بھارتی موقف کی ناکامی؟

بھارتی موقف کی ناکامی؟
بھارتی موقف کی ناکامی؟

  

بھارتی ریاست ’’گوا ‘‘میں حال ہی میں ہونے والا’’بر کس‘‘ اجلاس اس حوالے سے منفرد رہاکہ خالص تجارتی مقاصد کے تحت بنائی گئی اس تنظیم کو میزبان ملک بھارت کی جانب سے سراسر سیاسی اور اسٹرٹیجک معاملات کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کی گئی۔ خود بھارتی میڈیا کے مطابق وزیر اعظم مودی کی یہ کوشش سراسر نا کام رہی۔ ستمبر2006ء میں اقوام متحدہ کے ایک اجلاس کے دوران روس، بھارت، چین اور برازیل کے وزرائے خارجہ نے ایک ملاقات میں ان چاروں ممالک پر مشتمل(جنوبی افر یقہ2010ئمیں اس تنظیم میں شامل ہوا ) ایک تنظیم بنانے کا فیصلہ کیا تو اس کا مقصد یہی تھا کہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے مقابلے میں کوئی ایسا متبا دل مالیاتی نظام یا بینک بنایا جائے، جس کا مقصد آئی ایم ایف اور عالمی بینک کی طرح صرف ترقی یافتہ ممالک کے مفادات کا خیال رکھنا نہ ہو، بلکہ ابھرتی ہوئی معیشتوں اور ترقی پذیر ممالک کے مفا دات کو ترجیح دی جاسکے۔ اسی معاشی سوچ کے تحت اس تنظیم برکس کا پہلا باضابطہ اجلاس جون 2009ئمیں روس میں ہوا۔برکس میں شامل ممالک معاشی اعتبار سے بہت زیادہ اہمیت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔

برکس میں شامل ممالک کی کل آبادی3.6بلین ہے، یعنی دنیا کی لگ بھگ آدھی آبادی برکس میں شامل پانچ ملکوں میں رہ رہی ہے۔ برکس میں شامل چار ممالک آبادی کے اعتبار سے دنیا کے پہلے10ممالک میں شامل ہیں۔ ان پانچ ممالک کا مشترکہ جی ڈی پی 16.6ٹریلین (کھرب) ڈالرز کے لگ بھگ ہے،جبکہ ان پانچ ملکوں کے پاس مشترکہ طور پر 4 ٹریلین(کھرب)ڈالرز سے زائد کا زرمبادلہ موجود ہے۔ان معاشی اعداد و شمار سے ان ممالک کی بڑھتی ہوئی معاشی حیثیت کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے،جبکہ اس تنظیم میں شامل ملک بھارت کا اگر دیگر ممالک سے تقابلی جائزہ کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ اس وقت روس اور برازیل کے معا شی حالات کو ایک حد تک کساد بازاری کا سامنا ہے۔ روس کو اس وقت امریکی اور یورپی پابندیوں کا سامنا ہے، جبکہ تیل اور گیس کی کم قیمتوں سے بھی روسی معیشت کو اس وقت مشکلات برداشت کرنا پڑ رہی ہیں۔جنوبی افریقہ بھی معاشی کساد بازاری سے بچنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے،چین تین عشروں سے جاری زبردست معاشی ترقی کو برقرار رکھنے کے لئے اقدامات کر رہاہے، جبکہ بھارت ایک ایسا ملک ہے، کہ جو اس وقت 7.6فیصد جی ڈی پی کے حساب سے ترقی کر رہا ہے۔ اگر سرما یہ داری نظام کے تناظر میں بات کی جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ آج کے دور میں جب مغربی ممالک بھی ایک حد تک معاشی کساد بازاری کا شکار ہیں، ایسے میں 7.6فی صدجی ڈی پی کی رفتار سے ترقی کو بھارت کی اہم کامیابی مانا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس مرتبہ مودی حکومت نے اپنی معاشی کامیابی کو بنیاد بنا تے ہو ’’برکس‘‘کی تنظیم کو بھی اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کی۔

بھارت نے جب برکس کے اس اجلاس کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی توبھارتی حکومت نے برکس کے حوالے سے اہم حقائق کو نظر انداز کر دیا، اس لئے بھارت برکس کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے میں ناکام رہا۔ برکس میں شامل پانچ ملکوں کو دیکھا جائے تو جغرافیائی، سیاسی، تہذیبی، تاریخی اور عسکری اعتبار سے ان ممالک میں بہت زیادہ فرق پایا جاتا ہے۔ ان پانچ ملکوں کے داخلی مسائل کو دیکھا جائے تو ہر ملک کے داخلی مسائل کی نوعیت تنظیم کے دوسرے ممالک سے مختلف ہے۔مثال کے طور پر جب بھارت نے اس تنظیم کے پلیٹ فارم کے ذریعے پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے ’’ ہر طرح کی دہشت گردی‘‘ کی مذمت کرنے کا سہارا لینا چاہا تو اس نکتے میں جنوبی افریقہ اور برا زیل کے لئے دلچسپی کا کوئی سامان نہیں تھا ، کیونکہ ان دونوں ملکوں میں عالمی دہشت گردی مسئلہ نمبرایک نہیں ہے۔ ان ملکوں کو اگر دہشت گردی کا سامنا ہے بھی تو اس کی وجوہات داخلی نوعیت کی ہیں۔ اسی طرح اعلامیہ میں جن دہشت گرد تنظیموں کا ذکر کیا گیا، ان میں داعش اور شام میں القاعدہ کی پراکسی تنظیم النصرہ کا ذکر موجود ہے۔ اب یہ دونوں تنظیمیں روس اور ایک حد تک چین کے لئے تو خطرہ ہیں، مگر بھارت کو فی الحال ان دوتنظیموں سے کوئی خطرہ نہیں کیونکہ بھارتی دعوے کے مطابق اسے جن تنظیموں سے خطرہ ہے، ان میں جیش محمد اور لشکر طیبہ سرفہرست ہیں، مگر مشترکہ اعلامیہ میں بھارتی خواہش کے باوجود ان دونوں تنظیموں کا ذکر نہیں کیا گیا، کیو نکہ یہ دونوں تنظیمیں چین اور روس کے لئے خطرہ نہیں ہیں۔

برکس کے اس اجلاس میں دہشت گردی کی تعریف پر بھی اتفاق نہیں ہوسکا، کیونکہ مودی نے جہاں پاکستان کو ’’دہشت گردی کی ماں ‘‘قرار دیا، وہیں چینی صدر نے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے اس کی وجوہات کو ختم کرنے کی بات کی۔ چینی صدر کا یہ موقف پاکستان کے موقف کے قریب ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے کشمیر کے مسئلے کا حل ناگزیر ہے۔ چین اور روس کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کے چکر میں بھارتی حکومت اس حقیقت کو بھی سامنے نہ رکھ سکی کہ اس وقت پا کستان، روس اور چین کے لئے دہشت گردی کے خلاف ایک اہم عامل ہے،کیونکہ اس وقت داعش اور القاعدہ کو’’شام ‘‘میں آئے روز شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ اب یہ تنظیمیں شام میں اپنا اثرو رسوخ تیزی کے ساتھ کھو رہی ہیں، اس لئے ان تنظیموں کی کوشش ہے کہ اب اپنے وسائل کا رخ افغا نستان کی جانب منتقل کیا جا ئے ۔ افغانستان اور اس کے اطراف میں داعش اور القاعدہ کے منظم ہو نے کا مطلب ہے کہ روس اور چین کو اب جہادی یا دہشت گرد تنظیموں سے زیا دہ چوکنا رہنے کی ضرو رت ہے،کیونکہ یہ دونوں ملک جانتے ہیں کہ پاکستان بڑی کامیابی کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے ۔

ایسے میں ان دونوں ملکوں کو اس خطے میں امن بر قرار رکھنے کے لئے پاکستان کے تعاون کی ضرورت پڑتی رہے گی۔ روس اس لئے بھی بھارتی خواہش پر پاکستان کی مذمت کرنے کے لئے تیا ر نہیں ہوا، کیونکہ روس اچھی طرح جانتا ہے کہ ماضی میں سوویت یونین اور روس کا دوست بھارت اب امریکی گود میں بیٹھا ہوا ہے۔ اسی طرح چین اس حقیقت کو کیسے نظر انداز کر سکتا ہے کہ اس وقت امریکہ ،چین کے لئے جتنے بڑے مسائل کھڑے کر رہا ہے، ان میں امریکہ کو بھارت کی معاونت بھی حاصل ہے۔ جنوبی بحیرۂ چین کا ایشو اس حقیقت کی ایک اہم مثال ہے۔ ان حالات میں چین محض بھارت کو خوش کرنے کے لئے اپنے آزمودہ دوست پاکستان کو نا راض کرنے کے لئے ہرگز تیار نہیں۔ یہ ہیں وہ چند اہم عوامل جن کے با عث بھارت، برکس کے حالیہ اجلاس میں پاکستان مخالف رائے ہموار کرنے میں نا کام رہا۔ کہتے ہیں کہ اس وقت دنیا میں ایسے حکمران اور راہنما بہت کم رہ چکے ہیں جو وسعت نظر، وسیع مطالعہ اور بلند ذہنی شعور رکھتے ہوں۔ دنیا کے اکثر ملکوں کے حکمرانوں کی طرح بھارتی حکمران بھی اب ان صفات سے محروم ہو چکے ہیں۔ ورنہ خالص تجارتی اور معاشی بنیادوں پر قائم کی گئی پانچ رکنی تنظیم، جس کے چار ملکوں کا تعلق چار الگ الگ بر اعظموں سے ہے اور ہر ملک کے داخلی اور خارجی مسائل کی نوعیت بھی الگ ہے، ایسی تنظیم کے پلیٹ فارم کے ذریعے پاکستان کو بدنام کرنے کی ناکام کوشش کبھی بھی نہ کی جاتی۔

مزید :

کالم -