’’بھید کھلنے لگے‘‘

’’بھید کھلنے لگے‘‘
 ’’بھید کھلنے لگے‘‘

  

کیا واقعی ہم کسی بڑے تصادم کی جانب بڑھ رہے ہیں؟ لگتا تو ایسا ہی ہے، کیونکہ فریقین میں سے کسی کے پاس زیادہ پیچھے ہٹنے کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ڈان کی خبر نے صرف لڑائی میں تیزی پیدا کی ہے وگرنہ ’’وہ‘‘ تو ہمیں اس کے بغیر بھی کسی صورت قبول کرنے پر تیار نہیں تھے۔ جو کچھ اب چل رہا ہے اس کا منصوبہ بہت پہلے بنا لیا گیا تھا۔ ڈان کی خبر کے حوالے سے کور کمانڈروں کی تشویش سے پیدا شدہ صورت حال کے تناظر میں آرمی چیف اور وزیراعظم کی ملاقات خاصی اہم تھی۔ عسکری قیادت کا کہنا ہے کہ جھوٹی خبر وزیراعظم ہاؤس سے فیڈ کی گئی۔ تحقیقات ابھی نہ جانے کس مرحلے پر ہیں کہ وزیراعظم نے پارٹی انتخابات کے موقع پر یہ کہہ کر کئی حلقوں کو چونکا دیا کہ ہر دور میں ڈگڈگی بجانے والے آجاتے ہیں۔ ہم کسی سے دبنے والے نہیں۔ عوام کی غالب اکثریت نے اس بات کو کسی اور پیرائے میں لیا۔ تحریک انصاف کے ’’سادہ لوح‘‘ مگر دھوکہ کھا بیٹھے اور سمجھے کہ شاید عمران خان نیازی کو کوسا گیا ہے۔ ایسے میں حتمی وضاحت کے لئے قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کو میدان میں آنا پڑا۔انہوں نے واضح کیا کہ عمران ڈگڈگی نہیں بجارہے۔وزیراعظم کا اشارہ غیر سیاسی لوگوں کی طرف ہے۔ خورشید شاہ نے خدشہ بھی ظاہر کیا کہ نواز شریف نے یہ بات کر کے آگ پر ہائی آکٹین(تیل) چھڑکا ہے۔اگر ایسا ہی ہے تو پھر اسے اعلان جنگ کیونکر تصور نہ کیا جائے۔ سول ملٹری کشمکش کے اس دورانیے میں میڈیا کا رول ہر لحاظ سے قابل ذکر رہا۔ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے، الزامات کی بوچھاڑ، پورے ملک کو غیر یقینی کیفیت میں مبتلا رکھنے کے لئے استعمال کیا گیا۔ ایک موقع پر محض ایک فریق ہی بھاری تھا پھر شاید دوسرے نے بھی سوچا کہ ہم کسی سے کم ہیں کیا؟ دلچسپ بات ہے کہ جب ڈان لیکس میں ملوث رپورٹر کا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا تو میڈیا تنظیموں نے فوری اور سخت ردعمل ظاہر کیا۔وہ شور مچا کہ عسکری حکام کو کہنا پڑا کہ اخبار اور نمائندے کے خلاف کارروائی کا مطالبہ نہیں کیا ،خبر فراہم کرنے والوں کو پکڑا جائے۔ کمال ہے جناب اگر واقعی ملکی سیکیورٹی کو زک پہنچی ہے تو پھر اخبار اور نامہ نگار ذمہ دار کیوں نہیں؟محض اس لئے کہ وقتی طور پر ہی سہی طاقتور حلقے بھی میڈیا سے براہ راست الجھنے کو اپنے لئے نقصان دہ سمجھتے ہیں۔اس سارے معاملے میں وہ سیاسی شخصیات یا سرکاری افسران ہی کمزور فریق ہیں جن کے نام ایک منظم مہم کے تحت اِدھر اُدھر لئے جارہے ہیں۔ مذکورہ اخبار اور اس کا رپورٹر اتنے ہی سادہ ہیں کیا کہ جو کوئی بھی خبر کے نام پر کچھ بھی کہہ دے وہ شائع کر ڈالیں۔ اگر ایسا نہیں تو پھر تحقیقات کا دائرہ زیادہ وسیع کیا جانا چاہیے تھا۔

ویسے مذکورہ خبر میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ یار لوگ ایک مدت سے سنتے آرہے ہیں۔ چلیں ’’ وسیع تر قومی مفاد‘‘ میں فی الحال اس پر چپ سادھ لیتے ہیں مگر ان خبروں کا کیا کریں جو ان اجلاسوں میں وفاقی وزراء اور وزیراعلیٰ سندھ اور آرمی چیف کے مابین ڈائیلاگ کے حوالے سے چلتی رہی ہیں۔نرم نرم بولنے والے پرویز رشید نے سرعام آ کر یہ کیوں کہہ دیا کہ کام خراب کریں جنرل حضرات اور ٹھیک کرتے پھریں نواز شریف۔ عمران خان کے اسلام آباد بند کرنے کے اعلان اور دھرنے کی منصوبہ بندی کے بعض خفیہ پہلو سامنے آنے پر بداعتمادی نکتہ عروج پر جاتی دکھائی دیتی ہے۔ان اطلاعات کے سامنے آنے کے بعد کہ جہادی تنظیموں کو دھرنے میں شمولیت کی ’’ہدایات‘‘ جاری کر دی گئی ہیں۔ایسی تنظیموں کے ارکان کو سرحد پر کارروائیوں کے لئے تیار کیا جاتا رہا ہے اور مدتوں استعمال بھی کیا گیا۔ حربی صلاحیتوں کے حامل ایسے افراد جب کسی دھرنے کا حصہ بنیں گے تو محض نعرے بازی کرتے رہیں گے کیا؟ جلسوں کے نام پر ناچ گانے اور ثقافتی پروگراموں سے ان کو کوئی دلچسپی نہیں ان کا تو یہی کہنا ہوتا ہے کہ ہم سے ’’کام‘‘ لیا جائے۔فی الوقت تو اس حوالے سے حافظ سعید کی جماعت الدعوۃ اور مولانا سمیع الحق کے پیروکار(طالبان) کا ذکر کیا جارہا ہے۔ منصوبہ اسی انداز میں آگے بڑھا تو دیگر جہادی گروپوں کو بھی استعمال کیا جائے گا۔حکومت اس تمام منصوبے سے باخبر ہے تو بعض جہادی تنظیموں کے ذمہ داروں نے رابطے پر جو کچھ کہا اسے تصدیق کرنے کے سوا کوئی اور نام نہیں دیا جا سکتا ہے۔اب الگ بحث ہے کہ جہادی تنظیموں کے ذریعے اسلام آباد فتح کرنے کی کوشش کس حد تک کامیاب ہو گی اور نتائج کیا نکلیں گے۔دفاع پاکستان کونسل نے اگرچہ اسلام آباد اجلاس میں ان خبروں کو اختراع قرار دیا ہے مگر یاد رکھنا چاہیے کہ کوئی بات چھپی نہیں رہ سکتی۔۔اسٹیبلشمنٹ بھی کیا کرے بار بار مائنس ون کے فارمولے بنا کر دئیے گئے مگر ڈھیٹ سیاسی جماعتیں ٹس سے مس نہیں ہوئیں۔ پیپلز پارٹی کو ہی دیکھ کر یہ فارمولا کس کس طرح سے لاگو کرنے کی کوشش کی گئی مگر اب صورت حال یہ ہے کہ آصف زرداری کسی بھی وقت لوٹ کر آنے والے ہیں۔نواز شریف پر آرمی چیف کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام لگا۔ جنرل آصف نواز مرحوم کی بیوہ سے پریس کانفرنس بھی کرائی گئی پھر جنرل مشرف نے طیارہ ہائی جیکنگ کیس میں پھانسی لگوانے کی کوشش کی جو کامیاب نہ ہو سکی اور جلاوطنی پر رضا مند ہونا پڑا۔وہ آج تیسری مرتبہ وزیراعظم ہیں اور ’’عادات‘‘ بدلنے کو تیار نہیں۔

الطاف حسین کو مائنس کرنے کی وجوہات ٹھوس بھی تھیں اور جائز بھی ،مگر تازہ ترین صورت حال یہ ہے کہ سندھ میں پچھلے 13 سالوں سے قائم اسٹیبلشمنٹ کے سب سے بڑے مہرے گورنر عشرت العباد نے بھی انہیں اپنا محسن قرار دیدیاہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کے تمام دھڑوں میں سے کامیاب وہی ہو گا جسے ’’بھائی‘‘ کی آشیر باد حاصل ہو گی۔تاریخ تو یہی بتاتی ہے کہ سیاستدانوں کو غیر سیاسی طریقوں سے ہٹانے کی کوششیں بالآخر ناکامی کا منہ ہی دیکھتی ہیں۔عشرت العباد اور مصطفی کمال کے درمیان جاری کیچڑ اچھالنے کی جنگ میں بعض تشویشناک پہلو بھی موجود ہیں۔دونوں کے بارے میں ملک گیر اتفاق رائے ہے کہ وہ ایک ہی مقام سے ’’آپریٹ‘‘ ہوتے ہیں۔پھر اچانک مصطفی کمال اپنے ہی ’’پیٹی بھائی‘‘ عشرت العباد پر کیوں برہم ہو گئے۔ بظاہر ٹھنڈے مزاج کے نظر آنے والے عشرت العباد جواب دیتے ہوئے بھڑک اٹھے۔یہ چکر کیا ہے۔ عین ممکن ہے کہ کوئی تماشا لگایا جانا مقصود ہو۔ دونوں کو الگ الگ کردار سونپے گئے ہوں، لیکن اگر ایسا نہیں تو یہ کوئی اچھی علامت نہیں۔دوسرا مطلب تو یہ ہے کہ منصوبہ ساز کسی نہ کسی سطح پر ایک دوسرے کے ہم خیال نہیں۔ ادھر(ن) لیگی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ چند معاملات پر وہ اور دیگر سیاسی جماعتیں مکمل طور پر ہم خیال ہیں۔ اس مرتبہ کسی غیر جمہوری عمل کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کیا جائے گا۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگرچہ مقابلے کے لئے ان کے پاس طاقت کے مادی لوازمات نہیں مگر عوام کی حمایت ضرور ملے گی۔ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ 1999 ء میں تو ایسا نہیں ہوا تھا تو جواب ملتا ہے کہ جنرل ایوب کتا کتا کے نعرے سن کر گئے۔ جنرل یحییٰ اقتدار سے ہٹنے کے بعد تنہا اور خوفزدہ تھا۔ بھٹو کو پہلے اقتدار سے ہٹایا گیا پھر پھانسی دی گئی کیا ہوا؟ جنرل مشرف ایسے فرار ہوئے جیسے گدھے کے سر سے سینگ ،لیکن اس بار ہمیں حالات مختلف ہونے کا یقین ہے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ مسلم لیگ(ن) کی ٹاپ کمان کے اجلاس میں فیصلہ کر لیا گیا ہے کہ اس مرتبہ کوئی غیر جمہوری مطالبہ نہیں مانا جائے گا۔مائنس ون کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔اداروں کو ان کی آئینی حدود کے اندر رکھے بغیر ملک آگے بڑھ ہی نہیں سکتا۔ مختصر یہ کہ آگے جو بھی ہو گا دیکھا جائے گا۔

ہر گزرتے دن کے ساتھ سارے بھید کھلتے جارہے ہیں۔بسا اوقات تو یوں لگتا ہے کہ اب کوئی راز راز ہی نہیں رہے گا۔ فریقین اس حوالے سے زیادہ تکلفات میں پڑنے کے جھنجھٹ سے آزاد ہوتے جارہے ہیں۔ دھرنا کامیاب کرانے والے بھی پوری طرح سے سرگرم عمل ہیں۔یہ بھی کہا جارہا ہے کہ دھرنے کو کامیاب بنانے کے بعد کیا کرنا ہے اس کی تیاریاں بھی شروع کر دی گئی ہیں۔یار لوگ تو ایک نئے ٹی وی چینل کی اس موقع پر لانچنگ کو اسی قضیے سے جوڑ رہے ہیں۔سوشل میڈیا پر منظم طریقے سے چلائی جانے والی مہمات کے بعد حکمرانوں اور دیگر سیاستدانوں کو ولن بنایا جانا مقصود ہے تو شاید بات پوری طرح سے نہ بن سکے۔سیاسی جماعتیں بھی صف بندیاں کرنے پر لگ گئی ہیں۔پچھلے دنوں تحریک انصاف کی ایک میٹنگ میں شاہ محمود قریشی نے لگی لپٹی کے بغیر کہہ دیا کہ حالات 1999 ء والے ہیں سو اسی تناظر میں ہمیں اسلام آباد ’’فتح‘‘ کرنے جانا ہے۔حکومت کو شاہ محمود کا شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ اپنی پارٹی کے ساتھ ساتھ پوری قوم کے سامنے بات کھول کر رکھ دی۔حکومت ،اس کی اتحادی جماعتیں اور عدلیہ، وکلاء، میڈیا، سول سوسائٹی ملک میں موجود دیگر پریشر گروپس اتنے بھی بھولے نہیں کہ حالات کا ادراک نہ کر سکیں۔ہم لکھنے والوں میں کوئی بھی نجومی ہے نہ ہو سکتا ہے کہ بتا سکے کہ یقینی طور پر آگے کیا ہو گا۔ حالات کا تجزیہ کر کے اتنا ضرور اخذ کیا جا سکتا ہے کہ 2 نومبر کو دھرنا ناکام ہو گیا تب بھی حکومت کی مشکلات مکمل طور پر ختم ہوں گی نہ خطرات ٹلیں گے۔حکومت کی اپنی فتح کی صورت میں بھی یہ ایک لمبی لڑائی ہے اور اگر دھرنا کامیاب ہو گیا تو پھر کیا ہو گا؟ عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی نے اپنی رونی آواز میں کہہ رکھا ہے کہ’’ جب آئے گا عمران، بنے گا نیا پاکستان‘‘ پہلا مصرعہ تو حذف ہی جانیں۔ بس اتنا یاد رکھیں ’’ بنے گا نیا پاکستان‘‘ اس کے بعد کیا ہو گا، جاننے کے لئے کسی کو بھی زیادہ دن تک انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔

مزید :

کالم -