آسمان سے گرے کھجور میں اٹکے۔۔۔ داعش کے قبضے سے چھڑائے گئے موصل کے علاقے میں عراقی فوجیوں نے عام شہریوں کے ساتھ کیا کام کرنا شروع کردیا؟ جواب اتنا خوفناک کہ آپ کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں گے

آسمان سے گرے کھجور میں اٹکے۔۔۔ داعش کے قبضے سے چھڑائے گئے موصل کے علاقے میں ...
آسمان سے گرے کھجور میں اٹکے۔۔۔ داعش کے قبضے سے چھڑائے گئے موصل کے علاقے میں عراقی فوجیوں نے عام شہریوں کے ساتھ کیا کام کرنا شروع کردیا؟ جواب اتنا خوفناک کہ آپ کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں گے

  

بغداد (مانیٹرنگ ڈیسک) شدت پسند تنظیم داعش عراق میں اپنے سب سے مضبوط گڑھ موصل میں بھی شکست سے دوچار ہو رہی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس کے ظلم کی چکی میں پسنے والے مظلوم عوام کی جان چھوٹ گئی ہے کیونکہ داعش کے بعد اب انہیں مغربی ممالک کے حمایت یافتہ عراقی افواج اور ملیشیا کی خوفناک بربریت کا سامنا ہے۔

میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق موصل میں داخل ہونے والی عراقی افواج اور ملیشیا کے جنگجو عام شہریوں پر اس طرح کے ظلم کرتے دکھائی دئیے گئے ہیں کہ جن کے سامنے داعش کے مظالم بھی معمولی نظر آتے ہیں۔ انٹرنیٹ پر اس ظلم و ستم کی متعدد ویڈیوز سامنے آچکی ہیں جن میں دیکھا جاسکتا ہے کہ موصل کے شہریوں سے تفتیش کے نام پر ان کے ساتھ لرزہ خیز سلوک کیا جارہا ہے، اور اس بھیانک تفتیش کا نشانہ بننے والوں میں انتہائی کم عمر بچے بھی شامل ہیں۔

ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک نوعمر لڑکے سے سوالات کئے جارہے ہیں کہ وہ داعش کا حصہ رہا ہے یا نہیں، یا اس کے عزیز و اقارب داعش کے وفادار تھے یا نہیں۔ اس تفتیش کے دوران ایک شخص لڑکے کے گھٹنوں پر ہتھوڑے کے وار کرتا ہے جس پر وہ درد سے چیخ اٹھتا ہے۔ اس پر بھی ظالموں کو صبر نہیں آتا تو اس کے سر پر ایک پتھر گرادیتے ہیں۔ اسی طرح ایک اور ویڈیو میں ایک ٹرک کے اندر موجود نوعمر لڑکے پر کئے جانے والے مظالم کو دیکھا جاسکتا ہے۔ اسے ہاتھ باندھ کر بٹھایاگیا ہے اور اس سے بھی داعش کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے سوالات کئے جارہے ہیں۔ اس لڑکے کے سر پر بھاری ہتھیار سے ضربیں لگائی جاتی ہیں جس کے نتیجے میں وہ خون میں نہاجاتا ہے۔ اسی طرح کے مظالم پر مبنی دیگر ویڈیوز بھی سامنے آچکی ہیں، جن پر انسانی حقوق کے ادارے سراپا احتجاج ہیں۔

بڑے اسلامی ملک میں سکول کی 10 بچیوں کو8-8کوڑے مارنے کی سزا، اُن کا کیا کیا قصور تھا؟ جان کر اس ظلم پر آپ کا دل بھی خون کے آنسو روئے گا

انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ داعش کے خالی کردہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے عام شہریوں کو اب عراقی افواج اور ملیشیا کے اسی سلوک کا سامنا ہے جو پہلے داعش ان کے ساتھ کررہی تھی۔ ایمنسٹی کی جانب سے عراقی حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ داعش کے خلاف جاری بھرپور آپریشن کے دوران اس بات کو ہرگز نظر انداز نہ کیا جائے کہ اس کی حمایت کے الزام میں عام لوگوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک نہ کیا جائے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -