بینظیر انکم سپورٹ خواتین کو مالی خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے کوشاں ہے ماروی میمن

بینظیر انکم سپورٹ خواتین کو مالی خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے کوشاں ہے ...

  



 اسلام آباد( سٹاف رپورٹر)قومی یکجہتی کی علامت اور پاکستان کے کمزور طبقوں کے محافظ ہونے کے ناطے بی آئی ایس پی کا مقصد ملک بھر میں اس کے مستحقین کو برابری کی سطح پر سہولیات بہم پہنچانا ہے۔ اس ضمن میں بی آئی ایس پی کو اس کے ترقیاتی اور سماجی شعبے کے پارٹنرز کیساتھ ملک کے تمام علاقوں میں ای۔ سلوشنز کے مراکز کے قیام کیلئے اشتراک کرنے کی ضرورت ہے۔ ان مراکز کے ذریعے بی آئی ایس پی دور دراز علاقوں کے مستحقین کو بھی تعلیم، صحت اور ملازمت کی سہولیات فراہم کرنے کے قابل ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار وزیر مملکت و چیئر پرسن بی آئی ایس پی، ایم این اے ماروی میمن نے "آئی ٹی بیسڈ اینوویٹو سلوشنزکنسلٹیٹو کانفرنس"کے دوران اپنے خطاب میں بی آئی ایس پی سیکرٹریٹ میں کیا۔ کانفرنس میں آئی ٹی منسٹری، نیو ٹیک، ایف بی آر، عالمی بینک، ڈی ایف آئی ڈی، یو ایس ایڈ، جیکا، عورت فاؤنڈیشن، این آر ایس پی، آر ایس پی این ، پائیڈ، ٹیلی نار، تعلیم فاؤنڈیشن، آئی ایل ایم ٹرسٹ پاکستان، پی آر پی، مسلم ہینڈز، ای سی ایچ او، ایچ اے پی۔ پاک، ایچ ایچ آر ڈی، اے آر سی، ایچ آر ڈی این، آئی ٹی اے، پاک۔ترک سکولز، بلیٹیکا پرائیویٹ لمیٹڈ اور ای۔ ہیلتھ نیکس سورس کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اس کانفرنس کا مقصد ان ماہرین اور اداروں کیساتھ رابطہ قائم کرنا تھا جنہوں نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے استعمال سے سماجی تحفظ کو در پیش مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے ان سماجی مسائل کو تیز رفتاری کیساتھ حل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ بی آئی ایس کا مقصد تعلیم، تربیت، مہارت اور بنیادی صحت کے جدید حل کو سمجھتے ہوئے بی آئی ایس پی کے مستحقین کیلئے گریجویشن کی حکمت عملی ڈیزائن کرنا ہے۔اپنے خطاب کے دوران ، چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے ٹیکنالوجی کے استعمال سے معاشرے کے پسماندہ طبقات کی فلاح و بہبود میں حصہ لینے پر شرکاء کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ عطیہ دہندگان اور مخیر حضرات مستحق افراد کی شناخت کیلئے بی آئی ایس پی کے ڈیٹا سے مدد حاصل کرسکتے ہیں۔ انہوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ متعلقہ اداروں کی معاونت سے بی آئی ایس پی اپنے مستحقین اور دیگر ضرورت مند افراد کیلئے بری امام میں ایک ای۔کلینک اور ایک میڈی۔بینک قائم کرے گا۔کانفرنس کے دوران، تعلیم فاؤنڈیش کی جانب سے قبائلی بلوچستان میں ای۔ سکولنگ اور ای۔ہیلتھ نیکس سورس کی جانب سے ٹیلی میڈیسن مراکز اورمیڈی۔ بینک پر دو تفصیلی پریزنٹیشنز دی گئیں۔ ای۔ سکولنگ کے اقدام نے مرکرزی دھارے میں تعلیم کی رسائی اور معیار کو بہتربنانے کیلئے جدید حل پر توجہ مرکوز کی۔ کیونکہ دور دراز علاقے معیاری تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت سے محروم ہوتے ہیں اس لئے ای ۔ سکولنگ ان علاقوں میں طالب علموں کو آئی ٹی کے ذریعے تعلیم اور ای۔ سکلز کی سہولیات مہیا کرتا ہے۔ ٹیلی میڈیسن مراکز دور افتادہ علاقوں کے مریضوں کو ویڈیو سیشن کے ذریعے معیاری ڈاکٹروں اور طبی سہولیات تک رسائی فراہم کرتا ہے۔ اس طرح ٹیکنالوجی کی مدد سے ملک میں معیاری تعلیم اور صحت تک رسائی کے معاملات پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔شرکاء نے غریبوں کیلئے بی آئی ایس پی کی کوششوں کو بے حد سراہا۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ مختلف علاقوں او راطراف میں کام کرنے والے اداروں کو معاشرے کی فلاح و بہود کیلئے اپنی کوششوں کو یکجا کرنے کی ضرورت ہے۔ اس بات پر گفتگو کی گئی کہ ای۔ پاکستان کے نام سے ایک ایسا منصوبہ تشکیل دیا جائے جس کے تحت آئی ٹی سے متعلق تمام مسائل کے حل کو یکجا کیا جاسکے۔ اس موقع پر سیکرٹری بی آئی ایس پی، محمد سلیم احمد رانجھا نے کہا کہ صرف لگن اور تعاون سے ہی تبدیلی ممکن ہے اور ٹیکنالوجی کو اپنانے سے معاشرے کے پسماندہ طبقات فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ انہوں نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کے کہ اس کانفرنس میں مزید پیش رفت کی کوششیں زیادہ ٹھوس اور نتیجہ خیز ہوں گی۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر