امام بارگاہ خونی برج سے برآمد ہونیوالا شاگرد کا تعزیہ 75 سال قدیمی

امام بارگاہ خونی برج سے برآمد ہونیوالا شاگرد کا تعزیہ 75 سال قدیمی

  



ملتان(سٹی رپورٹر) امام بارگاہ خونی برج سے برآمد ہونے والا شاگرد کا تعزیہ تقریباً1941میں تیار کرنا شروع کیا جو ایک سال کی مدت میں تیار ہوا جو کہ تقریبا 75سال پرانا ہے جس کو چنیوٹ کے (بقیہ نمبر20صفحہ12پر )

کاریگروں محمد علی چنیوٹی نے اپنے ماہر شاگردوں کے ہمراہ خصوصی دلچسپی اور بڑی محنت کے ساتھ بنایا جس کو تیار کرنے میں دیار کی لکڑی کا استعما ل کیا گیا شاگرد کا تعزیہ 7منزلوں پر مشتمل ہے جس کے 32سے زائد حصے ہیں جس میں کیل کو کوئی استعمال نہیں کیا گیا تعزیہ بنانے سے قبل لو ہے کا فریم تیار کیا گیا تاکہ اس کی مضبوطی دیر پا قائم رہے شاگرد کے تعزیہ کی اونچائی 27فٹ اور چوڑائی 8فٹ ہے جبکہ اس کا وزن 100من سے زیادہ ہے شاگرد کے تعزیہ کی بناوٹ پر ایک لاکھ پچاس ہزار روپے لاگت آئی تھی تعزیہ کی تزئین وآرائش کا کام یکم محرم سے شروع ہوتا ہے جس پر 30ہزار سے زائد کی لاگت آہے جو کہ8محرم تک مکمل کر لیا جاتا ہے 9محرم کو تعزیہ زیارت کے لئے رکھ دیا جاتا ہے جس کی زیارت کے لئے دور دراز سے شہری ملتان آتے ہیں یہ تعزیہ 10 محرم کو امام بارگاہ سے برآمد ہو کر پاک گیٹ ، حرم گیٹ سے ہوتا ہوا دربار حضرت شیدی لعل پر اختتام پذیر ہوتا ہے ۔

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...