رئیل اسٹیٹ سیکٹر پر یکم جولائی کے بعد عائد تمام ٹیکس واپس لیے جائیں:لاہورچیمبر

رئیل اسٹیٹ سیکٹر پر یکم جولائی کے بعد عائد تمام ٹیکس واپس لیے ...

  

لاہور(کامرس رپورٹر) حکومت ریئل اسٹیٹ سیکٹر پر عائد وہ تمام ٹیکسز واپس لے جو یکم جولائی 2016ء کے بعد نافذ کیے گئے تھے اور ٹیکسوں کی شرح 30جون کی سطح پر واپس لائی جائے۔ یہ مطالبہ لاہور چیمبر کے نائب صدر محمد ناصر حمید خان اور ڈی ایچ اے اسٹیٹ ایجنٹس ایسوسی ایشن کے صدر میجر (ر) محمد رفیق حسرت کی سربراہی میں تیس رْکنی وفد کے درمیان ملاقات میں پیش کیا گیا۔ اجلاس کے شرکاء نے مطالبہ کیا کہ سٹاک ایکسچینج کی طرز پر ریئل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو ایمنسٹی دی جائے تاکہ سرمایہ کاری ملک میں رہے اور پراپرٹی خریدنے والوں کو سورس ظاہر کرنے میں آسانی ہو، صوبے اور وفاق ایک ہی ویلیوایشن کے تحت ٹیکس جمع کریں، ایف بی آر ٹیبل ڈی سی ریٹ سے صرف دس فیصد بڑھاکر قبول کرے، ٹیکسوں کی تعداد میں کمی کرکے تین سال کے لیے فریز کردیا جائے، 30جون تک جو پراپرٹی مالکان دو سال کا عرصہ پورا کرچکے ہیں ان پر زیرو گین ٹیکس کا اطلاق ہو، ودہولڈنگ کی چھوٹ چالیس لاکھ روپے سے بڑھاکر ساٹھ لاکھ روپے کی جائے اور پنجاب حکومت سی وی ٹی اور سٹیم ڈیوٹی کو ضم کرکے صرف تین فیصد سنگل ٹیکس وصول کرے۔

، گین ٹیکس کے لیے تین سال کے بجائے دو سال کا عرصہ مقرر کیا جائے۔ لاہور چیمبر کے نائب صدر محمد ناصر حمید خان نے کہا کہ ریئل اسٹیٹ ایک بہت متحرک سیکٹر اور غیرملکی سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے لیکن غیردوستانہ پالیسیوں اور بھاری ٹیکسوں کی وجہ سے یہ بحران سے دوچار ہے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت کے بعد روزگار فراہم کرنے والا یہ دوسرا بڑا شعبہ ہے ، اگر اس کا بحران ختم نہ ہوا تو بے روزگاری میں بھاری اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تاجرو ں کی سپورٹ کے بغیر معاشی اہداف حاصل نہیں کرسکتی لہذا ان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرے۔

مزید :

کامرس -