانڈوی والا

منی لانڈرنگ بل میں جرائم کی تعداد6 کردی گئی ہے،سلیم مانڈوی والا

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر)پیپلزپارٹی کے سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا ہے کہ منی لانڈرنگ بل میں جرائم کی تعداد 29 سے کم کرکے 6 کردی گئی ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کسی ایسی قانون سازی کی حمایت نہیں کرے گی جو ٹیکس گذاروں کے خلاف ہو۔بدھ کو جاری اپنے ایک بیان میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کے چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ کمیٹی اینتی منی لانڈرنگ بل کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے، مجوزہ بل میں شامل کیے جانیوالے جرائم کی فہرست پر تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کی جارہی ہے۔ جرائم کی تعداد اور ان کی نوعیت کا جائزہ لینے کے لیے عالمی قانون دان کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ کمیٹی کی کوششوں کی وجہ سے اینٹی منی لانڈرنگ بل میں شامل کیے جانیوالے جرائم کی تعداد کو 29 سے کم کرکے 6 کردیا گیا ہے۔ ایف بی آر نے ابتدا میں منی لانڈرنگ بل میں شامل جرائم کی ایک لمبی فہرست پیش کردی تھی جس کا بغور جائزہ لینے کے لیے کمیٹی نے متعدد اجلاس طلب کیے۔ کمیٹی کی کوششوں کی وجہ سے منی لانڈرنگ کے جرائم کی تعداد کو کم کردیا گیا ہے۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ مجوزہ قانون میں کسی بھی ادارے کو لامحدود اختیارات نہیں دیے جائیں گے۔ کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ منی لانڈرنگ کی تحقیقات سے قبل اسٹیٹ بنک کے ذیلی ادارے فنانشل مینجمنٹ یونٹ سے اجازت لی جائے۔ حکومت نے کمیٹی کی اس سفارش کو منظور کرلیا ہے۔ اب کسی بھی شخص کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات اس وقت تک نہیں کی جاسکیں گی جب تک فنانشل منیجمنٹ یونٹ اس کی منظوری نہ دے۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ اینٹی منی لانڈرنگ بل پر حکومت تاحال سیاسی جماعتوں کے تحفظات دور کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ سیاسی جماعتوں کو خدشہ ہے کہ اس قانون کو ان کے خلاف استعمال کیا جائے گا۔ کمیٹی حکومت سیاسی جماعتوں کے ان خدشات کو دور کرے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ سیاسی جماعتوں کی مشاورت کے بغیر اینٹی منی لانڈرنگ بل کی حمایت نہیں کرے گی۔

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...