یوایم ٹی کے تحت انرجی کانفرنس ،ڈاکٹرحسن صہیب،ڈاکٹرنظام الدیننے خطاب کیا

یوایم ٹی کے تحت انرجی کانفرنس ،ڈاکٹرحسن صہیب،ڈاکٹرنظام الدیننے خطاب کیا

  

لاہور ( پ ر) یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈٹیکنالوجی (یو ایم ٹی) ،امریکہ کی ٹیکسازیونیورسٹی،نیشنل سائنس فاوئڈیشن اورانٹرنیشنل ایسو سی ئیشن فار ہائڈروجن انرجی کے اشتراک سے ’’ماحولیاتی اوراقتصادی پائداری کے لیے توانائی‘‘ کے موضوع پردوروزہ بین الاقوامی کانفرنس کا انعقادمقامی ہوٹل میں کیاگیا۔کانفرنس میں امریکہ،برطانیہ،جرمنی،کینیڈا،جاپان،میکسیکو،رومانیہ،فن لینڈ،ملائیشیا،سلووینیا،رومانیہ،ترکی،ایران،انڈونیشیا،اورالجیریاسمیت دنیابھرسے ماہرین، صنعتکاروں اورسائنس دانوں نے شرکت کی اورتوانائی کی مختلف صورتوں کے بارے سیرحاصل گفتگوکی۔کانفرنس سے ریکٹریوایم ٹی ڈاکٹرحسن صہیب مراد،چیئرمین ہائرایجوکیشن پنجاب پروفیسرڈاکٹرنظام الدین،صوبائی وزیرمعدنیات شیرعلی خان نے بھی اظہارخیال کیا۔صوبائی وزیرنے توانائی پراہم کانفرنس کروانے پریوایم ٹی کی کوششوں کوسراہا اورکہا کہ حکومت دوہزاراٹھارہ میں لوڈشیڈنگ ختم کرنے کااپناوعدہ ضرورنبھائے گی۔

ریکٹریوایم ٹی ڈاکٹرحسن صہیب مراد نے کانفرنس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سمیت تمام ترقی پذیرممالک توانائی کی کمی کاشکار ہیں۔ 2030تک دنیاکومزید 21فیصد اضافی بجلی پیداکرنی ہوگی جس کے لیے موجودہ ذرائع ناکافی پڑجائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی اورآبادی میں اضافہ کی وجہ سے عالمی سطح پر ماحول اوراکانومی پر منفی اثرات پڑرہے ہیں جس کے لیے دنیااب توانائی کے دیگرذرائع جیسے شمسی توانائی،ہوا،سمندراورایٹمی بجلی گھروں سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنے پرغورکررہی ہے،ہمیں بھی ایساہی کرناچاہیے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 4 -