672ڈکتی اور 7937چوری کی وارداتوں نے پنجاب پولیس کی کارکردگی کا پول کھول دیا

672ڈکتی اور 7937چوری کی وارداتوں نے پنجاب پولیس کی کارکردگی کا پول کھول دیا

  

لاہور(بلال چودھری)کروڑوں روپے کا بجٹ رکھنے والی پنجاب پولیس کے صوبہ بھرمیں تھانہ کلچر کو تبدیل کرنے کے بلند بانگ دعوے کھوکھلے نکلے۔رواں سال کے ماہ اگست تک پنجاب بھر میں 672ڈکیتی اور 7937چوری کی وارداتوں نے پولیس کارکردگی کا پول کھول دیاہے جبکہ 60فیصدڈکیتی و چوری کے واقعات کو شہریوں نے پولیس کے نا مناسب رویہ سے خوف زدہ ہو کر تھانوں میں رپورٹ ہی نہیں کی۔دوسری جانب کارکردگی دکھانے کے لئے پولیس اہلکاروں کی جانب سے ڈکیتی کی وارداتوں کو چوری میں زبردستی تبدیل کرنے کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ سے صوبہ بھر میں ڈکیتی کی اصل وارداتوں کی تعدادکا سراغ لگانا خود پولیس حکام کے لئے بھی مشکل ہو گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق پنجاب پولیس کی جانب سے صوبہ بھر میں تھانہ کلچر کو تبدیل کر کے شہریوں کو ان کے گھر کی دہلیز پر انصاف فراہم کرنے کے بلند بانگ دعوؤں کا پول پنجاب بھر میں چوری و ڈکیتی کی وارداتوں کے رپورٹ نہ کئے جانے نے کھول دیا ہے ۔ذرائع کے مطابق جب بھی کسی شہری کے ساتھ ڈکیتی کی واردات ہوتی ہے تو پولیس اہلکار اول تو تھانہ میں ابتدائی رپورٹ درج کرنے میں کئی گھنٹے لگاتے ہیں بعد ازاں شہری کو مقدمہ کے اندراج کے لئے مبینہ طور پر ڈکیتی کی واردات کو چوری میں تبدیل کرنے کے لئے دباو ڈالا جاتا ہے اور واردات کو چوری کی شکل دے کر ایف آئی آر درج کر لی جاتی ہے جس کی وجہ سے ایک دفعہ واردات کا شکار ہونے والا شہری دوسری بار واردات ہونے پر تھانہ نہ جانے میں ہی عافیت سمجھتا ہے۔ذرائع کے مطابق پنجاب بھر میں 60فیصد ہونے والی ڈکیتی کی واداتوں کو شہری پولیس اور تھانہ کلچر سے خائف ہو کر رپورٹ ہی نہیں کرتے جبکہ جو شہری انہیں رپورٹ کرتے ہیں ان وارداتوں میں سے 40فیصد ڈکیتی کی وارداتوں کو چوری کی وارداتوں میں تبدیل کر کے مقدمات درج کئے جاتے ہیں ۔پنجاب پولیس کے اپنے اعداد و شمار بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں ۔ پنجاب پولیس کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق پنجاب بھر میں رواں سال ماہ اگست تک صرف 672ڈکیتی کی وارداتیں ہوئیں جبکہ چوری کی وارداتیں 7937ہوئیں ۔ڈکیتی کی672 وارداتوں میں سے64کو کینسل کر دیا گیا جبکہ 438وارداتوں کے چالان پیش کئے گئے ،44وارداتوں کو پولیس ٹریس کرنے میں ناکام رہی اور 126وارداتوں کی تاحال تفتیش کی جا رہی ہے۔دوسری جانب 7937چوری کی وارداتوں میں سے 518کو کینسل کر دیا گیا ،6462کے چالان پیش کئے گئے اور2792وارداتوں کی تفتیش جاری ہے جبکہ ان وارداتوں میں سے 1165کو تاحال پولیس ٹریس نہیں کر سکی ہے۔ذرائع کے مطابق سٹریٹ کرائم ،گلیوں اور اہم شاہراہوں پر ڈکیتی کی وارداتوں میں بھی بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے ۔پولیس کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق رابری کی وارداتیں پنجاب بھر میں رواں سال کے ماہ اگست تک 9170رپورٹ کی گئیں جن میں سے 392کو کینسل کر دیا گیا جبکہ 5158چالان عدالتوں میں پیش کئے گئے اور 1076کیسز کو پولیس ٹریس کرنے میں ناکام جبکہ 2544کیسز تاحال زیر تفتیش ہیں۔

مزید :

صفحہ آخر -