عمران خان کی سیاست کا محور پنجاب ہے صوبے کے فیصلے بنی گالہ میں ہوتے ہیں ،حیدر ہوتی

عمران خان کی سیاست کا محور پنجاب ہے صوبے کے فیصلے بنی گالہ میں ہوتے ہیں ،حیدر ...

  



شیرگڑھ ،تخت بھائی (نامہ نگار،نمائندہ پاکستان ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اور سابق وزیراعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ پرویز خٹک پختونخوا کا بے اختیار وزیراعلیٰ ہے فیصلے بنی گالہ میں ہورہے ہیں خزانے کی چابیاں صوبائی حکومت کی بجائے جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی کے پاس ہے صوبوں کے حقوق کی جنگ میں پختون قوم کو اپنے حقوق کے لئے اپنے ہی پلیٹ فارم پر متفق ہونا پڑے گا نواز شریف اور عمران خان کی جنگ تخت اسلام آباد اور لاہور کے حصول کی جنگ ہے میاں نواز شریف صرف پنجاب کا وزیراعظم بن بیٹھے ہے ہمیں نواز شریف اور عمران خان کے جنگ کے ساتھ کوئی سروکار نہیں ہمیں پختونخوا کے حقوق کی جنگ لڑنا ہے کالاباغ ڈیم کسی بھی صورت میں بننے نہیں دیں گے یہ پختون قوم کے لئے موت اور زندگی کا مسئلہ ہے راہداری روڈ کے ڈیزائن میں تبدیلی کی صورت میں خون کی ندیاں بہیں گے وہ بدھ کے روز پی کے 27کے دورے کے موقع پر لوند خوڑ گل میرہ میں ایک شمولیتی جلسہ عام سے خطاب کے دوران کیا اس سے قبل انہوں نے دلارم بانڈہ ، مسکین آباد ، حاجی آباد کودرے ، جھاڑی ہشتنغرو کلے میں بڑے شمولیتی اجتماعات سے خطاب کیا اس موقع پر جماعت اسلامی ، پی پی پی ، جمعیت علماء اسلام ، تحریک انصاف سے سینکڑوں کی تعداد میں کارکنان اور مقامی قائدین مستعفی ہوکر اپنے خاندانوں سمیت عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا جلسہ اور اجتماعات سے ضلع مردان کے صدر اور ضلعی ناظم حمایت اللہ معیار ایڈوکیٹ ، ضلعی جنرل سیکرٹری لطیف الرحمان اورجواد ٹکرنے بھی خطاب کیا اس موقع پر عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی نائب صدر جاوید یوسفزئی ، حاجی بہادر خان سابق ایم پی اے ، لعل شرف ایڈوکیٹ ، ضلعی سالار ملک امان ، ریاض علی خٹک ، امیر خان ایڈوکیٹ ، حاجی عبدالحلیم صافی ، اللہ بخش ، مسلم صابر، محمدفاروق خان ،عباس خان مردان اور تحصیل کونسلر مقصودخان بھی ان کے ہمراہ تھے جن افراد نے اس موقع پر اے این پی میں باضابطہ شمولیت کا اعلان کیا ان میں سے بعض سرکردہ افراد کے نام حاجی محمد انور ، حاجی محمد زمان ، حاجی حضرت عمر ، جاوید انور ، علی بہادر، جلیل خان ، واصف اللہ ، اسلام الدین ، فیاض خان ، آفتاب علی ، حاجی عرفان اللہ ، اسماعیل شاہ ، الیاس خان ، ذکریا ، ابوبکر وغیرہ ہیں امیر حید ر خان ہوتی نے مزید کہا کہ عمران خان نے انتخابی مہم کے دوران پختونوں کے ساتھ وعدہ کیاتھا کہ کامیابی کی صورت میں خیبر پختونخوا کو نیا خیبر پختونخوا بنایا جائے گا مگر اب وہ خیبر پختونخو تحت لاہور کے حاصل کرنے کے لئے قربانی کا بکرا بناکر ان کو پختونوں کی بدحالی نظر نہیں آرہی ہے صوبہ میں حکومت اور قانون نام کی کوئی چیز نہیں ڈھائی سال کے دور میں پرویز خٹک حکومت کوئی بڑا ترقیاتی پراجیکٹ مثال کے طور پر پیش نہیں کرسکتی ہے اور اے این پی کے ترقیاتی کاموں پر اپنے نام کی تختیاں سجاتی ہے کے پی کے میں بدامنی ،قتل وغارت ، لاقانونیت ، مہنگائی اور بے روزگاری ،تعلیمی انحطاط زوروں پر ہیں جبکہ عمران خان نوازشریف کے ساتھ تحت اسلام آباد اور تحت لاہور کی لڑائی میں اپنی ساری توانائی صرف کررہی ہے انہوں نے کہا کہ پختونوں کا نواز شریف اور عمران خان کی جنگ کے ساتھ کوئی سروکار نہیں پختون بحیثیت قوم اب اپنے حقوق کی جنگ خود لڑے گی انہوں نے کہا کہ میاں نوازشریف اور عمران خان ایک سکے کے دورخ ہے میاں نواز شریف صرف پنجاب کے وزیراعظم بن بیٹھے ہے کے پی کے کی ترقی اور خوشحالی کے لئے ان کی حکومت نے ایک بھی اینٹ نہیں لگائی ہے انہوں نے کہا کہ صوبوں کے حقوق کی جنگ میں بلوچ،سندھ اور پنجابی اپنے اپنے صفوں میں کھڑے ہیں پختونوں کو اس جنگ میں اپنے ہی صف میں کھڑا ہونا پڑے گا اس ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں اور سیاست دان تخت اسلام آباد اور لاہور کے فکر میں ہے پختونوں کو اس اہم موقع پر اپنے حقو ق جیتنے کے لئے اے این پی کا ساتھ دینا پڑے گاانہوں نے اپنا دورہ پی کے 27کو تاریخی دورہ قرار دے کر اس موقع پر اے این پی میں شمولیت اختیار کرنے والوں کو مبارک باد دی اور اتنی بڑی تعداد میں اے این پی میں شمولیتوں کو پختون قوم کی بیداری کے ساتھ تعبیر کیا انہوں نے کہا کہ کالاباغ ڈیم مردہ گھوڑا ہے میاں نواز شریف حکومت مردے کوزندہ کرنے کا خیال دل سے نکال دے کالاباغ ڈیم کسی بھی صورت میں نہیں بن سکتا ہے کیونکہ یہ ہمارے لئے موت اور زندگی کا مسئلہ ہے انہوں نے کہا کہ اصل تبدیلی اے این پی کی سابق دور حکومت میں اے این پی لا چکی ہے اب تبدیلی کی باتیں کرنے والے جھوٹ کا سہارہ لے کر سستی شہرت حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں اے این پی کی حکومت اپنی پانچ سالہ دور حکومت میں پاکستان کی ساٹھ سالہ تاریخ میں تمام حکومتوں کی ترقیاتی کاموں سے زیادہ ترقیاتی کام کرچکی ہیں جس کی مثال پیش کرنا ہر آنے والے حکومت کے لئے مشکل ہے

مزید : پشاورصفحہ اول