شام کے صدر کے روس میں پرتپاک استقبال پر امریکہ کی شدید مذمت

شام کے صدر کے روس میں پرتپاک استقبال پر امریکہ کی شدید مذمت
شام کے صدر کے روس میں پرتپاک استقبال پر امریکہ کی شدید مذمت

  



واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک )امریکہ نے شام کے صدر بشارالاسد کا ماسکو کے دورے پرپرتپاک استقبال کرنے پر شدید مذمت کی ہے۔وائٹ ہائوس کےایک تر جمان نے روس کو شام کے صدر بشارالاسد کا ’والہانہ استقبال‘ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔شامی صدرنے ہنگامی دورہ روس کے شام میںشدت پسند تنظیموں کے خلاف فضائی حملے شروع کرنے کے تین ہفتے بعد کیا گیا ہے۔وائٹ ہاوس کے ترجمان ایرک شلٹز نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’ہم نے بشارالاسدکاپرتپاک استقبال دیکھا وہ بشارالاسد جو اپنے ہی لوگوں کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کررہا ہے۔ جس کے درپردہ روسیوں کے مقاصد شام میں سیاسی تبدیلی لانا ہیں۔‘بی بی سی کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار کے مطابق شامی صدر کا دورہ حیران کن نہیں تھا بلکہ امریکہ کو روس کی جانب سے شام میں مسلسل جاری فوجی حمایت پر تشویش ہے۔ان کے مطابق اس حمایت کے باعث بشارالاسد کی حکومت کے حوصلے مزید بلند ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے خانہ جنگی میں مزید اضافہ ہوگا۔شام کے صدر بشارالاسد کے ماسکو کے غیر اعلانیہ دورے کے بعد صدر پوتن نے صدر اسد کے مخالف سعودی عرب اور ترکی کے سربراہان سے ٹیلی فون پر رابطے کیے۔انہوںنے ٹیلی فون پر ترکی کے صدر سے بات چیت میں صدر بشارالاسد کے دورے اور شام کی صورتحال کے بارے میں آگاہ کیا۔اس کے علاوہ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لورووف نے اپنے امریکی ہم منصب جان کیری سے بات کی۔

مزید : آزاد کشمیر