ملک میں موجود مساجد کے افغان اماموں اور اساتذہ کو عہدوں سے ہٹانے کی سفارش، خفیہ رپورٹ میں انکشاف

ملک میں موجود مساجد کے افغان اماموں اور اساتذہ کو عہدوں سے ہٹانے کی سفارش، ...

  

لاہور ( رپورٹ : محمد یو نس با ٹھ )ملک کی تمام مساجد اور مدرسوں میں موجود تمام افغانی امام اور اساتذہ کو فوری طور پر عہدوں سے ہٹانے کی سفارش کر دی گئی، افغان مہاجرین سے متعلق حکومتی خفیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کوئی شخص افغان کو دکان، مکان، ہوٹل یا کوئی جائیداد کرایہ پر نہیں دے گا جبکہ پنجاب میں کالعدم تنظیموں کے کارکن بھرپور طریقے سے سر گرم پائے گئے اور خفیہ مقامات پر70 اجلاس بھی کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا کہ وزارت داخلہ کو بھجوائی گئی خفیہ رپورٹ میں 8 انتہائی اہم تجاویز شامل کی گئی ہیں جبکہ کہا گیا ہے کہ تمام افغان مہاجرین کو 31 دسمبر 2016 تک پاکستان سے ہر صورت واپس ان کے ملک بھجوانا ہو گا جبکہ ریسٹورنٹس، دکانوں اور پلازوں سمیت تمام ایسے کاروباری مراکز جو افغانی چلا رہے ہیں فوری طور پر بند کر دئیے جائیں، نیز تمام افغانیوں کے ڈرائیونگ لائسنس چیک کئے جائیں گے جبکہ یہ ٹاسک سپیشل برانچ، محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اور ٹریفک پولیس کو سونپا جائے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ افغان مہاجرین کے حوالے سے رواں سال کے آخری 6 ماہ مے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنا ہوں گے۔ دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ رپورٹ کو دیکھتے ہوئے حساس اداروں نے ہنگامی طور پر اقدامات شروع کر دئیے ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ قانون نافظ کرنے والے ادارے نے 90 صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ مرتب کی ہے جس پر جلد ہی اعلیٰ عہدیداروں کو بریفنگ دی جائے گی۔ اس رپورٹ کے ساتھ 3 صفحات پر تجزیات اور سفارشات بھی شامل ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ، آئی جی پنجاب پولیس پنجاب مشتاق سکھیراسمیت دیگر متعلقہ حکام رپورٹس میں تبدیلیاں کرتے رہے جبکہ وفاقی وزارت داخلہ کو بھجوائی جانے والی رپورٹس میں کئی کالعدم تنظیموں کے کارکنوں کے نام شامل ہی نہیں چنانچہ ایک انتہائی اہم حساس ادارے نے پنجاب کی طرف سے ان بوگس رپورٹس کو بے نقاب کیا اور پھر کئی نام وزارت داخلہ کی فہرست میں دوبارہ شامل کئے گئے۔ مزید بتایا گیا کہ گزشتہ 4 ماہ کے دوران کالعدم تنظیموں کے70 سے زائد خفیہ اجلاس بھی ہوئے، ان اجلاسوں کے حوالے سے متعلقہ سکیورٹی اداروں نے رپورٹس تو مرتب کیں اور اعلیٰ عہدیداروں کو بھی آگاہ کیا، تاہم سیاسی پشت پناہی کے باعث کوئی کارروائی نہیں ہوئی، اس دوران کالعدم تنظیموں کی طرف سے بعض سیاسی رہنماؤں کو فون کر کے اپنے معاملات ’کلےئر‘ بھی کروائے گئے، چنانچہ سکیورٹی اداروں نے اس حوالے سے خفیہ طور پر مانیٹرنگ کی اور باقاعدہ رپورٹ بھی مرتب کر لی، جس کی سفارشات میں کہا گیا کہ ایسے سیاستدانوں کے خلاف کارروائی بھی انتہائی ضروری ہے جو کالعدم تنظیموں کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ ادھر صوبائی محکمہ داخلہ کے احکام نے کہا کہ پنجاب میں کالعدم تنظیموں کی سرگرمی کو مانیٹر کیا جا رہا ہے جبکہ فورتھ شیڈول سے نام پولیس حکام کی سفارش پر ہی نکالے یا شامل کئے جاتے ہیں۔دوسری جانب کالعدم تنظیموں نے بعض سیاستدانوں کے ساتھ اپنے گہرے روابط کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فورتھ شیڈول سے کئی نام خارج کروا لئے۔

مزید :

صفحہ آخر -