وہ بھارتی مردہ جو 19 سال تک اپنے آپ کو زندہ کرنے کی کوشش کرتا رہا

وہ بھارتی مردہ جو 19 سال تک اپنے آپ کو زندہ کرنے کی کوشش کرتا رہا
وہ بھارتی مردہ جو 19 سال تک اپنے آپ کو زندہ کرنے کی کوشش کرتا رہا

  



نئی دلی (نیوز ڈیسک) موت آنے پر مرنا تو ہر انسان کی مجبوری ہے لیکن اگر کسی زندہ انسان کو مردہ قرار دے دیا جائے تو اس سے بڑا ظلم کیا ہو سکتا ہے۔ بھارتی شہری لال بہاری کو ریاست اترپردیش کے حکومتی اہلکاروں نے اس کی زندگی میں ہی مردہ قرار دے دیا اور بیچارہ ہماری بہاری مسلسل 19 سال تک خود کو زندہ قرار دلوانے کیلئے جنگ کرتا رہا۔ یہ 1975ءکی بات ہے کہ بہاری کو بینک سے قرض لینے کیلئے محکمہ ریونیو سے کچھ کاغذات لینے پڑے۔ جب اس نے محکمے سے رابطہ کیا تو اسے بتایا گیا کہ وہ تو مر چکا ہے۔ اپنی موت کی خبر سننے پر بہاری ششدر رہ گیا اور افسران سے گزارش کی کہ وہ تو زندہ سلامت ہے لیکن وہ جس دفتر میں بھی گیا اسے یہی بتایا گیا کہ وہ مر چکا ہے لہٰذا اسے کوئی سرکاری کاغذ جاری نہیں کیا جائے گا۔

بھارتی حکومت ایسی منسٹری بنانے کی تیاری میں جس کا آج تک کسی ملک کو خیال بھی نہیں آیا

دراصل بہاری کے ایک چچا نے اس کی تقریباً ایک ایکڑ زمین ہتھیانے کیلئے سرکاری اہلکاروں کو رشوت دے کر اسے سرکاری کاغذات میں مردہ قرار دلوایا تھا۔ بہاری کو جب سرکار نے زندہ ماننے سے انکار کر دیا تو بیچارے نے اپنا نام ”لال بہاری مریتک“ رکھ لیا یعنی ”لال بہاری مردہ“۔ اس نے خود کو زندہ ثابت کرنے کیلئے سابق بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی کے خلاف الیکشن بھی لڑا۔ اسے معلوم ہوا کہ ریاست اترپردیش میں تقریباً 100 اور لوگ بھی ایسے تھے جنہیں ساز باز کر کے مردہ قرار دے دیا گیا تھا۔ ان لوگوں کی مدد کیلئے اس نے ”مریتک سنگھ“ نامی ادارہ قائم کیا کیونکہ انہیں اس بات کا خطرہ تھا کہ مردہ قرار دلوانے والے لوگ کہیں انہیں واقعی ماہ نہ دیں۔ بہاری کی خود کو زندہ قرار دلوانے کی قانونی جنگ 19 سال کے بعد کامیابی سے ہمکنار ہوئی اور بالآخر 1994ءمیں انہیں سرکار کے کاغذوں میں دوبارہ زندہ شمار کیا گیا۔ ”مریتک سنگھ“ کے اس وقت 20 سے زائد ممبر ہیں اور ان میں سے صرف 4 کو اب تک زندہ کروایا جا سکا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...