تبدیلی لیپ ٹاپس سے نہیں ،سوچ سے آتی ہے :جسٹس منصور علی شاہ

تبدیلی لیپ ٹاپس سے نہیں ،سوچ سے آتی ہے :جسٹس منصور علی شاہ
تبدیلی لیپ ٹاپس سے نہیں ،سوچ سے آتی ہے :جسٹس منصور علی شاہ

  



لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے کہا ہے کہ ادارے نمود و نمائش اور انفراسٹرکچر سے نہیں، سوچ سے پہچانے جاتے ہیں، اداروں میں تبدیلی کمپیوٹرز، لیپ ٹاپس اور خوبصورت پتھر لگادینے سے نہیں آتی، حقیقی تبدیلی افراد کی سوچ سے آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت عالیہ ایک سنجیدہ ادارہ ہے، جہاں لوگ اپنے مختلف مسائل کے حل کے لئے آتے ہیں، سارا دن دکھی انسانیت کے مسائل سننے والے ملازمین کو اپنی زندگیوں میں بیلنس لانے کی ضرورت ہے۔وہ عدالتی افسران و ملازمین کے لئے پانچ ہفتوں پر مشتمل کپیسٹی بلڈنگ ٹریننگ پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر جسٹس عائشہ اے ملک اور ڈائریکٹرجنرل پنجاب جوڈیشل اکیڈمی جسٹس(ر) چودھری شاہد سعید بھی موجود تھے۔ جسٹس سید منصور علی شاہ نے کہاکہ پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں عدالت عالیہ کے افسران اور ملازمین کے لئے کروائے جانے واے تربیتی کورسز نہ صر ف ان کی استعداد کار میں اضافہ کا باعث بنیں گے بلکہ ملازمین کو اپنی ذاتی زندگی کو بھی منظم کرنے میں مدد ملے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ تربیتی پروگرامز کے پیچھے ایک سوچ اور مقصد ہے اور تمام سٹاف کو اس مقصدکو سمجھنا ہوگا اور اپنی سوچ کو مثبت بنانا ہوگا۔جسٹس سید منصور علی شاہ نے تربیتی کورس کے شرکاءسے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ حقیقی ہائی کورٹ آپ لوگ ہیں، آپ ادارے کے روح رواں ہیں، انہوں نے کہا کہ اگر ادارہ اچھا چلے گا تو سٹاف کا امیج بھی بلند ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تربیتی پروگرامز کی آﺅٹ لائنز بڑی منفرد نوعیت کی ہیں، جنہیں بڑی محنت سے ڈیزائن کیا گیا ہے اور اس کا سارا کریڈٹ جسٹس عائشہ اے ملک کو جاتا ہے جنہوں نے دور حاضر کے تقاضوں کے عین مطابق اس سارے کورس کو بنایا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ عدالت عالیہ کے سٹاف کےلئے بہت بڑا موقع ہے کہ وہ تربیتی پروگرامز میں بڑھ چڑھ کا حصہ لیں اور نئی نئی چیزیں سیکھیں ۔

مزید : لاہور


loading...