چودھری شجاعت چار سال کیلئے مسلم لیگ(ق) کے صدر منتخب

چودھری شجاعت چار سال کیلئے مسلم لیگ(ق) کے صدر منتخب

  

اسلام آباد،لاہور(اے این این) چودھری شجاعت حسین کو پاکستان مسلم لیگ کی جنرل کونسل نے چار سال کیلئے پارٹی کا صدر منتخب کر لیا۔ اسلام آباد میں منعقدہ اجلاس میں چاروں صوبوں کے علاوہ فاٹا اور بیرون ملک سے جنرل کونسل کے ارکان نے پرجوش شرکت کی۔ پاکستان مسلم لیگ پنجاب کے نومنتخب صدر، سینئرمرکزی رہنما و سابق نائب وزیراعظم چودھری پرویزالٰہی نے بعد ازاں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکمرانوں سے پاکستان اور فوج کو بچانے کیلئے تمام اپوزیشن جماعتیں عمران خان کا ساتھ دیں، یہ لمحہ فکریہ ہے کہ ہمارے حکمران پاکستان، کشمیریوں اور فوج کے مخالف مودی اور مادروطن کے دیگر دشمنوں کی زبان بولتے ہیں، حکومت نے اپوزیشن کے ٹی او آر نہ مان کر غلط کیا اور اب پانامہ لیکس کیس کہیں اور جا چکا ہے۔ انہوں نے جنرل کونسل کے ارکان سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان نے ہمیشہ پاکستان اور مسلم لیگ کا پرچم سربلند رکھا ہے۔ چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ عمران خان اس وقت نہایت اہم کردار ادا کر رہے ہیں، پاکستان کو بچانے کیلئے کسی دعوت نامے کی ضرورت نہیں، دعوت نامہ تو ولیمہ پر دیا جاتا ہے، عمران خان اپنی ذات کیلئے نہیں ہماری طرح پاکستان اور اس کے اداروں کے تحفظ کی بات کرتے ہیں، اپوزیشن جماعتیں اور عمران خان مل کر قوم اور غریب عوام کو ن لیگ کے ظلم سے بچائیں۔۔ اس موقع پر سینیٹر کامل علی آغا، محمد بشارت راجہ، چودھری ظہیرالدین، نصیر مینگل، سردار عبدالرزاق، ڈاکٹر راج شاہین، میاں عمران مسعود، سید محمود ہاشمی، ڈاکٹر عظیم الدین لکھوی، امتیاز رانجھا اور غلام مصطفی ملک نے قراردادیں پیش کیں جن کے تحت چودھری شجاعت حسین کو آئین کے آرٹیکل 52 کے تحت مجلس عاملہ کے تمام اختیارات دیے گئے، کشمیری عوام پر بھارتی ظلم و جبر، کنٹرول لائن کی بھارتی خلاف ورزیوں، ن لیگ میڈیا سیل کی جانب سے فوج کے خلاف خبریں لگوانے اور پانامہ لیکس پر اپوزیشن کے ٹی او آرز نہ ماننے کی پرزور مذمت کی گئی۔ علاوہ ازیں کسانوں کی بدحالی دور، زرعی ٹیکس ختم اور بھارت سے تجارت بند کرنے کے حق میں بھی قراردادیں منظور کی گئیں۔

مزید :

صفحہ آخر -