پاکستان کو جدید اسلامی مملکت بنانے کیلئے ہمیں بزرگوں کے فکروعملاپنانا ہونگے، عزیز ظفر

پاکستان کو جدید اسلامی مملکت بنانے کیلئے ہمیں بزرگوں کے فکروعملاپنانا ...

  

لاہور(جنرل رپورٹر)پاکستان کو ایک جدید اسلامی‘ جمہوری اور فلاحی مملکت بنانے کیلئے ہمیں اپنے بزرگوں کے فکروعمل کو اپنانا ہوگا اور یہ عہد کرنا ہوگا کہ اپنے دین اور ملک کی خاطر جئیں اور مریں گے۔ خان عبدالقیوم خان ایک عظیم قومی رہنما‘ ممتاز قانون دان اور اعلیٰ درجہ کے منتظم اور مدبر تھے۔ صوبہ سرحد میں مسلم لیگ کی تنظیم نو کے لئے آپ نے ان تھک محنت کی اور اس صوبے کے پہلے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے فروغ تعلیم کے لئے گرانقدر خدمات انجام دیں۔ ان خیالات کا اظہار صدر پاکستان قومی زبان تحریک عزیز ظفر آزاد نے ایون کارکنان تحریک پاکستان میں اکتوبر کے مہینے میں وفات پانے والے مشاہیر تحریک پاکستان کی یاد کے سلسلے میں منعقدہ خصوصی لیکچر بعنوان "خان عبدالقیوم خان" کے دوران کیا۔اس لیکچر کا اہتمام نظریۂ پاکستان ٹرسٹ نے تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے کیا تھاجس کا آغاز حسب معمول تلاوت قرآن مجید، نعت رسول مقبولؐ اور قومی ترانے سے ہوا۔ لیکچر میں یونیک ہائی سکول لٹن روڈ لاہور کے طلبہ نے خصوصی طور پر شرکت کی۔

عزیز ظفر آزاد نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ پارس کی مانند تھے اور انکے قریب رہنے والا ہر شخص سونا بن جاتا تھا۔ خان عبدالقیوم خان کے ساتھ بھی یہی معاملہ پیش آیا۔ وہ ایک صاحب کردار شخص تھے جنہوں نے سادہ طرز زندگی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا۔ وہ بدعنوانی کے سخت خلاف تھے اور چاہے کتنا ہی دباؤ کیوں نہ ہو، وہ کبھی کوئی غلط کام نہ کرتے تھے۔ قائد اعظم محمد علی جناحؒ کا یہ سپاہی اپنے ہم عصر سیاست دانوں کے لئے ایک قابل تقلید کردار کی صورت اختیار کر گیا تھا۔ان کے وزارت اعلیٰ کا دور تعمیر و ترقی کے لحاظ سے بے مثال تھا۔ انہوں نے ہر شعبے میں اصلاحات کیں اور امیر و غریب کا فرق مٹانے کی خاطر موثر اقدامات کئے۔ ان کے دور میں تعلیم مفت کر دی گئی تھی۔وارسک ڈیم بھی انہی کی مساعی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اپنی اولوالعزمی اور استقامت کی بنا پر وہ مردآہن کے لقب سے جانے جاتے تھے۔ ایوبی آمریت کے دوران انہوں نے بتیس کلومیٹر طویل تاریخی جلوس نکا ل کر عوام میں اپنی مقبولیت ثابت کر دکھائی۔ عزیز ظفر آزاد نے طلبہ کو تاکید کی کہ تاریخ اسلام میں نوجوان نسل کا کردار بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ اسی طرح برصغیر میں جدوجہد آزادی پر نظر ڈالیں تو اس میں بھی نوجوانوں نے ہی ہر اول دستے کا کردار ادا کیا تھا۔ آپ کو چاہیے کہ تاریخ کا مطالعہ کریں ۔ یہ مطالعہ آپ کو اپنے شاندار ماضی سے جوڑ دے گااور آپ کو اپنی تاریخ اور اسلاف پر فخر محسوس ہوگا۔ عزیزظفر آزاد نے مزید بتایا کہ خان عبدالقیوم خان 1901ء میں چترال میں پیدا ہوئے جہاں ان کے والد عبدالحکیم خان بسلسلہ ملازمت مقیم تھے۔ خان عبدالقیوم خان ابتداء ہی سے بہت ذہین و فطین تھے۔ اسلامیہ کالج پشاور میں بی اے کے طالب علم تھے کہ مولانا محمد علی جوہر پشاور تشریف لائے۔ ان کی تحریک پر خان عبدالقیوم خان نے اپنے دوسرے ساتھی طلباء ملک امیر عالم اعوان‘ ملک محمد عالم‘ ماسٹر میر قلم خان نیازی وغیرہ کے ہمراہ اسلامیہ کالج پشاور کو چھوڑ کر جامعہ ملیہ دہلی میں داخلہ لیا۔ یہ قومی تعلیمی ادارہ مولانا محمد علی جوہر کی نگرانی میں قائم کیا گیا تھا اور وہ خود بھی وہاں پڑھاتے تھے۔ بی اے کی ڈگری لینے کے بعد وہ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے لندن چلے گئے اور لندن کے سکول آف اکنامکس سے ای ایس سی آنرز کا امتحان پاس کیا۔ لندن ہی سے بار ایٹ لاء کی ڈگری بھی لے کر وہ پشاور آئے۔ وہ ابتداء ہی سے اچھے مقرر اور مدبر تھے اور برصغیر کے بدلتے ہوئے سیاسی حالات کا بغور مطالعہ کررہے تھے۔ 1945ء میں وہ مسلم لیگ میں شامل ہوگئے اور 1946ء کے

مزید :

میٹروپولیٹن 4 -