ڈگڈگی والوں کا کیا مطالبہ ہے۔ کسی کو نہیں معلوم ؟

ڈگڈگی والوں کا کیا مطالبہ ہے۔ کسی کو نہیں معلوم ؟
ڈگڈگی والوں کا کیا مطالبہ ہے۔ کسی کو نہیں معلوم ؟

  

سیاسی ماحول گرم ہو رہا ہے۔

نئی نئی سیاسی تھیوریاں جنم لے رہی ہیں۔

نئے نئے سکرپٹ سامنے آرہے ہیں۔

قیاس آرائیاں جنم لے رہی ہیں۔

تحفظات کی بھر مار دکھائی دے رہی ہے۔

ایک طرف جوش و خروش دیدنی ہے۔

دوسری طرف حوصلہ جوان ہیں ۔

ایک طرف مرنے مارنے کی تیاریاں عروج پر ہیں۔

دوسری طرف مر کر بھی امر ہو جانے کی خواہشیں دکھائی دے رہی ہیں۔

ظالم مظلوم بننے کی تیاری میں ہے۔ مظلوم ظالم بننے کو تڑپ رہا ہے۔

قاتل اور مقتول ایک ہی صف میں کھڑے ہیں۔

سیاسی دانشوروں نے پیشن گوئیوں کا بازار گرم کر دیا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے ہر کسی کو پتہ ہے کہ کیا ہونے والا ہے۔

ایک دوست نے پاکستان کی موجودہ سیاست کے حوالہ سے کہا ہے کہ یہ سیاست اتنی ظالم ہے کہ اس نے شیر کو کتا اور کتے کو شیر بنا دیا ہے۔

کوئی کہتا ہے احتساب اوپر سے شروع کیا جائے ۔ اور کوئی کہتا ہے کہ احتساب نیچے سے شروع کیا جائے۔ اوپر نیچے کے چکر میں احتساب کا بوریا بستر گول ہی نظر آرہا ہے۔

جو آج ایک منتخب وزیر اعظم کو یہ دلیل دیکر گھر بھیج رہے ہیں کہ ایک دفعہ ایک وزیر اعظم کا احتساب ہو گیا تو کل کسی کو کوئی غلط کام کرنے کا حوصلہ نہیں ہو گا۔ وہ یہ بھول گئے ہیں کہ جب ذوالفقار بھٹو کو قتل کے الزام میں پھانسی لگا یا گیا تھا تب بھی یہی دلیل دی جاتی تھی کہ اگر آج ایک وزیر اعظم قتل کے الزام میں پھانسی لگ گیا تو کل کو کوئی کسی کو قتل کروانے کی ہمت نہیں کرے گا۔ لیکن وقت نے ثابت کیا کہ اس کے بعد ملک میں قتل و غارت بڑھی ہے۔

وزیر اعظم کہہ رہے ہیں کہ ڈگڈگی والے ڈگڈگی بجا رہے ہیں۔ قوم سمجھی وہ عمران خان کی بات کر رہے ہیں لیکن پیپلزپارٹی تو سب سے بہتر سمجھتی ہے کہ کون ڈگڈگی بجا رہا ہے۔ اسی لئے انہوں نے واضح کر دیا کہ وزیر اعظم کا اشارہ عمران خان کی طرف نہیں تھا۔تب مجھے بات سمجھ آئی کہ ڈگڈگی تو ڈگڈگی بجا نے والے ہی بجا رہے ہیں۔ بس عمران خان اس ڈگڈگی کے سر تال کے ساتھ قدم کے ساتھ قدم ملا کر چل رہے ہیں ۔ عوام ڈگڈگی کی سر تال اور قدموں میں ملاپ دیکھ کر پریشان ہو رہے ہیں۔ حالانکہ یہ کوئی پریشانی کی بات نہیں۔ مسلسل ریاضت کا کمال ہے۔

سوال یہ بھی ہے کہ ڈگڈگی بجانے والے چاہتے کیا ہیں۔ کسی کے پاس اس کا جواب نہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ بھارت پر پالیسی پر اختلاف ہے۔ لیکن جب میں کہتا ہوں کہ وزیر اعظم کی اقوام متحدہ کی تقریر کی تو ڈگڈگی والوں نے بھی تعریف کی تھی۔ بھارت کے ساتھ تعلقات کے الزام میں کس کس کو نکالو گے۔ یہاں تو حمام میں سب ہی ننگے ہیں۔

ایک غیر سیاسی غیر عسکری بلکہ نیم عسکری ذمہ دار شخصیت سے پوچھا کہ ان کے عسکری اور سیاسی دونوں سے تعلقات ہوتے ہیں ۔ ان کے پاس دونوں طرف کی خبر ہو تی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وزیر اعظم اور جنرل صاحب میں سے ایک کو جانا ہو گا۔دونوں اکٹھے نہیں رہ سکتے۔ حالات بہت خراب ہو گئے ہیں۔ میں نے کہا یہ کیا خبر ہوئی سب کو پتہ ہے جنرل صاحب کی ریٹائرمنٹ قریب ہے۔ وہ چلے جائیں گے۔ وزیر اعظم نے تو ابھی رہنا ہے۔ ان کی مدت باقی ہے۔ خبر تو یہ ہوتی کہ آپ کہتے دونوں جا رہے ہیں۔ وہ مسکرائے اور کہنے لگے نہیں ایک جائے گا ایک رہے گا۔ اب یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ کون رہے گا کون جائے گا۔ میں نے کہا مطلب اگر وزیر اعظم کی چھٹی ہو جائے تو جنرل صاحب رک جائیں گے۔ وہ بھی مسکرائے۔

میں نے کہا کہ میاں صاحب کے بچنے کی کوئی راہ۔ کہنے لگے ایک نہیں ہزار راہیں۔ وہ جب چاہیں گے بچ جائیں گے۔ یہ چائے کی پیالی کا طوفان ہے۔ میں نے کہا کیا کرنا ہو گا۔ وہ کہنے لگے بس معافی مانگ کر ڈگڈگی والوں کے آگے سرنگوں کرنا ہو گا۔ میں نے کہا وہ تو کیا ہو ا ہے۔ پوری قوم دیکھ رہی ہے۔ دھرنے کے بعد سے سر تو اٹھا ہی نہیں۔ ورنہ جس میاں صاحب کو میں جانتا ہوں۔ وہ اتنے صبر والے نہیں ۔ لیکن انہوں نے کہا کہ گردن میں ابھی خم ہے وہ نکالنا ضروری ہے۔

خیر جتنے منہ اتنی باتیں۔ مزے کی بات تو یہ ہے کہ خود حکومتی ذمہ دار کو بھی نہیں معلوم کیا ہونے والا ہے۔ یہ بے وقت کی راگنی اور ڈگڈگی کیوں شروع ہو گئی ہے۔ عمران خان کو بھی نہیں معلوم کیا ہو گا۔ وہ شہر شہر مارے مارے پھر رہے ہیں۔ لیکن وہ نہیں بتا سکتے کہ کتنے دن بیٹھنا ہے۔ کیا ہو گا۔ کوئی گیم پلان نہیں۔

لگتا ہے اس بار جنہوں نے سکرپٹ لکھا ہے انہوں نے ابھی تک سب کو اندھیرے میں رکھا ہوا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ سب اندھیرے میں رہیں۔ اور کسی کو اجالا نہ نظر آئے ۔ کیونکہ اگر وہی ہوگا جس کا ڈر ہے تو پھر اندھیری رات ہے۔ دوست کہتا ہے کہ اس سے پاک چین اقتصادی راہداری بن جائے گی ۔ میں کہتا ہوں کہ اندھیری رات اس راہداری کو کالاباغ ڈیم بنا دے گی۔ اس لئے دعا ہے کہ اللہ میاں رحم فرمائے۔ کیونکہ ماحول بدل رہا ہے۔ مزاج بدل رہے ہیں۔

اگر منزل مائنس ون ہے توعدالتوں نے کام شروع کر دیا ہے۔ اس کام کو بھی سکون سے ہونے دینے میں ہی بہتری ہے۔ لیکن کیوں ساتھ بے سکونی بھی ضروری ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی۔ کیونکہ شاید منزل صرف مائنس ون نہیں۔ اسی لئے تو شہر شہر مارے مارے پھر رہے ہیں کہ منزل بہت مشکل ہے۔

مزید :

کالم -