سخا کوٹ میں افغان مہاجر کیمپ در گئی کی اراضی مالکان کا جرگہ

سخا کوٹ میں افغان مہاجر کیمپ در گئی کی اراضی مالکان کا جرگہ

  



سخاکوٹ ( نمائندہ پاکستان ) افغان مہاجر کیمپ درگئی کے اراضی مالکان ملک حاجی گل قند ، حاجی با رحمان ، حاجی نیک محمد ، کونسلرمعراج الحق، شیر باز خان ، ظریف خان ، کونسلر بشیر خان ، رحمان اللہ خان اور دیگر نے درگئی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی حکومت ، گورنر صوبہ خیر پختون خوا سردار مہتاب احمد خان عباسی ، وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا پرویز خٹک اور صوبائی حکومت کے دیگر متعلقہ حکام سے پر زور مطالباہ کیا ہے کہ مہاجر کیمپ درگئی کا خاتمہ کرکے یہاں مقیم 290گھرانوں کو کسی اور مقام پر منتقل اور ان کی اراضی مافغان مہاجرین سے واگزار کی جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ دس سال سے متعلقہ محکمے نے ان کے 1600کنال اراضی کا اجارہ رقم بھی اداء نہیں کی ہے ۔ انہون نے کہا کہ 1982سے سالانہ 100روپے فی کنال اجارہ کی رقم مختص ہے لیکن وہ بھی گذشتہ دس سالوں کے دوران انہیں اداءء نہیں کی گئی ہے جبکہ افغان مہاجرین ان کے کروڑوں روپے کی جائیداد پر قابض اور خود مالک بن بیٹھے ہیں ۔ انہون نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ حکومت انہیں خود مہاجرین بنا چکی ہے کہ ان کے کروڑوں روپے کی جائیداد افغان مہاجرین کو قبضہ میں دے کر خود اراضی مالکان کو بھکاری بنا ئی ہے۔ انہون نے کہا کہ اب چونکہ افغان مہاجرین کے کیمپوں کو محدود کردیا ہے اس لئے درگئی افغان مہاجر کیمپ جہان صرف290گھرانے آباد ہیں کو ختم کرکے ان افغان مہاجرین کو بارڈر کے نزدیک کسی دوسرے مقام منتقل کئے جائیں ۔ انہون نے کہا کہ قابل افسوس بات یہ ہے کہ اراضی ان کی ہے لیکن افغان مہاجرین ان کی اراضی پر دکانات و ماکانات تعمیر کرکے ان کے باقاعدگی سے کرائے وصول کررہے ہیں اور افغانستان واپسی یا کسی دوسرے شہر منتقل ہونے کی سورت میں وہی مکان فروخت کررہے ہیں جو تنازعات کو جنم دے رہے ہیں۔ انہون مطالبہ کیا کہ وفاقی محکمہ سیفران کے متعلقہ حکام فوری نوٹس لے کر درگئی افغان مہاجر کیمپ خالی کرائے بصورت دیگر مقامی اراضی مالکان اور افغان مہاجرین کے مابین جنم لینے والے مالکانہ حقوق کے تنازعات خون ریزی کی شکل اختیار کرلیں گے جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پرعائد ہوگی۔

مزید : کراچی صفحہ آخر


loading...