پاک چین اقتصادی راہداری کئی ممالک کو ایک دوسرے کے قریب کردیگی: ممنون حسین

پاک چین اقتصادی راہداری کئی ممالک کو ایک دوسرے کے قریب کردیگی: ممنون حسین

  



اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہ داری خطے کے تمام ممالک کو ایک دوسرے سے مزید قریب کردے گی اور معاشی ترقی کی نئی راہیں کھل جائیں گی جس سے جنوبی ایشیا، وسط ایشیا اور مشرق وسطی کے ممالک فائدہ اٹھا سکیں گے۔ صدر مملکت نے یہ بات وسط ایشیا اور کامن ویلتھ آف انڈیپینڈنٹ سٹیٹس کے سفیروں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی۔صدر مملکت نے کہا کہ حکومت پاکستان اور عوام اس پورے خطے کے ساتھ تجارتی،ثقافتی اور عوام کے درمیان رابطوں کے فروغ دینا چاہتے ہیں،اس سلسلے میں جامع حکمت عملی تیار کر لی گئی ہے اور متعلقہ حکومتوں کے ساتھ مل کر عملی اقدامات کیے جارہے ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہ داری کے نتیجے میں خطے کے تمام ملکوں کے درمیان اقتصادی رابطوں میں اضافہ ہوگا اور ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی۔صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان علاقے میں امن کے فروغ کا خواہش مند ہے کہ اور افغانستان میں قیام امن اور استحکام کے لیے کوشاں ہے اور اس مقصد کے لیے خطے کے تمام ملکوں سے تعاون کررہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف ہے اور اس کے خاتمے کے لیے افواج پاکستان ملک کے مختلف حصو ں میں آپریشن ضرب عضب کے ذریعے دہشت گردوں کے مکمل خاتمے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ یہ آپریشن آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے گاجو صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ افغانستان سمیت علاقائی امن کا ضامن ثابت ہوگا۔صدر مملکت نے اس بات پر زور دے کر کہا کہ پاکستان خطے کے تمام ممالک خاص طور پر بھارت کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کے اصول کے تحت تعلقات کے فروغ کا خواہش مند ہے اور توقع رکھتا ہے کہ تمام ہمسایہ ممالک اسی جذبے کے تحت خطے کے امن اور استحکام کے لیے پاکستان کا ساتھ دیں گے۔صدر مملکت کے ساتھ ملاقات کرنے والوں میں قزاقستان،آذر بائیجان،یوکرین،تاجکستان،افغانستان، روس، بیلاروس، کرغستان، ازبکستان اور ترکمانستان کے سفیر شامل تھے۔ ان سفیروں نے اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے خطے میں امن و استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے لیے پاکستان کے کردار کی تعریف کی اور توقع ظاہر کی کہ پاک چین اقتصادی راہ داری پورے خطے کے ممالک کے لیے سود مند ثابت ہوگی۔دریں اثناء صدر مملکت ممنون حسین نے ہدایت کی ہے کہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز)میں طبی سہولتیں بہتر بنانے کے لیے وفاقی محتسب کی رپورٹ پر عمل کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے یہ بات ایوانِ صدر میں اعلی سطح کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں وزیر مملکت برائے کیڈ بیرسٹر عثمان ابراہیم، وزیر مملکت برائے صحت سائرہ افضل تارڑ،وفاقی محتسب سلمان فاروقی سمیت اعلی حکام موجود تھے۔ وفاقی محتسب نے اس موقع پر صدر مملکت کو پمز کی صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے تجاویز پر مشتمل رپورٹ بھی پیش کی۔صدرِ مملکت نے کہا کہ رپورٹ نہایت محنت اور عرق ریزی سے تیار کی گئی ہے جس کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے گا اور پمز میں طبی سہولتیں بہتر بنانے کے لیے متعلقہ وفاقی وزارتوں اور پلاننگ کمیشن کی رپورٹوں کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔صدر مملکت ممنون حسین نے کہا کہ پمز میں مریض چونکہ گنجائش سے زیادہ آرہے ہیں اس لیے تمام مریضوں کو بہتر طبی سہولتوں کی فراہمی کے لیے حکمتِ عملی تیار کی جائے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ پمز سمیت اسلام آباد کے تمام اسپتالوں کی صورتِ حال بہتر ہو جائے گی۔ اس مقصد کے حصول کے لیے محنت اور فرض شناسی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ حکومت عوام کو طبی سہولتوں کی فراہمی اور معیار بہتر بنانے کے لیے یکسو ہے اور اس سلسلے میں تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔

مزید : ملتان صفحہ اول


loading...