چوہے چھوڑنے سے منع کرنے پربھارت میں ایک اور مسلمان شہید

چوہے چھوڑنے سے منع کرنے پربھارت میں ایک اور مسلمان شہید
چوہے چھوڑنے سے منع کرنے پربھارت میں ایک اور مسلمان شہید

  



نئی دہلی(ویب ڈیسک) دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں مسلم ، عیسائی ، سکھ اور نچلی ذات کے ہندوﺅں کے لیے زمین تنگ ہو گئی ۔ نئی دہلی میں انتہا پسند ہندوﺅں نے مسلمانو ں کو تنگ کرنے کے لیے ایک مسلم گھرانے کے باہر چوہے چھوڑے دئیے۔ منع کرنے پر آپے سے باہر ہو گئے اور ہتھیاروں سے لیس انتہا پسندوں نے محمد علی اور رضوان پر فائرنگ کر دی جس سے رضوان موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا جبکہ محمد علی چاقو کے وار سے شدید زخمی ہو گیا۔ محمد علی کو ہسپتال لے جایا گیا جہاں انتہا پسندو ہندوﺅں کے حملے سے خوفزدہ ڈاکٹروں نے علاج کرنے سے انکار کر دیا۔

ہندو انتہا پسند تنظیم راشٹریہ شوم سیوک سنگ (آر ایس ایس) نے گائے ذبح کرنے والوں کو قتل کو جائز قرار دیا ہے۔ آرایس ایس کے جریدے ”آرگنائزر“ نے لکھا ہے کہ ہندوﺅں کی مذہبی کتاب میں لکھا ہے کہ گائے ذبح کرنے والے کو قتل کرنا گناہ نہیں ہے، دادری کا واقعہ دفاعی عمل تھا۔ اپنے یوارڈ واپس کرنیوالے سیکولر ذہبی بیمار ہیں، وہ اپنی سیکولر سیاست کیلئے گائے کو استعمال کر رہے ہیں، آزاد بھارت میں دادری واقعہ کوئی بے مثال نہیں۔ مضمون میں موقف اپنایا گیا کہ محمد اخلاق کے قتل پر میڈیا اور سیکولر قوتوںنے قانون نافذ کرنیوالے اداروں سے کاروائی کا مطالبہ کیا جو دراصل ہندو عقائد پر حملہ اور سستی شہرت کا حصول تھا۔ دوسری جانب ممبئی میں انتہا پسند شیو سینا کے سینکوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ڈھونگی قرار دے کر مودی اوربی جے پی کے کئی لیڈروں کے خلاف پسٹر لگا دیئے جن میں بھارتی وزیراعظم مودی اور دیگر بی جے پی رہنماﺅں کو شیو سینا کے سابق سربراہ بال ٹھاکر ے کے آگے جھکا ہوا دیکھا جا سکتا ہے ۔

شیو سینا نے مودی سرکار کو آئینہ دکھا کر انہیں ماضی یاد دلا یا کہ شیو سینا کی حرکتوں پر انگلی اٹھانے یا ان کے خلاف کاروائی کرنے سے پہلے اپنے گریباں میں ضرور جھانک لیں۔ ادھر کا نگریس رہنما راہول گاندھی نے نچلی ذات کے بچوں کو زندہ جلائے جانے کے واقعہ پر بی جے پی کو شدید تنقید کانشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ فرید آباد واقعہ انسانیت کی تذلیل ہے۔ بھارت میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں، لوگ دائین، بائیں اور مرکز میں ایسے مررہے ہیں جو کہ انسانیت کی تذلیل ہے۔

مزید : بین الاقوامی