خیبرپختونخوا کے نصاب تعلیم میں تبدیلیوں پر تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے اختلافات

خیبرپختونخوا کے نصاب تعلیم میں تبدیلیوں پر تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے ...

  

جماعت اسلامی کے پی کے حکومت سے علیحدگی کے اشارے تو کئی دفعہ دے چکی ہے، اب پھر ایک اشارہ تو دیا ہے لیکن عملاً علیحدگی ہوگی یا نہیں، اس بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ یہ تو آپ کو معلوم ہے کہ خیبر پختونخوا کی حکومت ایک مخلوط حکومت ہے جس کی سینئر پارٹیز تحریک انصاف ہے، جماعت اسامی اس حکومت میں شریک ہے، ایک تیسری جماعت قومی وطن پارٹی بھی اس حکومت کا حصہ ہے جس کے سربراہ آفتاب شیرپاؤ ہیں۔ قومی وطن پارٹی کو ایک زمانے میں حکومت سے نکال دیا گیا تھا، الزام یہ لگایا گیا تھا کہ اس کے ایک وزیر کرپشن میں ملوث ہیں معلوم نہیں یہ الزام درست تھا یا نہیں، لیکن ایکشن لے لیا گیا، البتہ حیرت اس وقت ہوئی جب چند ماہ بعد اس جماعت کو دوبارہ شریک حکومت کرلیا گیا۔ اس کی وجہ یہی ہوسکتی ہے کہ جن وزیر صاحب پر رشوت ستانی کا الزام تھا وہ دریائے کابل میں نہاکر پاک صاف ہوگئے ہوں اور انہوں نے رشوت سے توبہ کرلی ہو۔ یہ تو ہو نہیں ہوسکتا کہ جو جماعت پورے ملک میں رشوت ستانی کے خلاف پرچم اٹھائے پھرتی ہو، وہ اپنے صوبے میں رشوت اور رشوت خوروں کو برداشت کرے، اس لئے ہمارا گمان ہے کہ قومی وطن پارٹی کے جس وزیر کو دوبارہ شریک حکومت کیا گیا وہ ضرور رشوت ستانی سے نہ صرف توبہ تلہ کرچکا ہوگا بلکہ اگر اس نے زندگی میں کبھی یہ گناہ کیا بھی تھا تو اب اس کی بخشش کیلئے توبہ واستغفار کر رہا ہوگا۔ یہ قومی وطن پارٹی کی بات یوں ہی درمیان میں آگئی اصل میں ہم تذکرہ جماعت اسلامی کا کرنا چاہ رہے تھے جو صوبے میں تحریک انصاف کی جونیئر پارٹنر ہے۔ چند ماہ قبل خیبر بینک کے سربراہ نے جماعت اسلامی کے وزیر خزانہ پر بعض الزامات لگا دیئے تھے جو درست تھے یا غلط، ہمیں ان سے غرض نہیں البتہ ہم نے پہلی مرتبہ سنا، پڑھا اور دیکھا کہ ایک سرکاری بینک کے سربراہ نے اپنے ہی وزیر خزانہ کے خلاف اخبارات میں الزامات پر مبنی لمبا چوڑا اشتہار شائع کرا دیا ہو (قارئین محترم میں سے اگر کسی کو ایسے کسی واقعہ کا علم ہو، تو ضرور بتائیں، ہمیں اپنے عجز معلومات کا پہلے سے اعتراف ہے) وزیر خزانہ نے ان الزامات کا جواب دیا اور انہیں غلط قرار دیا، لیکن اشتہار چھپوانے والے اپنے مؤقف پر ڈٹے رہے اور استعفے کی دھمکیوں تک نوبت بھی آئی۔ وزیر خزانہ نے بھی الزام واپس نہ لینے کی صورت میں استعفا دینے کا اعلان کیا تھا، اب غالباً الزام واپس ہوچکے ہیں اور یہ معاملہ طے پاگیا ہے لیکن درمیان میں ایک نئی سخن گسترانہ بات آپڑی ہے اور وہ یہ کہ صوبے میں نصاب تعلیم میں ممکنہ تبدیلی، میگا پراجیکٹس میں سست روی اور بعض دوسرے معاملات میں تحریک انصاف اور جماعت اسلامی میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں اور ان اختلافات سے ایسے اشارے ملے ہیں کہ شاید جماعت اسلامی صوبے کی حکومت سے الگ ہوجائے۔ گویا اب ایک وزیر کے استعفے یا احتجاج کا معاملہ نہیں، پوری جماعت کی علیحدگی کا مسئلہ سامنے آگیا ہے۔ جماعت اسلامی جب تحریک انصاف کے ساتھ شامل حکومت ہوئی تھی تو دونوں جماعتوں کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تھا، جس پر عمل نہ ہونے کی صورت میں جماعت اسلامی حکومت سے الگ ہوسکتی ہے۔ جماعت اسلامی کو شکایت ہے کہ صوبے کا نصاب تعلیم غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کے زیر اثر بنایا جاتاہے کیونکہ یہ تنظیمیں عطیات دیتی ہیں۔ عطیات دینے والی تنظیمیں نصاب میں اپنی مرضی کے مضامین بھی شامل کرانے کی خواہاں ہوتی ہیں جن پر جماعت اسلامی کو اعتراض ہے اب اس کا ایک حل تو یہ ہے کہ عطیات لینے سے انکار کردیا جائے اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر این جی اوز کی بات تو ماننی پڑے گی کیونکہ جو عطیات دیتے ہیں ان کے پیش نظر بھی کچھ مقاصد ہوتے ہیں اور وہ یونہی بیٹھے بٹھائے عطیہ نہیں دے دیتے یا انہیں خواب نہیں آتا کہ خیبر پختونخوا کو تعلیم کی بہتری کیلئے عطیہ دینا ہے۔ یہ عطیات مشروط ہوتے ہیں اور اگر بات نصاب تعلیم کی ہو تو پھر ان کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی مرضی کے مضامین نصاب میں شامل ہوں اور وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ ایسے مضامین نصاب سے نکال دیے جائیں جو ڈونرز کے مفادات سے متصادم یا ان کے مقاصد کو پورے نہیں کرتے۔ جماعت اسلامی ان مضامین پر معترض ہے جو صوبے کے نصاب تعلیم میں این جی اوز کی مرضی کے مطابق شامل کئے جا رہے ہیں۔ جماعت اسلامی بعض میگا پراجیکٹس کی سست روی سے بھی شاکی ہے۔ دونوں جماعتوں کے درمیان مخلوط حکومت میں شمولیت کے مسئلے پر جو معاہدہ ہوا تھا اس پر وزیراعلیٰ پرویز خٹک اور اس وقت جماعت اسلامی کے صوبائی امیر پروفیسر ابراہیم نے دستخط کئے تھے۔ جماعت اسلامی کے حلقوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دونوں جماعتوں میں اختلافات موجود ہیں ان اختلافات کی تصدیق اس تحریر کے راقم کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ایک کالم نگار دوست نے بھی کی جو بنیادی طور پر تو سیاسی کارکن ہیں اور کئی جماعتوں میں باقاعدہ رکن کی حیثیت سے شامل رہے ہیں لیکن اس وقت وہ زیادہ توجہ کالم نگاری پر دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے گزشتہ دنوں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سے ان کے زمان پارک کے گھر میں ایک طویل ملاقات کی تھی جس میں جماعت اسلامی کے ذکر پر عمران خان نے اپنی اس اتحادی جماعت کے متعلق کوئی اچھے الفاظ استعمال نہیں کئے بلکہ جماعت کی قیادت کے بارے میں ایک ایسا سخت لفظ استعمال کیا جس کے لکھنے پر کالم نگار دوست کو تو کوئی اعتراض نہیں تھا تاہم جماعت اسلامی کی قیادت کے احترام کی وجہ سے یہ لفظ استعمال کرنے سے گریز کیا جارہا ہے۔ اس کالم نگار دوست نے عمران خان سے ملاقات کے بعد امیر جماعت اسلامی سراج الحق سے ملاقات کی اور انہیں جماعت کے بارے میں عمران خان کے تاثرات سے آگاہ کیا تو انہوں نے بھی کچھ اچھے الفاظ میں ان کا ذکر نہیں کیا ایسے میں اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ اتحاد اگر چلتا رہا تو مجبوری کے تحت چلے گا ورنہ دونوں جماعتوں کی قیادت کو ایک دوسرے سے گلے شکوے ہیں البتہ اتنا ہے کہ اگر مجبوری کا یہ اتحاد چلتا بھی رہا تو بھی اگلے انتخابات تک ہے، انتخابات میں دونوں جماعتوں کے راستے الگ ہوں گے اور عین ممکن ہے اس وقت جماعت اسلامی ان جماعتوں کے ساتھ کھڑی نظر آئے جنہیں اس وقت اس نے نقد و نظر کی سان پر کس رکھا ہے۔

مزید :

تجزیہ -