توانائی کے شعبے میں پاکستان سے ہر قسم کا تعاون کرینگے: امریکہ

توانائی کے شعبے میں پاکستان سے ہر قسم کا تعاون کرینگے: امریکہ

  



واشنگٹن (نمائندہ خصوصی) امریکہ نے پاکستان کو توانائی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا، آپریشن ضرب عضب میں کامیابی وزیراعظم نوازشریف کی امن کے قیام کی پالیسی کا واضح ثبوت ہے۔ بدھ کو وزیراعظم نواز شریف سے امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے یہاں بلیئرہاؤس میں ملاقات کی۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، دوطرفہ تعلقات، افغانستان کی صورتحال، پاک بھارت سرحدی کشیدگی، پاکستان میں بھارتی مداخلت سمیت اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ملاقات تقریباً40منٹ سے زائد تک جاری رہی۔ جس میں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف،وزیرخزانہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان، مشیر خارجہ سرتاج عزیز اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی طارق فاطمی اور دیگر حکام شریک تھے جبکہ امریکی وفد میں پاکستان میں تعینات امریکی سفیر رچرڈ اولسن، پیٹر لیوے، پاکستان و افغانستان کیلئے امریکی نمائندہ خصوصی لورل ملر و دیگر نے شرکت کی۔ ملاقات میں خطے کی مجموعی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور معیشت، سرمایہ کاری اور سیکیورٹی سمیت دیگر اہم معاملات پر بھی بات چیت کی گئی۔ وزیراعظم نواز شریف نے امریکی وزیرخارجہ کو اقوام متحدہ میں کی گئی اپنی تقریر کے نکات سے بھی آگاہ کیا۔ جان کیری نے پاکستان کو ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ اقتصادی تعلقات مزید مضبوط کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان میں توانائی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے ہر قسم کا تعاون فراہم کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن ضرب عضب میں کامیابی وزیراعظم نواز شریف کی امن قائم کرنے کی پالیسی کا واضح ثبوت ہے۔ ملاقات کے دوران امریکی وزیر خارجہ نے خطے میں امن و سلامتی کیلئے وزیراعظم کی کوششوں کو سراہا جبکہ اس دوران وزیراعظم نواز شریف نے جان کیری کو بھارت کی کراچی، فاٹا اور بلوچستان میں عدم استحکام پیدا کی کارروائیوں بارے آگاہ کیا اور کہا کہ پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے اور وہ تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کا خواہاں ہے تاہم اس قسم کی کارروائیوں سے خطے کی صورتحال خراب ہونے کا خدشہ ہیوزیر اعظم نواز شریف نے جان کیری کو پاکستان عدم استحکام پیدا کرنے کی غرض سے قبائلی علاقوں فاٹا ، بلوچستان اور کراچی میں بھارتی خفیہ اداروں کے کردار سے آگاہ کیا ۔ مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے بھارت کی تخریبی سرگرمیوں کے سلسلے میں تحریری ثبوتوں پر مشتمل دستاویزات کی تین جلدیں امریکی حکام کے حوالے کیں۔

نواز، کیری ملاقات

واشنگٹن(اظہر زمان، بیورو چیف) وزیر اعظم نواز شریف نے پاکستانی قوم کو یقین دلایا ہے کہ ان کی حکومت کی موجودہ آئینی مدت پوری ہونے تک ملک کو لوڈشیڈنگ سے مکمل نجات مل جائے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ 2017ء کے اختتام پر اس وقت ایل این جی کے ذریعے جاری تین منصوبوں سے 3600میگاواٹ بجلی سسٹم میں داخل ہو چکی ہوگی۔ انہوں نے یہ بات واشنگٹن کے پاکستانی سفارتخانے میں ملک بھر سے آئے ہوئے پاکستانی کمیونٹی کے ارکان کیلئے ترتیب دیئے گئے عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ جس کا اہتمام پاکستانی سفیر جلیل عباس جیلانی نے کیا تھا۔ نواز شریف نے 1999ء میں اپنی اس وقت کی حکومت کے دور میں پرامن اور خوشحال پاکستان کے حالات کی تفصیل بیان کی اور اس سے مئی 2013ء میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے وقت ملک میں دہشت گردی کی فضاء اور تباہ حال معیشت کی صورتحال کا تقابل کیا۔وزیر اعظم نواز شریف نے بتایا کہ اس وقت دہشتگردی کے خاتمے کے لئے ضرب عضب آپریشن جاری ہے، آپریشن سے دہشتگردوں کی پناہ گاہیں اور تربیت گاہیں ختم ہو چکی ہیں اور ان کا نیٹ ورک توڑ دیا گیا ہے۔ وہ وقت دور نہیں جب ملک سے دہشتگردی کا ناسور جڑ سے اکھیڑ کر پھینک دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس عظیم مشن میں پوری قوم فوج کی پشت پر کھڑی ہے۔ بلاشبہ اس مشن کی تکمیل کیلئے فوج، سکیورٹی ایجنسیوں اور پولیس نے جو قربانیاں دی ہیں ان سے ایک نئی تاریخ رقم ہو رہی ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ اگر غیر جانبداری سے دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ اڑھائی برس میں پاکستان کے تمام حصوں میں پہلے کی نسبت ایک واضح حقیقی تبدیلی آ چکی ہے۔ فاٹا ، بلوچستان اور کراچی اب پہلے جیسے نہیں رہے۔ فاٹا میں دہشتگردی کا خاتمہ ہو رہا ہے ،بلوچستان ایک طرح سے حالت جنگ میں تھا جہاں امن قائم ہو چکا ہے، کراچی بھتہ خوروں، ٹارگٹ کلرز اور جرائم پیشہ افراد کی لپیٹ میں آ چکا تھا ، جہاں حالات معمول پر آ رہے ہیں۔ نوازشریف نے واضح کیا کہ جب ہم نے اقتدار سنبھالا تو ہمیں سب سے زیادہ درپیش مسئلہ دہشتگردی کا تھا۔ ہم نے اس کے خاتمے کے لئے اقدامات کا آغاز کیا جسے بارہ سال تک نظر انداز کیا جاتا رہا، پچاس ہزار سے زائد پاکستانی اس کی نذر ہو گئے۔ ہم نے مذاکرات کے ذریعے اسے حل کرنے کی کوشش کی لیکن اس میں کامیابی نہ ہونے پر دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کرنا پڑا۔وزیر اعظم نے بتایا کہ دہشتگردی کے بعد ہماری دو سری بڑی ترجیح توانائی کے بحران پر قابو پانا تھا۔ نیپرا کے تین منصوبوں میں سے ہر ایک پر 93بلین روپے کا تخمینہ لگایا گیا تھا لیکن ہم نے اس پر نظرثانی کر کے لاگت کم کر کے 55بلین روپے کر دی۔ اس طرح مجموعی طور پر تین منصوبوں پر تقریباً 120ارب روپے کی بچت کی۔ ان منصوبوں پر کوئی کمیشن یا کک بیک نہیں وصول کیا گیا اور اس حاصل رقم کو مزید منصوبوں پر استعمال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے جس طرح سے یہ منصوبے شروع کئے ہیں اس کی وجہ سے آئندہ 30سال میں مزید560 ارب روپے بچیں گے۔ اس کے علاوہ پورٹ قاسم میں کوئلے کی مدد سے جو منصوبے شروع ہو چکے ہیں ان سے 1320میگاواٹ بجلی حاصل ہو گی۔ اسی طرح ساہیوال میں 1320میگاواٹ کا پلانٹ لگ رہا ہے۔ تھر میں جہاں کوئلے کی کانیں ہیں کوئلہ نکال کر وہاں بھی منصوبے شروع ہوں گے اور یہ کوئلہ دوسری جگہ کے منصوبوں میں بھی استعمال ہو گا۔ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹس کے ذریعے 960میگاواٹ بجلی حاصل ہو گی۔ علاوہ ازیں ونڈ انرجی اور سولر انرجی کے زیر تکمیل منصوبوں سے بھی بالترتیب 400اور300میگاواٹ بجلی ملنے کا امکان ہے۔ حبکو سے 660میگاواٹ اور گدو سے 700میگاواٹ بجلی ملے گی۔ یہ تمام منصوبے 2016ء اور 2018ء کی درمیانی مدت میں مکمل ہو جائیں گے۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ تباہ شدہ معیشت کی بحالی ان کی تیسری بڑی ترجیح تھی جس میں انہیں بہت کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ اس سلسلے میں مثالیں دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی جی ڈی پی چار اعشاریہ چار تک پہنچ رہی ہے اور ہمارا موجودہ سال کا ٹارگٹ پانچ کی سطح تک پہنچانا ہے جسے جلد حاصل کر لیا جائے گا بجٹ کا خسارہ 8.8فیصد سے کم ہو کر 5.3فیصد رہ گیا ہے اسی طرح مہنگائی بھی کم ہو کر1.6فیصد تک آ گئی ہے جو تاریخ کی کم ترین سطح ہے۔ پچھلے اڑھائی برس میں سٹاک مارکیٹ میں 72فیصد کا اضافہ ہوا۔ بیرونی اور اندرونی سرمایہ کاری میں بہت اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ چین کی سرمایہ کاری سے پاک چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ شروع ہو رہا ہے۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ چھوٹے چھوٹے منصوبوں کے علاوہ لاہور سے کراچی تک موٹر بنانے کے بڑے منصوبے کو جلد ہی شروع کر دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ حسن ابدال سے مانسہرہ تک موٹر وے بنانے کا منصوبہ بھی ہے جبکہ مانسہرہ سے چین کے بارڈر خنجراب تک سڑک بنانے کا منصوبہ پہلے ہی شروع ہو چکا ہے جو اقتصادی راہداری کے پراجیکٹ کا ایک حصہ ہے۔ عطا آباد میں لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں سڑک ختم ہو گئی تھی وہاں 27ارب کی لاگت سے ایک سرنگ تعمیر کی جا رہی ہے جو ہنزہ کو چینی سرحد سے ملانے کا ذریعہ بنے گی۔ اسی طرح بلوچستان میں وسیع پیمانے پر سڑکیں بن رہی ہیں اور گوادر کو چین کی مدد سے جدید بندرگاہ بنایا جا رہا ہے جو ڈیوٹی فری ہو گی۔ اس کے علاوہ وہاں نیا ائیرپورٹ بھی تعمیر ہو رہا ہے روس کی مدد سے ایک گیس پائپ لائن بچھائی جا رہی ہے جس کے سیاسی اثرات بھی پڑیں گے۔ وزیراعظم نے بتایا کہ بنک کی شرح سود کم ہو کر چھ فیصد ہو گئی ہے اور حکومت کی ریٹنگ مستحکم ہو رہی ہے۔ ترقیاتی منصوبوں اور کسان پیکیج کے نتیجے میں ترقی کی راہیں کھیلیں گی اور بیروزگاری کا خاتمہ ہو گا۔وزیر اعظم نے بتایا کہ پاکستانی معاشرے کو فرقہ واریت اور انتہا پسندی سے نجات دلانے کے لئے بھی حکومت اہم اقدامات کر رہی ہے اور ہمارے نیشنل ایکشن پلان کا ایک اہم نکتہ یہی ہے کہ معاشرے میں ہمدردی بھائی چارے کو فروغ دیا جائے اور معاشرے کو تقسیم کرنے اور نفرتیں پھیلانے والے افراد کے خلاف قانون کو حرکت میں لایا جائے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت نے اسلامی اصولوں کے مطابق اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کا پختہ عزم کر رکھا ہے اور اس سلسلے میں قانون نافذ کرنے والے ادارے پوری طرح متحرک ہیں۔ حکومت نے سالانہ دس ارب روپے کی لاگت سے ملک میں نوجوانوں کی تعلیم اور تربیت کے لئے جامع منصوبہ شروع کیا ہے جس میں مستحق طلباء کیلئے وظائف کی فراہمی بھی شامل ہے۔ یوتھ سکیم کی رقم میں مزید اضافہ بھی کیا جائے گا۔ وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ انہوں نے ملک کو منفی سیاست سے نکال کر ایک نیا جمہوری کلچر دینے کی کوشش کی ہے ۔ ہم نے سیاسی جھگڑوں کی بھاری قیمت ادا کی ہے۔ اس وقت جب عوام کی نمائندہ پارلیمنٹ موجود ہے۔ عدلیہ آزاد ہے تمام ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام کر رہے ہوں اور میڈیا پوری طرح فعال ہو اور جب ملک کا پورا نظام آئین کے مطابق چل رہا ہو تو مسائل کو سڑکوں اور چوراہوں تک لے جانا ریاستی اداروں کو نشانہ بنانا اور مہذب احتجاج کو مار دھاڑ تک لے جانا مناسب نہیں ہے۔ پاکستان کی تعمیر اور ترقی کی ضرورت ہے اس لئے ہم اقتدار کی نہیں اقدار کی سیاست کر رہے ہیں۔ مفاہمت اور مشاورت کے نئے کلچر کے تحت تمام اہم قومی فیصلے ہم نے اتفاق رائے سے کئے۔ انہوں نے کہا حکومتیں بدلتی رہیں گی لیکن پاکستان قائم رہے گا۔ پاکستان کو دہشتگردی،جہالت،انتہا پسندی،بیروزگاری اور لوڈشیڈنگ کے اندھیروں سے نکال کر ترقی اور خوشحالی کی روشن منزلوں تک لے جانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے پاکستانی امریکنز کی پاکستان کے لئے محبت اور خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں ترغیب دی کہ اب وقت ہے کہ وہ آگے بڑھ کر پاکستان میں سرمایہ کاری کریں انہیں اس سلسلے میں ہر ممکن سہولت ملے گی۔ بین الاقوامی حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ہم باہمی احترام پر مبنی تعلقات چاہتے ہیں اور امریکہ کا یہ دورہ بھی اس مقصد کی بنیاد ہے۔ ہم خطے کے ممالک کے ساتھ خیر سگالی کے اچھے تعلقات چاہتے ہیں لیکن بدقسمتی سے بھارتی رویے نے ہماری اس خواہش کی حوصلہ شکنی کی ہے۔ ہماری کشیدگی کی بنیادی جڑ مسئلہ کشمیر ہے ۔ اقوام متحدہ نے اس کے حل کے لئے رائے شماری کی قرار دادیں منظور کر رکھی ہیں۔ اگر ہم سنجیدگی سے تعلقات میں بہتری لانا چاہتے ہیں تو یہ مسئلہ حل کرنا ضروری ہے۔ ہم افغانستان میں بھی پائیدار امن چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لئے ہر ممکن تعاون کر رہے ہیں۔

مزید : ملتان صفحہ اول