ذہنی اور نظر یاتی خلفشار سے نکلنے کیلئے دو قومی نظریے کی صداقت کو تسلیم کرنا نا گزیر ہے، ڈاکٹر رفیق احمد

ذہنی اور نظر یاتی خلفشار سے نکلنے کیلئے دو قومی نظریے کی صداقت کو تسلیم کرنا ...

  

لاہور(اپنے خبر نگار سے) نظریۂ پاکستان ٹرسٹ دائیں بائیں کی تقسیم میں الجھنے کی بجائے قوم کو علمی انداز میں نظریۂ پاکستان کی اہمیت سے روشناس کرا رہا ہے۔ موجودہ ذہنی اور نظریاتی خلفشار سے نکلنے کی خاطر دو قومی نظریے کی صداقت کو تسلیم کرنا ناگزیر ہے۔ تحریک پاکستان جذبوں اور ولولوں کی داستان ہے جس میں ہر پیر و جواں نے دامے‘ درمے‘ سخنے اور قدمے حصہ ڈالا۔ ان خیالات کا اظہار ایوان کارکنان تحریک پاکستان لاہور میں نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چیئرمین اور سابق وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی نے گلگت بلتستان سے آئے ہوئے ایک وفد سے خصوصی ملاقات میں کیا۔ وفد کی سربراہی حکومت گلگت بلتستان کے ترجمان اور میڈیا ایڈوائزر فیض اﷲ فراق نے کی۔پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد نے کہا کہ قیام پاکستان کے بعد تعمیر پاکستان کے عمل میں بھی پاکستانی قوم نے کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں۔ حصول آزادی کے وقت ہم مادی وسائل سے بالکل تہی دامن تھے تاہم قائداعظم محمد علی جناحؒ کی ولولہ انگیز قیادت میں ایک عظیم مملکت کی بنیادیں رکھنے میں کامیاب ہو گئے۔ ہم نے صفر سے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا اور الحمدﷲ آج ہم مختلف شعبہ ہائے زندگی میں قابل رشک ترقی کر چکے ہیں۔ اگرچہ ہمیں گوناں گوں مسائل درپیش ہیں لیکن اﷲ کی نصرت سے ہم بہت جلد وطن عزیز کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل کر لیں گے۔ ہمارا ازلی دشمن بھارت پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کے لیے مسلسل سازشیں کر رہا ہے اور دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے لیکن حکومت‘ عوام اور افواج پاکستان کے عزم صمیم کی بدولت آپریشن ضرب عضب کامیاب ہو چکا ہے اور دشمن کی سازشیں ناکام ہو چکی ہیں۔

وفدکے سربراہ فیض اﷲ فراق نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نظریۂ پاکستان ٹرسٹ پاکستانیت کے فروغ کا نام ہے اور انشاء اﷲ ہم گلگت بلتستان میں نظریۂ پاکستان فورم قائم کر کے وہاں بھی پاکستان کے اساسی نظریے کا بھرپور پرچار کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگست 1947ء میں گلگت بلتستان کے عوام نے ڈوگرہ فوج کے مظالم کے خلاف بغاوت کا پرچم بلند کیا اور غیر مشروط طور پر پاکستان کے ساتھ الحاق کے لیے بانئ پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کو خط لکھا۔ ہم آج بھی یہ سمجھتے ہیں کہ گلگت بلتستان کی بقا اور شناخت پاکستان کے ساتھ مکمل الحاق میں پوشیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں سونے کی بہتر ہزار (72,000) کانیں اور صاف پانی کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ اسی طرح گلگت بلتستان 40 سے 50 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ہمیں ریاست پاکستان سے کوئی شکوہ نہیں البتہ حکمرانوں سے اختلاف رائے ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا دشمن جان لے ہم بغیر وردی کے پاکستان کے سپاہی ہیں اور کسی بھی اندرونی و بیرونی سازش یا جارحیت کا جواب دینے کے لیے حکومت پاکستان اور افواج پاکستان کے پشتی بان ہیں۔ ہم اس بات کے قائل ہیں کہ نظریۂ پاکستان کی ترویج و اشاعت کے ذریعے پاکستان کو لاحق موجودہ سنگین مسائل سے چھٹکارہ دلایا جا سکتا ہے۔ اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد نے وفد کو نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کی مطبوعات بھی پیش کیں۔

مزید :

میٹروپولیٹن 4 -