خود لذتی کے بارے میں ترک سکالر کا ایسا فتویٰ کہ ہنگامہ کھڑا ہوگیا

خود لذتی کے بارے میں ترک سکالر کا ایسا فتویٰ کہ ہنگامہ کھڑا ہوگیا
خود لذتی کے بارے میں ترک سکالر کا ایسا فتویٰ کہ ہنگامہ کھڑا ہوگیا

  



انقرہ (نیوز ڈیسک) زندگی کے ہر پہلو کے متعلق اسلام نے جامع ہدایات دی ہیں لیکن کچھ مذہبی علماءجب ان ہدایات کی تشریح اپنے مخصوص نظریات کی روشنی میں کرتے ہیں تو اکثر انتہائی متنازع صورتحال پیدا ہوجاتی ہے۔ جنسی معاملات کے متعلق اپنی رائے دیتے ہوئے ترک مذہبی عالم رجب سگدم نے بھی کچھ ایسے بیانات دے دئیے ہیں کہ جن کے بعد ایک دفع پھر ترک معاشرے میں ہلچل برپا ہوگئی ہے۔

مزید پڑھیں:”ماﺅں کو سب معلوم ہوتا ہے“ بچپن میں والدہ کی وہ 5 نصیحتیں جو آپ کے کاروبار کو چار چاند لگا سکتی ہیں

ہاران یونیورسٹی کے معلم رجب سگدم نے چند روز قبل ایک کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شریعت میں کہیں بھی خود لذتی کو ممنوع قرار نہیں دیا گیا، بلکہ موجودہ دور میں بڑھتی ہوئی جنسی بے راہ روی اور جنسی محرومی جیسے خطرات کے پیش نظر خود لذتی بہت ضروری ہو چکی ہے۔

نیوز سائٹ al-monitor.com کے مطابق ترک عالم دین نے دیگر کئی متنازع موضوعات پر بھی اپنی رائے کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میاں بیوی کے درمیان ازدواجی تعلق کا مقصد اولاد کا حصول ہے، اور ازدواجی فعل کا کوئی بھی ایسا طریقہ جو اس مقصد کو پورا نہ کرتا ہو، بلکہ محض حصول لذت کے لئے سرانجام دیا جائے، وہ جائز نہیں ہے۔ اسی طرح انہوں نے محض ظاہری خوبصورتی کی ضروریات کے تحت جنسی پلاسٹک سرجری کو بھی ممنوع قرار دیا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ازدواجی تعلقات میں ایذا رسانی یا ایذا پسندی بھی ہرگز مناسب طرز عمل نہیں ہے۔

ترک عالم دین کے اس اظہار خیال کے بعد ایک دفعہ پھر ترکی میں شدید بحث مباحثے کا آغاز ہوگیا ہے۔ اگرچہ بہت سے لوگ ان کے اکثر خیالات سے اتفاق کررہے ہیں لیکن خود لذتی کے موضوع پر ان کے بیان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...