سپریم کورٹ نے نوٹس بھیجا طلب نہیں کیا ،دھرنوں سے ملک کو نقصان پہنچے گا :نواز شریف

سپریم کورٹ نے نوٹس بھیجا طلب نہیں کیا ،دھرنوں سے ملک کو نقصان پہنچے گا :نواز ...

  

رحیم یار خان (بیورو نیوز،ڈسٹرکٹ رپورٹر،این این آئی،مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ مفادات کیلئے اقتدار میں آنے والے اپنی عاقبت خراب کررہے ہیں ،وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے نوٹس بھیجا ہے ،مجھے طلب نہیں کیا ،دھرنوں سے ملک کو نقصان ہوتاہے۔رحیم یار خان میں اپنے رفقا سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاناما پیپرز میں میرا نام شامل نہیں ہے ،اس حوالے سے سپریم کورٹ نے نوٹس بھیجا ہے ،مجھے طلب نہیں کیا۔انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ کے احکامات کی پیروی کریں گے اور عدالت عظمیٰ میں جواب بھی جمع کرائیں گے۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ دھرنوں سے ملک کو ماضی میں بھی نقصان اٹھانا پڑا ہے اور یہ مستقبل میں بھی ملک کو نقصان ہی پہنچائیں گے،قبل ازیں قومی صحت پروگرام کے اجراء کی تقریب کا افتتاح کرتے ہوئے وزیراعظم نے مستحقین میں قومی صحت کارڈ تقسیم کر کے پنجاب میں اس پروگرام کا باضابطہ آغاز کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ حکومت پچاس نئے ہسپتال بنارہی ہے ٗغریب کو علاج کیلئے اپنا گھر نہیں بیچنا پڑیگا ٗ غریب مریضوں علاج کیلئے تین لاکھ روپے سے زیادہ خرچہ آیا تو بیت المال سے مدد کی جائیگی ٗموٹر وے صرف مسلم لیگ (ن)نے ہی بنائے ہیں ٗ بلوچستان میں اقتصادی انقلاب برپا ہورہا ہے ٗ دہشتگردی کے ناسور سے جلد نجات مل جائیگی ٗملک کا پیسہ عوام کی امانت ہوتا ہے ٗ خیانت کرنا بہت بڑا گناہ ہے ٗعوام کی خدمت کرتے رہیں گے ٗ 2018ء میں ہی جب ہماری حکومت کا وقت پورا ہو گا تو بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم ہو جائیگی ٗسستی بھی ہو گی۔وزیراعظم محمد نوازشریف نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ قومی صحت پروگرام کا آغاز رحیم یار خان میں بھی ہو رہا ہے اور یہ پروگرام بتدریج پورے ملک میں پھیل رہا ہے، 31 دسمبر 2015ء میں یہ پروگرام شروع کیا گیا تھا، اس کے آغاز کو اب 10 ماہ ہو چکے ہیں اور کئی اضلاع میں اس پروگرام کا آغاز ہو چکا ہے، رحیم یار خان میں بھی اس پروگرام کے تحت اڑھائی لاکھ خاندان رجسٹرڈ کئے جا رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ پروگرام ان محروم اور غریب لوگوں کیلئے ہے جو اپنا، اپنے والدین کا اور اپنے بیوی بچوں کا علاج خود کرانے کی استطاعت نہیں رکھتے اور انہیں علاج معالجے کیلئے اکثر قرض لینا پڑتا ہے اور ان کی یہ قرض ادا کرنے کی بھی سکت نہیں ہوتی لیکن اپنے والدین اور بال بچوں کا علاج کرانے کیلئے قرض لینے پر مجبور ہوتے ہیں خواہ اس کیلئے انہیں اپنا گھر بار ہی کیوں نہ بیچنا پڑ جائے، اس عوامی مسئلے کا ہمیں بھرپور ادراک ہے، اپنی وزارت عظمیٰ کے گزشتہ دور میں بھی میں نے گردوں کے علاج کیلئے مہم کا آغاز کیا تھا اور غریبوں کے ڈائیلسز کا پروگرام شروع کیا تھا لیکن بدقسمتی سے بعد کی حکومتوں نے یہ منصوبے جاری نہیں رکھے، کاش ایسا ہو کہ ایسے پروگرام حکومت ختم ہونے کے بعد بھی جاری رہ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ارباب اقتدار اور صاحب حیثیت لوگوں کو ایسے غریب لوگوں کے بارے میں سوچنا چاہئے جو علاج کرانے کی سکت نہیں رکھتے، بالخصوص اگر کسی کو کینسر جیسا موذی مرض لاحق ہو جائے تو اس کے مہنگے علاج کیلئے ان کے پاس پیسے نہیں ہوتے، کسی صاحب حیثیت لوگوں کو سوچنا چاہئے کہ مخلوق خدا کی خدمت کیلئے کیا بندوبست اور اہتمام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں اربوں کھربوں روپے ایسے منصوبوں پر لگائے جاتے رہے جن کا عوام کو براہ راست فائدہ نہیں تھا، ان منصوبوں میں کک بیکس اور کمیشن کھائی جاتی رہیں، 100، 100 ارب کے منصوبے کئی کئی سال چلتے ہیں اور ان پر بے تحاشا پیسہ ضائع کیا جاتا ہے، اس طرح کے حکمران اپنی عاقبت خراب کرتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہاکہ ملک کا پیسہ عوام کی امانت ہوتا ہے اور اس میں خیانت کرنا بہت بڑا گناہ ہے، جب میں اپوزیشن میں تھا تو سوات میں ہم نے کڈنی سنٹر بنایا ٗ یہ ہسپتال میرے نام پر قائم کیا گیا جس پر میں ان کا شکر گزار ہوں، ہسپتال کے افتتاح کے موقع پر مجھے بہت سے بچے، بوڑھے، عورتیں اور جوان ملے جن کا مفت ڈائیلاسز ہو رہا تھا، مجھے بتایا گیا کہ وہ اس سہولت سے بہت خوش ہیں ٗوزیراعظم نے اس موقع پر تقریب میں موجود 32 سال کے ایک نوجوان کا ذکر کیا جس کے دونوں گردے فیل ہو چکے ہیں اور اس کے ڈائیلاسز ہو رہے ہیں ٗ وزیراعظم نے کہا کہ انشاء اللہ اس کا علاج ہو گا اور اس کو نیا گردہ بھی لگایا جائیگا۔ انہوں نے اس نوجوان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسے ہفتے میں دو مرتبہ علاج کیلئے ہسپتال آنا پڑتا تھا اور اس کے خاندان کے پاس اتنے پیسے بھی نہیں کہ وہ علاج کیلئے چکر لگا سکیں تو ایسے میں وہ علاج کیسے کرائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے لوگوں کا خیال نہ کرنا بہت بڑی زیادتی ہے اس لئے ہمیں اس طرف توجہ دینی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کے بارے میں جتنا پیسہ بھی لگانا ضروری ہو لگایا جائے، حکمران آتے جاتے رہتے ہیں اور ہر حکومت کو مریضوں کے علاج کیلئے ایسے پروگرام پر توجہ دینی چاہئے، بدقسمتی سے پاکستان میں ایسی بیماریاں ہیں جو ترقی یافتہ ممالک میں کم ہیں اس لئے ہم نے ان کے علاج کیلئے خاص اہتمام کیا ہے اور اس پروگرام کیلئے وزیر برائے نیشنل ہیلتھ ریگولیشنز سائرہ افضل تارڑ اور مریم نواز نے ڈیڑھ سال سے بہت محنت کی ہے جس پر میں ان کا ممنون ہوں۔ انہوں نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس پروگرام کیلئے فنڈز فراہم کئے، صحت کے پروگراموں کیلئے آدھا بجٹ بھی خرچ کرنا پڑے تو کرنا چاہیے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس پروگرام کی مانیٹرنگ کیلئے ذمہ داریاں تفویض کی گئی ہیں اور اس بات کا پورا خیال رکھا جائیگا کہ یہ پروگرام صحیح طریقے سے کام کرے اور مریض مطمئن ہوں، گھر جانے سے پہلے مریضوں سے ان کے علاج معالجے کے حوالے سے اطمینان کیا جائیگا اس پروگرام کے تحت ہر قسم کی بیماری کا علاج کیا جائے گا، ان میں دل کے امراض، انجیو پلاسٹی، ہارٹ سرجری، بائی پاس، ہیپاٹائٹس اے ، بی سی، کینسر، شوگر، جل جانے کی صورت میں علاج معالجہ اور زچہ بچہ کے علاج کی سہولیات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 3 لاکھ تک کا خرچہ حکومت ادا کرے گی لیکن اگر اس سے زیادہ بھی کسی بیماری کے علاج کیلئے خرچہ آئے گا تو حکومت نے اس کا بھی انتظام کیا ہے اور بیت المال سے اس کیلئے رقم فراہم کی جائے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ سرکاری اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں غریب کو اب اپنی جیب سے علاج نہیں کرانا پڑے گا، مہنگے سے مہنگا علاج بھی سرکاری خرچ پر کرایا جائیگا۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکمرانوں کو ایسے غریب لوگوں کے علاج معالجے کے بارے میں سوچنا چاہئے جن کے پاس رہنے کیلئے گھر تک نہیں اور مزدوری کر کے اپنا گزر اوقات کرتے ہیں، حکمرانوں کو سب سے پہلے اللہ کو اس کا حساب دینا ہو گا، اس لئے میں پوری توجہ اس کام پر لگاؤں گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت قومی صحت پروگرام کے ساتھ ساتھ ملک میں پچاس نئے ہسپتال بنا رہی ہے، یہ ہسپتال پورے ملک میں قائم کئے جائیں گے، ان کی تعمیر جلد شروع ہونے والی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہسپتال بیماروں اور غریبوں کے علاج کیلئے بہت کارآمد ثابت ہونگے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اسلام آباد، مظفر آباد، کوٹلی، کوئٹہ، سکردو، رحیم یار خان میں اس پروگرام کا آغاز ہو چکا ہے اور 3 لاکھ 90 ہزار خاندان انرول ہو چکے ہیں، لورالائی، خانیوال اور لسبیلہ میں بھی انرولمنٹ کا کام شروع ہو چکا ہے اس کے بعد اس پروگرام کا دائرہ مزید اضلاع تک بڑھایا جائے گا، اس پروگرام میں اگر کوئی خامیاں سامنے آئیں تو ان کو بھی دور کیا جائے گا۔وزیراعظم نے کہاکہ وہ مظفر آباد، کوئٹہ اور اسلام آباد میں اس پروگرام کے آغاز کیلئے خود گئے ، کوٹلی اور سکردو نہیں جا سکے ہیں اور وہاں بھی خود جائیں گے اور ان مریضوں سے بھی ملیں گے جنہوں نے علاج کرایا ہے تاکہ ان کی صحت اور خیریت دریافت کر سکیں اور اس پروگرام کے حوالے سے بھی اطمینان کر سکیں ۔ وزیراعظم نے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا بھی شکریہ ادا کیا اور انہیں عوامی فلاح و بہبود بالخصوص صحت کے شعبے میں ذاتی نگرانی کرنے پر شاباش دی۔ انہوں نے بلوچستان کے وزیراعلیٰ کو بھی شاباش دی جو قومی صحت پروگرام میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں۔ وزیراعظم نے آزاد کشمیر کے وزیراعظم اور گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ کو شاباش دی۔ انہوں نے عوام کو بتایا کہ وہ اپنی اس پروگرام کے حوالے سے کوئی بھی شکایت نادرا کے قائم کردہ ٹول فری نمبر 8500 پر کر سکتے ہیں، ان کی شکایت کا فوری تدارک کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ میں آج سیاسی گفتگو کیلئے یہاں نہیں آیا اور اس معاملے پر سیاست بھی نہیں ہونی چاہئے کیونکہ یہ وہ کام ہے جن کی عوام کو اشد ضرورت ہے اور یہ وہ خدمت ہے جو ہر قیمت پر کی جانی چاہئے، عوامی فلاح و بہبود کیلئے کام کرنا میرا سب سے پہلا فرض ہے، ہمیں ہمارے دین اور ہمارے نبی کریمؐ نے اس خدمت کو بجا لانے کا حکم دیا ہے، اس لئے ہم اس میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔ وزیراعظم نے قومی صحت پروگرام کی روح رواں سائرہ افضل تارڑ، مریم نوازشریف کے علاوہ مشیر صحت پنجاب خواجہ سلمان رفیق کی کاوشوں کو بھی سراہا۔ وزیراعظم نے کہا کہ موٹروے رحیم یار خان پہنچنے والی ہے اس پر کام کا آغاز ہو چکا ہے۔ ملتان سے سکھر موٹروے پر کام جاری ہے جس کے راستے میں رحیم یار خان آتا ہے، کراچی حیدر آباد موٹروے پر بھی کام شروع ہو چکا ہے اس کے بعد اگلے حصوں پر بھی کام شروع ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ رحیم یار خان کے عوام کو موٹروے سے بھرپور فائدہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ اپنے دور میں موٹرویز تعمیر کی ہیں کسی اور پارٹی اور وزیراعظم یا کسی ڈکٹیٹر نے یہ کام نہیں کیا۔ اسلام آباد سے لاہور اور اسلام آباد پشاور موٹروے بھی ہم نے بنائی اور اسے کراچی تک لیکر جائیں گے، بلوچستان میں بھی سڑکوں کا جال بچھ رہا ہے، خیبر پختونخوا میں حسن ابدال سے مانسہرہ اورخنجراب تک موٹروے بھی ہم بنا رہے ہیں، یہ ملک کی بہت بڑی خدمت ہے، موٹروے سے فاصلے کم ہوتے ہیں اور فاصلے کم ہونے سے غربت، جہالت اور پسماندگی ختم ہو گی اور ملک کے مختلف حصوں کے عوام ایک دوسرے کے قریب آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ریلوے کی سروس کو بھی بہتر بنایا ہے تین سال پہلے ریلوے کا کیا حال تھا، آج یہ بہت بہتر ہو چکی ہے، قومی ایئر لائنز پی آئی اے کو بھی بہتر بنایا جا رہا ہے اور ہم پاکستان کی خدمت کا کام سرانجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے عوام کو یاد دلایا کہ جب مسلم لیگ (ن) نے حکومت سنبھالی تو بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی صورتحال کیا تھا ٗآج ملک میں بجلی کی پیداوار کے کئی منصوبے شروع ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے کسی حکمران کو اس کا خیال کیوں نہیں آیا اور دہشت گردی اور بجلی کے بحران سمیت بڑے بڑے مسئلے ہمارے لئے کیوں چھوڑے گئے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کیخلاف فیصلہ کن جنگ کا فیصلہ ہم نے کیا، اس جنگ میں پولیس، فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوانوں اور افسروں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے اور ان قربانیوں کی بدولت ملک میں انشاء اللہ دہشتگردی کا خاتمہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے حالات کو بھی ہم نے ٹھیک کیا، پاکستان کی سٹاک مارکیٹ آج دنیا کی پانچ ترقی یافتہ سٹاک مارکیٹس میں شمار ہوتی ہے۔ پاکستان کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر جتنے آج ہیں اتنے پہلے کبھی نہیں تھے، مہنگائی کم ہو گئی ہے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی آئی ہے ٗ اللہ تعالیٰ نے برکت عطا کی ہے کیونکہ جب نیک نیتی اور دلوں میں خلوص ہو تو اللہ برکت ڈالتا ہے ٗ وزیراعظم نے کہاکہ یہ موٹروے 2019ء میں مکمل ہو گی ٗ 2018ء میں ملک میں نئے انتخابات ہونگے۔ 2018ء میں ہی جب ہماری حکومت کا وقت پورا ہو گا تو بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم بھی ہو جائے گی اور سستی بھی ہو گی۔

مزید :

صفحہ اول -