دھرنے پر اب کوئی مذاکرات نہیں ہونگے :عمران خان ،تحریک انصاف مسلح افراد لا کر انتشار پھیلانا چاہتی ہے :مسلم لیگ ن

دھرنے پر اب کوئی مذاکرات نہیں ہونگے :عمران خان ،تحریک انصاف مسلح افراد لا کر ...

  

پشاور،اسلام آباد(سٹاف رپورٹر،اے این این)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ 2نومبر ملکی تاریخ کا ایک اہم اور فیصلہ کن دن ثابت ہوگا جس دن ملک کی قسمت کا فیصلہ ہو جائے گا۔اس دن ہم ملک کو چوروں کے نرغے سے آزاد کرا کے ایک ایسا ملک بنائیں گے جیسا یہ بننا چاہیے تھا،دھرنے کے بارے میں اب کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، ایک ایسا ملک جو بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال کی سوچ کا آئینہ دار ہوگا جس میں عدل و انصاف کی بالادستی ہوگی اور ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے والوں کا بے رحمانہ احتساب ہوگا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز پشاور کے نواحی علاقے متنی میں 2نومبر کو اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے دھرنے کی تیاریوں کے حوالے سے منعقدہ ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں پی ٹی آئی کے کارکنوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ عمران خان نے 2نومبر کے دھرنے کو ملک میں ظلم و نا انصافی اور کرپشن کے خلاف جہاد قرار دیتے ہوئے کارکنوں پر زور دیاکہ وہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں اس دھرنے میں شریک ہو کر اس کی کامیابی کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ دھرنا ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے والے تمام عناصر کے خلاف پی ٹی آئی کی فیصلہ کن تحریک ہوگی جس کی کامیابی کے ساتھ ہمارے ملک کی ترقی وخوشحالی وابستہ ہے اگر خدا نخواستہ ہم اس تحریک کو کامیاب نہ بنا سکے تو پھر ہماری آنے والی کئی نسلیں بھی اس کرپٹ نظام سے چھٹکارہ حاصل نہیں کر پائیں گی۔عمران خان نے کہا کہ 2نومبر کو ملکی خزانے کو باری باری لوٹنے والے عناصر ایک طرف ہوں گے جبکہ پی ٹی آئی اور عوام دوسری طرف ہوں گے لیکن کامیابی انشاء اللہ عوام کو نصیب ہوگی جو ان لٹیرے عناصر کے ساتھ ساتھ کئی دہائیوں سے جاری ظلم اور نا انصافی کے نظام سے بھی چھٹکارا حاصل کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ جب کسی ملک یاقوم کاسربراہ کرپٹ ہوتا ہے تو اوپر سے نیچے تک سارا نظام کرپٹ ہوتا ہے اور جب سربراہ کے اخلاقی معیار بلند ہوں تو قوم کی اخلاقیات بھی بلند ہوتی ہیں۔ہمیں ایک ایسا سربراہ چاہیے جو اخلاقی اقدار کا مالک ہو جو ہر لحاظ سے پاک صاف ہو اور جس پر کوئی بھی انگلی نہ اٹھا سکے۔اس مقصد کیلئے پاکستان تحریک انصاف عوام کے تعاون سے2نومبر کو بھرپور طریقے سے میدان میں آئے گی اور ہم کسی طرح بھی اپنے اس مقصد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ہم اس ملک میں عدل و انصاف کا نظام قائم کریں گے بدعنوانی کا خاتمہ کریں گے،لٹیرے عناصر کا احتساب کریں گے اور ملک کی معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کر کے اس کو بیرونی قرضوں سے ہمیشہ کے لئے آزاد کرائیں گے۔ جلسے سے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک،صوبائی وزیر شاہ فرمان اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔اے این این کے مطابق عمران خان نے کہاہے کہ نواز شریف کی ذاتی کرپشن پکڑی گئی ہے اور ان کی ذاتی کرپشن پر سرکاری وکیل کے مقدمہ لڑنے کا کوئی جواز نہیں بنتا،اٹارنی جنرل کس منہ سے عوام کے پیسے سے کرپٹ وزیراعظم کا کیس لڑرہے ہیں،اسلام آباد دھرنے کو ناکام بنانے کیلئے حکمرانوں کی جانب سے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کئے جارہے ہیں۔ پشاور روانگی سے قبل اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف کی ذاتی کرپشن پکڑی گئی ہے اور کوئی جواز نہیں کہ ان کا مقدمہ سرکاری وکیل لڑے وہ اپنے ذاتی وکیل کے ذریعے پاناما لیکس کا کیس لڑیں۔ اٹارنی جنرل شریف خاندان کی کرپشن کو بچانے کی کوشش نہ کریں وہ کس منہ سے عوام کے پیسے سے کرپٹ وزیراعظم کا کیس لڑرہے ہیں شریف خاندان ارب پتی جبکہ ان کے بچے کھرب پتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف اپنی کرپشن بچانے کے لئے پاکستان کو تباہ کررہے ییں اور ان کے پیچھے بھارتی لابی کام کررہی ہے، جمہوریت میں وزیراعظم جوابدہ ہوتا ہے نوازشریف 7 ماہ سے کوئی جواب نہیں دے رہے لیکن اب ان کو حساب دینا ہوگا،اب بھی وقت ہے کہ نواز شریف احتساب کے لئے خود کوپیش کردیں۔ عمران خان نے کہا کہ اسلام آباد دھرنے کو ناکام بنانے کیلئے حکمرانوں کی جانب سے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کئے جارہے ہیں اور یہ تاثر قائم کیا جارہا ہے کہ دونومبر کا دھرنا فوج کرارہی ہے اور فوج امن نہیں چاہتی، اب حکمرانوں نے 2 نومبر کے حوالے سے کالعدم تنظیموں کی اسلام آباد آمد کا نیا شوشا چھوڑا ہے کبھی ہمیں مذاکرات کے لئے کہا جاتا ہے لیکن اب مذاکرات 2 نومبرکو اسلام آباد میں ہی ہوں گے اور عوام کا سمندر ہمارے ساتھ ہوگا۔

اسلام آباد (اے پی پی) وزیرمملکت کیڈ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما و رکن قومی اسمبلی دانیال عزیز نے کہا ہے کہ آج پاکستان کے عوام عمران خان کو وہ بیماری قرار دے رہے ہیں جو اس ملک کے سیاسی ڈھانچے وضع داری اورحیاء کے کلچر کو تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہے‘ عمران خان کے ہر اقدام پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے جس کی روشنی میں قانون اپنا راستہ بنائے گا‘ اسلام آباد کو بند کرنے کے فیصلے پر اب بھی غور کر لیں ورنہ یہ فیصلہ آپ کے سیاسی تابوت میں آخری کیل ثابت ہو گا، عمران خان مختلف تنظیموں سے رابطوں کے ذریعے جن مسلح لوگ کو لا کر انتشار پھیلانا چاہتے ہیں،تحریک انصاف نے مختلف تنظیموں سے 500مسلح افراد مانگے ہیں، اس کی مصدقہ اطلاعات موجود ہیں‘ حکومت عوام کے بنیادی حقوق کا خیال اور امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ آج رحیم یار خان میں وزیراعظم محمد نواز شریف نے غریب، نادار اور علاج معالجہ کی سکت نہ رکھنے والے افراد کے لئے ہیلتھ کارڈ کا اجراء کیا، اس دوران عوام جو نعرے لگا رہے تھے وہ عمران خان کو ملک کی سب سے بڑی بیماری قرار دیتے ہوئے اس کے علاج کا مطالبہ کر رہے تھے۔ وزیراعظم کے منع کرنے پر بھی پورا مجمع یہ صدائیں بلند کرتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ کبھی عمران خان لاشوں کی سیاست چاہتے ہیں اور غیر جمہوری اقدام کی دعوت دیتے ہیں اورکبھی اسلام آباد کو بند کرنے کی باتیں کرتے ہیں‘ سابقہ دھرنے میں ان کی لاشوں کے انتظار کی خواہش کو جاوید ہاشمی جو اس وقت ان کی جماعت کے صدر تھے نے فاش کر دیا اور اب دوبارہ وہ کسی سوچی سمجھی سازش کے تحت اسلام آباد کے تاجر، وکلاء، طلباء، مریضوں کے راستے بند کرنے پر تلے ہوئے ہیں جس سے انہیں منہ کی کھانا پڑے گی اور یہ حربے ان کی سیاست کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ٹریڈ یونین کے نمائندہ، شہریوں کی ایکشن کمیٹیاں اور عوام الناس برملا عمران خان کے دھرنے کی سیاست پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں لیکن خان صاحب تو اپنے ذاتی مقاصد کے لئے یہ کھیل رچا رہے ہیں، انہیں عوامی مشکلات اور تحفظات کی کوئی پرواہ نہیں اس لئے اب بھی انہیں کہتے ہیں کہ وہ اس طرح کی سیاست سے باز رہیں اور عوام کو اور پاکستان کے سیاسی کلچر کو مشکلات میں نہ ڈالیں اس سے انہیں کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ رکن قومی اسمبلی دانیال عزیز نے کہا کہ ایک طرف عمران خان سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کا خیرمقدم کر رہے ہیں جبکہ دوسری جانب الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہونے سے انکاری ہیں۔ کیس عدالت میں ہے اور احتجاج خان صاحب سڑکوں پر آ کر اسلام آباد کو بند کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں اور دوسری جانب کالعدم تنظیموں کے مسلح تربیت یافتہ کا رکن مانگ رہے ہیں ان سب حربوں سے خان صاحب چاہتے کیا ہیں۔ عمران کا نام ہم نے طالبان خان نہیں رکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان اور انکے حواریوں سے کہتا ہوں کہ وہ تعمیز کو ملحوظ خاطر رکھیں اور زبان کو لگام دیں ورنہ زبان ہم بھی رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پانامہ میں عمران خانٗ جہانگیر ترین اور عمران خان کی بہنوں کے نام آئے‘ زکواۃ کے نام پر اکٹھا کیا پیشہ انہوں نے ڈبویا اور شوکت خانم کے مالیاتی نظام کو بھی افشا نہیں کرنا چاہتے اور ان تمام معاملات سے الیکشن کمیشن کو مطلع نہیں کرتے اور اب تلاشی کی بات آئی ہے تو وہ اسلام آباد بند کرنے کی باتیں کررہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مونس الہی کا نام بھی پانامہ میں سب سے پہلے آیا ہے اس لئے چوہدری پرویز الہی کو بھی سوچ سمجھ کر بات کرنی چاہئے۔ نیازی سروسز عمران خان کی جیب سے نکلی ہے انہیں اس کے جواب دینے کی تیاری کرنی چاہئے۔ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ چیف آف آرمی سٹاف کی مدت ابھی باقی ہے‘ نئے آرمی چیف کے تقرر پر ابھی بات کرنا قبل ازوقت ہے۔ اس حوالے سے بھی فیصلہ مقررہ وقت پر ہی ہوگا۔ خورشید شاہ تو خود جانتے ہیں کہ یہ فیصلے اپنے وقت پر ہی ہوا کرتے ہیں۔ انگریزی اخبار کے صحافی کے خبر کے حوالے سے جو باتیں ہو رہی ہیں وہ من گھڑت ڈھونگ، سراسر جھوٹ اور فریب ہیں۔

مزید :

صفحہ اول -