آثار قدیمہ کے ماہرین کو ملنے والی یہ ڈھائی لاکھ سال پرانی چیز دراصل کیا ہے اور کہاں سے آئی؟ جواب ایسا کہ کوئی انسان سوچ بھی نہیں سکتا

آثار قدیمہ کے ماہرین کو ملنے والی یہ ڈھائی لاکھ سال پرانی چیز دراصل کیا ہے ...
آثار قدیمہ کے ماہرین کو ملنے والی یہ ڈھائی لاکھ سال پرانی چیز دراصل کیا ہے اور کہاں سے آئی؟ جواب ایسا کہ کوئی انسان سوچ بھی نہیں سکتا

  

بخارسٹ (نیوز ڈیسک) ایلومینیم کہلانے والی دھات آج درجنوں قسم کی اشیاءتیار کرنے کے لئے استعمال ہوتی ہے اور خصوصاً طیارہ سازی کی صنعت میں اس کا استعمال بہت زیادہ ہے۔ ایلومینیم کو دھاتی شکل میں تیار کرنے کی تکنیک تقریباً دو صدیاں قبل یورپ میں متعارف کروائی گئی جبکہ اس سے قبل اس دھات سے آلات تیار کرنے کی تکنیک بھی موجود نہیں تھی۔ مگر یورپی ملک رومانیہ میں ایلومینیم کا ایک ایسا ٹکڑا منظر عام پر آ گیا ہے جو بظاہر دیکھنے میں کسی پیچیدہ مشین کا حصہ نظر آتا ہے اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ ٹکڑا کچھ دہائیاں یا کچھ صدیاں پرانا نہیں بلکہ تقریباً اڑھائی لاکھ سال پرانا ہے۔

شام کے یہ خوبصورت ترین تاریخی مقامات جنگ کے بعد اب کس حالت میں ہیں؟ دیکھ کر آپ کا دل خون کے آنسو روئے گا

اخبار دی مرر کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر کے سائنسدانوں کو حیرت میں مبتلا کرنے والی یہ چیز 1973ءمیں رومانیہ کے دریائے میوریز کے کنارے کان کنی کرنے والے محنت کشوں کو ملی۔ یہ ٹکڑا اور اس کے ساتھ دو ہڈیاں زمین میں 33 فٹ کی گہرائی پر دریافت ہوئے تھے۔ ایلومینیم کے ٹکرے کی ساخت اور ہیت سے واضح ہے کہ یہ قدرتی حالت میں ملنے والا ایلومینیم نہیں بلکہ اسے ایک مخصوص ڈیزائن کے مطابق تیار کیا گیا ہے۔

رومانیہ کے حکام کا کہنا ہے کہ 1973ءمیں دریافت ہونے والے ایلومینیم کے اس ٹکڑے کا معاملہ اب تک پوشیدہ رکھا گیا تھا لیکن حال ہی میںا سے منظر عام پر لایا گیا ہے۔ اس دریافت کے سامنے آتے ہی سائنسدانوں کے سامنے یہ سوال کھڑاہوگیا ہے کہ اگر جدید دور کے انسان نے محض دو صدیاں قبل دھاتی ایلومینیم تیار کی اور اس سے آلات بنانے سیکھے تو اڑھائی لاکھ سال قبل کرہ ارض پر ایلومینیم کے آلات کون تیار کررہا تھا۔

اس سوال کے جواب میں کئی نظریات اب تک سامنے آچکے ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ غالباً ایلومینیم کا یہ ٹکرا کسی خلائی جہاز کا حصہ رہا ہوگا جس پر بیٹھ کر کبھی کوئی خلائی مخلوق زمین پر آئی ہوگی۔ کچھ سائنسدانوں کا یہ خیال بھی ہے کہ غالباً یہ دوسری جنگ عظیم میں استعمال ہونے والے کسی جرمن ہوائی جہاز کا کوئی پرزہ ہے، لیکن یہ سائنسدان اس سوال کا جواب نہیں دے پائے کہ یہ ٹکڑا اڑھائی لاکھ سال پرانا کیونکر ہے۔

رومانیہ کی حکومت نے 20 سینٹی لمبے اور 12.5 سینٹی میٹر چوڑے اور 7 سینٹی میٹر موٹے اس دھاتی عجوبے کو اب نمائش کے لئے اپنے قومی عجائب گھر میں رکھ دیا ہے، جہاں اس کے تعارف میں بتایا گیا ہے کہ اس کی اصل حقیقت کے بارے میں تاحال کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -