پاکستان میں بھارتی کارروائیوں کے ثبوت امریکہ کے حوالے ،سرتاج عزیز نے تین دستاویزات امریکہ کو دیں

پاکستان میں بھارتی کارروائیوں کے ثبوت امریکہ کے حوالے ،سرتاج عزیز نے تین ...
پاکستان میں بھارتی کارروائیوں کے ثبوت امریکہ کے حوالے ،سرتاج عزیز نے تین دستاویزات امریکہ کو دیں

  



واشنگٹن (اظہر زمان، بیوروچیف ) وزیراعظم نواز شریف نے امریکہ کو آگاہ کیا ہے کہ بھارتی انٹیلی جنس کا ادارہ ’’را‘‘ پاکستان کے مختلف حصوں میں خفیہ کارروائیوں کے ذریعے پاکستان کو غیرمستحکم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ ان کے امریکی دورے میں سفارتی رابطوں کے پہلے مرحلے میں آج صبح امریکی وزیرخارجہ جان کیری واشنگٹن کے سرکاری مہمان خانے ’’بلیرہاؤس‘‘ میں ان سے ملاقات کے لئے آئے تو انہوں نے فاٹا، بلوچستان اور کراچی میں اس طرح کی سرگرمیوں کی تفصیلات فراہم کیں۔ چالیس منٹ کی اس ملاقات میں امور خارجہ کے مشیر سرتاج عزیز، خصوصی معاون طارق ناظمی، وزیر داخلہ چودھر نثارخان ، وزیرخزانہ اسحاق ڈار اور پاکستانی سفیر جلیل عباس جیلانی بھی شریک ہوئے۔ امریکی وزیرخارجہ کی معاونت کے لئے پاکستان میں امریکی سفیر رچرڈ اولسن ، وائٹ ہاؤس میں نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ڈائریکٹر پیٹر لیوائے اور پاکستان اور افغانستان کے لئے قائم مقام خصوصی مندوب لارل ملر بھی ہمراہ آئے ۔ دونوں ملکوں کے رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات کا جائزہ لیا اور باہمی دلچسپی کے تمام امور پر قریبی رابطے کو جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیرخارجہ نے پاکستانی حکام کو بتایا کہ وہ پاکستان کی توانائی کی ضروریات سے پوری طرح آگاہ ہیں اس لئے اس شعبے سمیت دیگر اقتصادی معاملات میں پاکستان کو امریکی تعاون حاصل رہے گا۔

جان کیری نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے ضرب عضب آپریشن کی تعریف کی اور وزیراعظم کی ان کوششوں کو سراہاجو وہ خطے میں امن اور سیکیورٹی کو فروغ دینے کے لئے کررہے ہیں۔ وزیراعظم نے ملاقات میں خصوصی طورپر ان نکات کا ذکر کیا جو انہوں نے بھارت سے مصالحت کے لئے اپنی اقوام متحدہ کی تقریر میں پیش کئے تھے، جان کیری نے اس ملاقات میں افغانستان میں امن کے قیام کے لئے پاکستان کو اپنا کردار ادا کرنے کی درخواست کی اور وہاں کچھ امریکی فوج کے قیام میں توسیع کے سلسلے میں انہیں اعتماد میں لیا۔

وزیر خارجہ جان کیری کے بعد آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹن لاگارڈے اور امریکی وزیر خزانہ جیک لیو نے بھی وزیراعظم سے الگ الگ ملاقات کی۔ انہوں نے پاکستان کو ملنے والے قرضوں اور امریکی امداد کی تازہ صورت حال سے آگاہ کیا۔ ان ملاقاتوں سے فارغ ہونے کے بعد وزیراعظم اپنے وفد کے ہمراہ ایک ظہرانے میں شریک ہوئے جس کا اہتمام یوایس پاکستان بزنس کونسل اور یوایس چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے مشترکہ طورپر کیا، اس موقع پر جہاں ایک طرف پاکستان میں امریکی سرمایہ کاری کا جائزہ لیا گیا وہاں دوطرفہ تجارتی معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس ورکنگ لنچ میں شریک پاکستانی وفد نے خاص طورپر ممکنہ برآمدی اشیاء اور ان سے متعلق قوانین اور ضابطوں پر گفت وشنید کی۔ آن لائن کے مطابق پاک امریکہ بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے محمدنوازشریف نے کہاہے کہ پاکستان میں سیکورٹی کی صورتحال بہترہے ،دہشتگردی کے خلاف جنگ کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں ،پاکستان کی معاشی بحالی کااعتراف دنیابھرمیں کیاجارہاہے ،پاکستانی مصنوعات کی امریکی منڈیوں تک رسائی کے خواہاں ہیں، انہوں نے کہاکہ امریکی تاجر پاکستان کے قابل اعتماد شراکت دار ہیں ، پاکستان بیرونی سرمایہ کاروں کیلئے دلکش منڈی بن چکاہے ،اورسازگارماحول فراہم کررہاہے۔ بزنس فورم کے انعقادسے دوطرفہ تجارت کوفروغ ملے گا۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان گہرے تجارتی تعلقات ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ پاکستان میں امن وامان کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے ،پاکستان غیرملکی سرمایہ کاروں کیلئے منافع بخش مارکیٹ ہے ،عالمی مالیاتی ادارے نے ہماری پالیسیوں کوسراہاہے ۔پاکستان میں مہنگائی میں کمی آچکی ہے،مالیاتی خسارے میں کمی محصولات میں اضافہ ہواہے ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان تھری جی اورفورجی کی شفاف نیلامی کی گئی نجکاری کیلئے موثرپالیسی اختیارکی ہے ۔پاک چین اقتصادی راہداری سے خطے میں خوشحالی آئے گی ،کاسااورتابی جیسے منصوبے توانائی کی کمی کوپوراکرنے میں معاون ثابت ہوں گے،ہم علاقائی ممالک کے درمیان تجارت کوفروغ دیناچاہتے ہیں ،افغان ٹرانزٹ معاہدہ وسطی ایشیائی ریاستوں تک پہنچاناچاہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کے جی سی پی کی شرح 4.2فیصدتک پہنچ چکی ہے ،2017ء تک توانائی کی قلت پرقابوپاناہدف ہے۔

واشنگٹن(اظہر زمان، بیورو چیف) وزیر اعظم نواز شریف نے پاکستانی قوم کو یقین دلایا ہے کہ ان کی حکومت کی موجودہ آئینی مدت پوری ہونے تک ملک کو لوڈشیڈنگ سے مکمل نجات مل جائے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ 2017ء کے اختتام پر اس وقت ایل این جی کے ذریعے جاری تین منصوبوں سے 3600میگاواٹ بجلی سسٹم میں داخل ہو چکی ہوگی۔ انہوں نے یہ بات واشنگٹن کے پاکستانی سفارتخانے میں ملک بھر سے آئے ہوئے پاکستانی کمیونٹی کے ارکان کیلئے ترتیب دیئے گئے عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ جس کا اہتمام پاکستانی سفیر جلیل عباس جیلانی نے کیا تھا۔ نواز شریف نے 1999ء میں اپنی اس وقت کی حکومت کے دور میں پرامن اور خوشحال پاکستان کے حالات کی تفصیل بیان کی اور اس سے مئی 2013ء میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے وقت ملک میں دہشت گردی کی فضاء اور تباہ حال معیشت کی صورتحال کا تقابل کیا۔وزیر اعظم نواز شریف نے بتایا کہ اس وقت دہشتگردی کے خاتمے کے لئے ضرب عضب آپریشن جاری ہے، آپریشن سے دہشتگردوں کی پناہ گاہیں اور تربیت گاہیں ختم ہو چکی ہیں اور ان کا نیٹ ورک توڑ دیا گیا ہے۔ وہ وقت دور نہیں جب ملک سے دہشتگردی کا ناسور جڑ سے اکھیڑ کر پھینک دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس عظیم مشن میں پوری قوم فوج کی پشت پر کھڑی ہے۔ بلاشبہ اس مشن کی تکمیل کیلئے فوج، سکیورٹی ایجنسیوں اور پولیس نے جو قربانیاں دی ہیں ان سے ایک نئی تاریخ رقم ہو رہی ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ اگر غیر جانبداری سے دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ اڑھائی برس میں پاکستان کے تمام حصوں میں پہلے کی نسبت ایک واضح حقیقی تبدیلی آ چکی ہے۔ فاٹا ، بلوچستان اور کراچی اب پہلے جیسے نہیں رہے۔ فاٹا میں دہشتگردی کا خاتمہ ہو رہا ہے ،بلوچستان ایک طرح سے حالت جنگ میں تھا جہاں امن قائم ہو چکا ہے، کراچی بھتہ خوروں، ٹارگٹ کلرز اور جرائم پیشہ افراد کی لپیٹ میں آ چکا تھا ، جہاں حالات معمول پر آ رہے ہیں۔ نوازشریف نے واضح کیا کہ جب ہم نے اقتدار سنبھالا تو ہمیں سب سے زیادہ درپیش مسئلہ دہشتگردی کا تھا۔ ہم نے اس کے خاتمے کے لئے اقدامات کا آغاز کیا جسے بارہ سال تک نظر انداز کیا جاتا رہا، پچاس ہزار سے زائد پاکستانی اس کی نذر ہو گئے۔ ہم نے مذاکرات کے ذریعے اسے حل کرنے کی کوشش کی لیکن اس میں کامیابی نہ ہونے پر دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کرنا پڑا۔وزیر اعظم نے بتایا کہ دہشتگردی کے بعد ہماری دو سری بڑی ترجیح توانائی کے بحران پر قابو پانا تھا۔ نیپرا کے تین منصوبوں میں سے ہر ایک پر 93بلین روپے کا تخمینہ لگایا گیا تھا لیکن ہم نے اس پر نظرثانی کر کے لاگت کم کر کے 55بلین روپے کر دی۔ اس طرح مجموعی طور پر تین منصوبوں پر تقریباً 120ارب روپے کی بچت کی۔ ان منصوبوں پر کوئی کمیشن یا کک بیک نہیں وصول کیا گیا اور اس حاصل رقم کو مزید منصوبوں پر استعمال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے جس طرح سے یہ منصوبے شروع کئے ہیں اس کی وجہ سے آئندہ 30سال میں مزید560 ارب روپے بچیں گے۔ اس کے علاوہ پورٹ قاسم میں کوئلے کی مدد سے جو منصوبے شروع ہو چکے ہیں ان سے 1320میگاواٹ بجلی حاصل ہو گی۔ اسی طرح ساہیوال میں 1320میگاواٹ کا پلانٹ لگ رہا ہے۔ تھر میں جہاں کوئلے کی کانیں ہیں کوئلہ نکال کر وہاں بھی منصوبے شروع ہوں گے اور یہ کوئلہ دوسری جگہ کے منصوبوں میں بھی استعمال ہو گا۔ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹس کے ذریعے 960میگاواٹ بجلی حاصل ہو گی۔ علاوہ ازیں ونڈ انرجی اور سولر انرجی کے زیر تکمیل منصوبوں سے بھی بالترتیب 400اور300میگاواٹ بجلی ملنے کا امکان ہے۔ حبکو سے 660میگاواٹ اور گدو سے 700میگاواٹ بجلی ملے گی۔ یہ تمام منصوبے 2016ء اور 2018ء کی درمیانی مدت میں مکمل ہو جائیں گے۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ تباہ شدہ معیشت کی بحالی ان کی تیسری بڑی ترجیح تھی جس میں انہیں بہت کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ اس سلسلے میں مثالیں دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی جی ڈی پی چار اعشاریہ چار تک پہنچ رہی ہے اور ہمارا موجودہ سال کا ٹارگٹ پانچ کی سطح تک پہنچانا ہے جسے جلد حاصل کر لیا جائے گا بجٹ کا خسارہ 8.8فیصد سے کم ہو کر 5.3فیصد رہ گیا ہے اسی طرح مہنگائی بھی کم ہو کر1.6فیصد تک آ گئی ہے جو تاریخ کی کم ترین سطح ہے۔ پچھلے اڑھائی برس میں سٹاک مارکیٹ میں 72فیصد کا اضافہ ہوا۔ بیرونی اور اندرونی سرمایہ کاری میں بہت اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ چین کی سرمایہ کاری سے پاک چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ شروع ہو رہا ہے۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ چھوٹے چھوٹے منصوبوں کے علاوہ لاہور سے کراچی تک موٹر بنانے کے بڑے منصوبے کو جلد ہی شروع کر دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ حسن ابدال سے مانسہرہ تک موٹر وے بنانے کا منصوبہ بھی ہے جبکہ مانسہرہ سے چین کے بارڈر خنجراب تک سڑک بنانے کا منصوبہ پہلے ہی شروع ہو چکا ہے جو اقتصادی راہداری کے پراجیکٹ کا ایک حصہ ہے۔ عطا آباد میں لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں سڑک ختم ہو گئی تھی وہاں 27ارب کی لاگت سے ایک سرنگ تعمیر کی جا رہی ہے جو ہنزہ کو چینی سرحد سے ملانے کا ذریعہ بنے گی۔ اسی طرح بلوچستان میں وسیع پیمانے پر سڑکیں بن رہی ہیں اور گوادر کو چین کی مدد سے جدید بندرگاہ بنایا جا رہا ہے جو ڈیوٹی فری ہو گی۔ اس کے علاوہ وہاں نیا ائیرپورٹ بھی تعمیر ہو رہا ہے روس کی مدد سے ایک گیس پائپ لائن بچھائی جا رہی ہے جس کے سیاسی اثرات بھی پڑیں گے۔ وزیراعظم نے بتایا کہ بنک کی شرح سود کم ہو کر چھ فیصد ہو گئی ہے اور حکومت کی ریٹنگ مستحکم ہو رہی ہے۔ ترقیاتی منصوبوں اور کسان پیکیج کے نتیجے میں ترقی کی راہیں کھیلیں گی اور بیروزگاری کا خاتمہ ہو گا۔وزیر اعظم نے بتایا کہ پاکستانی معاشرے کو فرقہ واریت اور انتہا پسندی سے نجات دلانے کے لئے بھی حکومت اہم اقدامات کر رہی ہے اور ہمارے نیشنل ایکشن پلان کا ایک اہم نکتہ یہی ہے کہ معاشرے میں ہمدردی بھائی چارے کو فروغ دیا جائے اور معاشرے کو تقسیم کرنے اور نفرتیں پھیلانے والے افراد کے خلاف قانون کو حرکت میں لایا جائے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت نے اسلامی اصولوں کے مطابق اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کا پختہ عزم کر رکھا ہے اور اس سلسلے میں قانون نافذ کرنے والے ادارے پوری طرح متحرک ہیں۔ حکومت نے سالانہ دس ارب روپے کی لاگت سے ملک میں نوجوانوں کی تعلیم اور تربیت کے لئے جامع منصوبہ شروع کیا ہے جس میں مستحق طلباء کیلئے وظائف کی فراہمی بھی شامل ہے۔ یوتھ سکیم کی رقم میں مزید اضافہ بھی کیا جائے گا۔ وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ انہوں نے ملک کو منفی سیاست سے نکال کر ایک نیا جمہوری کلچر دینے کی کوشش کی ہے ۔ ہم نے سیاسی جھگڑوں کی بھاری قیمت ادا کی ہے۔ اس وقت جب عوام کی نمائندہ پارلیمنٹ موجود ہے۔ عدلیہ آزاد ہے تمام ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام کر رہے ہوں اور میڈیا پوری طرح فعال ہو اور جب ملک کا پورا نظام آئین کے مطابق چل رہا ہو تو مسائل کو سڑکوں اور چوراہوں تک لے جانا ریاستی اداروں کو نشانہ بنانا اور مہذب احتجاج کو مار دھاڑ تک لے جانا مناسب نہیں ہے۔ پاکستان کی تعمیر اور ترقی کی ضرورت ہے اس لئے ہم اقتدار کی نہیں اقدار کی سیاست کر رہے ہیں۔ مفاہمت اور مشاورت کے نئے کلچر کے تحت تمام اہم قومی فیصلے ہم نے اتفاق رائے سے کئے۔ انہوں نے کہا حکومتیں بدلتی رہیں گی لیکن پاکستان قائم رہے گا۔ پاکستان کو دہشتگردی،جہالت،انتہا پسندی،بیروزگاری اور لوڈشیڈنگ کے اندھیروں سے نکال کر ترقی اور خوشحالی کی روشن منزلوں تک لے جانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے پاکستانی امریکنز کی پاکستان کے لئے محبت اور خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں ترغیب دی کہ اب وقت ہے کہ وہ آگے بڑھ کر پاکستان میں سرمایہ کاری کریں انہیں اس سلسلے میں ہر ممکن سہولت ملے گی۔ بین الاقوامی حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ہم باہمی احترام پر مبنی تعلقات چاہتے ہیں اور امریکہ کا یہ دورہ بھی اس مقصد کی بنیاد ہے۔ ہم خطے کے ممالک کے ساتھ خیر سگالی کے اچھے تعلقات چاہتے ہیں لیکن بدقسمتی سے بھارتی رویے نے ہماری اس خواہش کی حوصلہ شکنی کی ہے۔ ہماری کشیدگی کی بنیادی جڑ مسئلہ کشمیر ہے ۔ اقوام متحدہ نے اس کے حل کے لئے رائے شماری کی قرار دادیں منظور کر رکھی ہیں۔ اگر ہم سنجیدگی سے تعلقات میں بہتری لانا چاہتے ہیں تو یہ مسئلہ حل کرنا ضروری ہے۔ ہم افغانستان میں بھی پائیدار امن چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لئے ہر ممکن تعاون کر رہے ہیں۔

مزید : قومی /Headlines


loading...