کشمیر اور البطروسس (2)

کشمیر اور البطروسس (2)
 کشمیر اور البطروسس (2)

  

نہرو کے حمایتی ان تینوں معاملات میں تحفیفِ جرم کے لئے حالات ڈھونڈ نکالیں گے اور یہ بات بھی درست ہے کہ ہندوستان کے تمام سرکاری حکام دیال کی طرح مکمل مغربی احکامات کے آگے سر تسلیم خم کرنے کے لئے تیار نہیں تھے۔ ایسی کم از کم دو مثالیں ہیں جب مُلک کے وقار کا علامتی طور پر جرأت مندانہ طریقے سے تحفظ کیا گیا۔ اس بارے میں البتہ شک ہے کہ اس میں دہلی کا کوئی عمل دخل تھا یا؟نہیں؟ ایک تو ٹوکیو ٹربیونل (جاپان کے جنگی جرائم کے بارے میں بین الاقوامی کمیشن) کے رکن ہندوستان کے جج رادھا بنود پال، جنہوں نے 1948ء میں 1236 صفحات پر مشتمل ٹربیونل کی رپورٹ کو ’’فاتح کا انصاف‘‘ قرار دیا تھا۔ دوسرے فلسطین پر اقوام متحدہ کی خصوصی کمیٹی کے نمائندے سر عبدالرحمن تھے، جن کی علاقے کی اکثریت کی جانب سے تقسیم کی تجویز، جسے فرضی طور پر رالف بنچ (مشرقی وسطیٰ میں اقوام متحدہ کے نوبل انعام یافتہ ایلچی) سے منسوب کیا گیا تھا، کے خلاف اعتراضات سے بھرپور اقلیتی رپورٹ صہیونیت کے دعوؤں کی جامع اور تاریخی تردید ہے، جو موضوع کے لحاظ سے آج بھی اسی طرح مبنی برحقیقت ہے، جیسے اُسے آج ہی لکھا گیا ہو، لیکن یہ لوگ اپنے وقت کے نظر انداز کئے گئے ہیرو ہیں۔

نہرو کے سیکولر ہونے کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے پیری اینڈرسن نے کہا کہ نہرو ذاتی طور اتنے ہی سیکولر تھے، جتنا آپ سوچ سکتے ہیں۔۔۔(اپنی زندگی کے آخری دِنوں تک جب وہ مذہب کے کھلونوں سے کھیلنے لگے تھے)۔۔۔ انہوں نے بے شک پٹیل کی اس تحریک کی مخالفت کی تھی کہ سرکاری افسروں میں ایک بھی مسلمان نظر نہ آئے، لیکن بطورِ حکمران انہوں نے ہمیشہ ایک ایسی پارٹی کی قیادت کی جو ناگزیر طور پر ایک ہندو پارٹی تھی، جس کے جذباتی و جمالیاتی تقاضوں کو پورا کرنا پڑتا تھا۔ مثال کے طور پر امبیدکر (دلتوں کے حقوق کے حامی کانگریس کے لیڈر) سے جب کانگریس ناراض ہوئی تو نہرو نے بغیر کسی ندامت کے امبیدکر کو پارٹی سے نکال پھینکا۔ 1947ء میں انہوں نے مہا سبھا اور مکر جی کے ساتھ مل کر متحدہ بنگال کے خلاف ہندو قوم پرستی کی جارحانہ تحریک کو ہَوا دی اور انگریزوں کے روبرو یہ موقف اختیار کرتے ہوئے کہ وہ اس وقت تک اس کی اجازت نہیں دیں گے، جب تک پورا صوبہ ہندوستان کو نہیں مل جاتا، ایک بین المذہبی بنگال بننے کے موقع کو تخریب کاری کا نشانہ بنایا، جس کے نتائج سرحد کے دونوں طرف کے بنگالی تب سے بھگت رہے ہیں۔ یہ نہرو کے ریکارڈ پر بدترین داغ ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں پیری اینڈرسن نے کہا کہ 1947ء میں جو کچھ ہوا،اس کی ذمہ داری اصولی طور پر کانگریس کی حماقت اور رعونت پر عائد ہوتی ہے جو بیسویں دہائی سے یہ قبول کرنے کے لئے تیار نہیں تھی کہ وہ برصغیر میں واحد قانونی جماعت نہیں ہے، بلکہ اپنی ہیت ترکیبی اور انداز فکر کے لحاظ سے بھرپور ہندو اکثریت کی حامل پارٹی ہے اور کیونکہ وہ زیادہ طاقتور تھی،اِس لئے وہ نسبتاً کمزور مسلمان قومیت کے ساتھ فیاضانہ طور پر پیش آ سکتی تھی اور اس کی ضرورت بھی تھی۔

یہ محض کسی غیر ملکی کا موقف نہیں، یہ ہندوستان کے ممتاز تاریخ دان بی بی مسرا (BB Misra) کا موقف بھی ہے۔ مہاتما گاندھی کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے پیری اینڈرسن نے کہا کہ وہ ان کی قائدانہ صلاحیت کی قدر کرتے ہیں اور ان کے ذاتی خلوص اور بے غرضی کی بھی کہ وہ دیگر سیاست دانوں کی طرح اقتدار کے متمنی نہیں تھے۔ وہ اپنے انداز میں ایک عظیم آدمی تھے،لیکن یہ خوبی انہیں تنقید سے مبرا نہیں کرتی۔ وہ ذاتی طور پر کئی نفسیاتی مسائل کی گرفت میں تھے۔ ان کی دانشورانہ تشکیل محدود طور پر ہوئی تھی۔ دلیل کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا تھا اور انہیں کوئی اندازہ نہیں تھا کہ وہ قومی تحریک کو ہندو تقدیس پرستی کے ساتھ ملا کر کتنا بڑا نقصان کر رہے ہیں۔ ان کی اپنے تمام تر نابینا پن کے ساتھ عزت کی جانی چاہئے، اسے جذباتی بنانے کی ضرورت نہیں۔انہوں نے اپنے طور پر مکمل طور پر یہ بے جا حق لے کر کہ وہ جو کہیں اسے سچ سمجھا جائے اور بھلے وہ دوسرے دن اپنا بیان بدل دیں،تب بھی ان کے ذریعے اسے بھگوان کی آواز ہی سمجھا جائے۔ اپنے مقلدین اور معترفین کے لئے ایک تباہ کن مثال قائم کر دی۔ اس عمل کا سب سے زیادہ مظاہرہ انہوں نے عدم تشدد کی تحریک میں کیا،کیونکہ جب ان کے مفاد میں ہوتا تو وہ تشدد کے بارے میں مراقبے کے لئے تیار ہو جاتے تھے۔ وہ نہ صرف اپنے نو آبادیاتی آقاؤں کی ضرورت کے لئے ہندوستان کے کسانوں کو مرنے کے لئے سوھو (فرانس کا دریا جس کے کنارے برطانوی اور فرانسیسی فوجوں کی جرمنوں کے ساتھ جنگ ہوئی) بھیجنے پر تیار تھے، کشمیر فتح کرنے کے لئے اُڑنے والے بمبار طیاروں کے ’’ٹیک آف ‘‘کرنے پر تالیاں بجائیں، بلکہ برصغیر میں فرقہ وارانہ قتل عام۔۔۔ خانہ جنگی۔۔۔ کو برطانیہ کو نکال باہر کرنے پر ترجیح دی۔

بجائے اس کے کہ گاندھی کے حمایتیوں کی طرح آپ حقائق کو روندتے ہوئے گزر جائیں، بطور تاریخ دان ان کا جائزہ لینا پڑتا ہے۔ جب پیری اینڈرسن سے پوچھا گیا کہ وہ ہندوستان کی جمہوریت کو ملائشیا اور سری لنکا کی جمہوریت سے کیوں ملاتے ہیں، جہاں جمہوریت ہے ہی نہیں، تو انہوں نے کہا کہ ووٹروں کی تعداد اور غربت کے باعث انہوں نے اپنی کتاب میں ہندوستان کی جمہوریت کو منفرد قرار دیا ہے، لیکن اس بات کو تقابل کے جذبے سے دیکھنے کے بجائے لاف زنی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ہندوستان کے اکثر انتخابی حلقوں میں انتخابات ملائشیا کی نسبت آزادانہ ہوتے ہیں، لیکن ان میں کہیں زیادہ تشدد بھی ہوتا ہے، اور یہاں محروموں کی قسمت ملائشیا کی نسبت بہت زیادہ خراب ہوتی ہے۔ سری لنکا میں تاملوں کو عرصہ ہوا حق خود ارادیت سے محروم کر دیا گیا ہے، یہی بات انہی وجوہات کی بنا پر کشمیر کے بارے میں کہی جا سکتی ہے۔ پارلیمانی آزادی کے لحاظ سے ان تینوں میں سے کسی کا بھی تقابل کیا جائے تو ان کے مقابلے میں جمائیکا اور ماریشس کو زیادہ نمبر ملیں گے۔ ہندو ازم سے متعلق بدوائی کے اس سوال کے جواب میں کہ ہندوستان کو ایک ہندو ریاست کہنے کے بجائے، یہ کہنا مناسب نہیں ہو گا کہ اس پر صرف اونچی ذات کے ہندو قابض ہیں۔ اس کے علاوہ مذہبی اقلیتوں کے نچلی ذات کے ہندوؤں کا مقدمہ بھی قائم ہو جائے گا،جن کے ساتھ ریاست ظالمانہ سلوک کرتی ہے۔

پیری اینڈرسن نے کہا کہ اسلام اور عیسائیت کے مقابلے میں ہندو مت اپنی مقدس تحریروں، عقائد اور رسوم و رواج کے لحاظ سے نسبتاً کم یکسانیت کا حامل ہے۔ کسی بھی مذہب میں اونچے اور نیچے، ممتاز اور غیر ممتاز کے درمیان ایک خلا ہوتا ہے اور اسلام و عیسایت کے مقابلے میں ہندومت میں یہ خلا بہت بڑا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہندومت کسی تخیل کی پیداوار، کوئی واہمہ ہے۔۔۔یا ایک اور فیشن ایبل طریقے سے کہا جائے تو برطانیہ کی تخلیق ہے اور یہ بھی کہ گول مول بات کر کے ہندوستان میں اس کی موجودگی اور طاقت کے دو ٹوک اعتراف سے گریز اس بنیاد پر کہ یہ ہمہ جہت ہے، اس لئے اسے ایسا نہیں کہا جا سکتا، ایک مدافعتی عمل ہے، جسے فرانس میں کہتے ہیں: ’’مچھلی کو پانی میں ڈبو کر غرق کرنا‘‘۔۔۔لیکن یہ کہ اسے کسی ڈھیلی ڈھالی یا پھیلی ہوئی قسم میں تحلیل کر کے کسی وقوعہ یا مظہر سے پہلو تہی کی کوشش۔ ہندومت بطور عقیدہ اپنے ڈھانچے میں یقیناًاسلام اور عیسائیت سے مختلف ہے، لیکن اس سے یہ مطلب نکالنے میں جو آج کل اس کے حمائیتیوں کا معیاری طریق کار ہے کہ یہ ان سے بہتر ہے، گریز کیا جانا چاہئے۔

زیادہ مختلف النوعیت ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ یہ زہریلا نہیں۔ مقدس تحریروں میں احکامات کے لحاظ سے اگر یہ کم ہے تو اقتدار و اختیار کے ظالمانہ نظام کے لحاظ سے یہ طویل ہے۔ صرف ’’ستی‘‘ کی رسم کے بارے میں سوچنا ہی کافی ہے۔۔۔ اور نہ ہی یہ کہا جانا چاہئے کہ ممتاز طبقے کے مشن کے مقابلے میں عوامی رواج کو زیادہ رواداری ورثے میں ملی ہے۔ مرکزی حقیقت یہی ہے کہ تقسیم، فرقہ وارانہ مذہبی بنیادوں پر ہوئی اور تقسیم ہند کے وقت قتل عام میں ہندوؤں کا حصہ آر ایس ایس (راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ) کے قابل ذکر اثرات کے تحت نہیں تھا۔ فسادات کا کنواں نیچے سے بھرنا شروع ہوا تھا، اگرچہ، کچھ کم کثرت سے سہی، بہار اور حیدر آباد میں کانگریس کے لیڈروں نے اسے اوپر سے بھی بھرا تھا۔ اپنی کتاب ’’انڈین آئیڈیالوجی‘‘ کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ کتاب ہندوستان میں مروج روایتی سوچ کے خلاف پانچ بڑی دلیلوں کو آگے بڑھاتی ہے۔ سب سے پہلی یہ کہ چھ ہزار سال قبل ہندوستان کی ’’ایکتا‘‘ ایک دیومالائی تصور ہے۔ دوسرے یہ کہ گاندھی کا مذہب کو قومی تحریک میں شامل کرنا بہت بڑی تباہی تھی۔ تیسرے یہ کہ تقسیم ہند کی بنیادی ذمہ داری برطانیہ پر نہیں،بلکہ کانگریس پر عائد ہوتی ہے۔ چوتھے یہ کہ نہرو کا ورثہ اس سے کہیں زیادہ مبہم ہے، جتنا ان کے معترضین تسلیم کریں گے اور آخر میں یہ کہ ہندوستان کی جمہوریت اور ذات پات کی عدم برابری میں کوئی تضاد نہیں،بلکہ جمہوریت اس کی وجہ سے قائم ہے۔

(انٹرویو کی تفصیلات کے لئے گوگل پر پیری اینڈرسن انٹرویو آؤٹ لک انڈیا لکھ کر رسائی حاصل کی جا سکتی ہے اور کتاب تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔)

مزید :

کالم -