وفاق اب تک مغربی روٹ پر صوبائی حکومت اور سیاسی جماعتوں کو مطمئن نہیں کرسکی ،اسد قیصر

وفاق اب تک مغربی روٹ پر صوبائی حکومت اور سیاسی جماعتوں کو مطمئن نہیں کرسکی ...

  

پشاور ) سٹاف رپورٹر (سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی اسد قیصرنے کہا ہے کہ صوبے کی تمام سیاسی قوتیں مغربی روٹ کی تعمیر کے حوالے سے یک زبان ہیں اور اس سلسلے میں ہم اپنے دوٹوک مؤقف سے ایک انچ پیچھے نہیں ہوں گے پارلیمانی سطح پر آواز اٹھانے کے ساتھ ساتھ قانونی راستہ بھی اختیار کیا جائے گا کیونکہ اس اہم منصوبے سے ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل وابستہ ہے یہ بات انہوں نے جمعہ کے روز صوبائی اسمبلی میں عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک سے اپنے چیمبر میں اہم ملاقات کے دوران کی ۔ملاقات میں پاک چین اقتصادی راہداری اور مغربی روٹ کی تعمیر سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال اور بعض اہم فیصلے بھی کئے گئے ۔سپیکر اسد قیصرنے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری قومی سطح کا ایک اہم منصوبہ ہے اور اس میں چھوٹے صوبوں کو نظر انداز کرنے سے اس کے عوام میں بے چینی اور تشویش پھیلی ہوئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اور اپوزیشن جماعتیں مغربی روٹ کو سی پیک کا مرکزی روٹ بنانے پرمتفق ہیں اور اس ضمن میں وہ خود تمام سیاسی جماعتوں کے صوبائی راہنماؤں کے ساتھ بھر پو رمشاور ت کر رہے ہیں تاکہ اس مسئلے کو وفاقی سطح پر اٹھانے اور صوبے کا مضبوط موقف پیش کرنے کیلئے مشترکہ لائحہ عمل مرتب کیا جاسکے ۔اسد قیصر نے کہا کہ وفاقی حکومت اب تک مغربی روٹ پر صوبائی حکومت اور سیا سی جماعتوں کو مطمئن نہیں کر سکی اور تکنیکی لحاظ سے روٹ کی تعمیر کی وضاحت نہیں کی جارہی ہے انہوں نے کہا کہ ہمیں صرف روڈنہیں بلکہ تمام لوازمات کے ساتھ مکمل مغربی روٹ چاہیئے ۔سپیکر نے کہا کہ قائد تحریک انصاف عمران خان بھی صوبے کے عوام میں پائی جانے والی بے چینی کو دور کرنے اور مغربی روٹ کے حوالے سے خیبر پختونخوا کا موقف پیش کرنے کیلئے اپنا بھر پور کردار ادا کررہے ہیں اور چینی سفیر سے ان کی ملاقات بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اس موقع پر اے این پی کے پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا کہ صوبے کے حقوق کیلئے عوامی نیشنل پارٹی کا مؤقف واضح ہے ۔خیبر پختونخواکو مغربی روٹ سے محروم کرنا ملک کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ پسماندہ صوبوں کو ان کا پورا حق دیناوفاق کی ذمہ داری ہے ۔خیبر پختونخوا اور فاٹا دہشتگردی سے بہت متاثر ہوئے ہیں جس سے معیشت پر بھی برے اثرات پڑے ہیں صوبے میں معاشی سرگرمیوں کو پروان چڑھانے کیلئے مغربی روٹ کی تعمیر ترجیحی بنیادوں پر ناگزیر ہے ۔سردار حسین بابک نے تمام سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کیا کہ صوبے کے حقوق کیلئے وہ کسی بھی مصلحت کا شکار نہ ہوں اور اپنی مرکزی قیادت کو بھی صوبے کے عوام کے تحفظات سے آگاہ کریں تاکہ صوبے کے مفادات کیلئے مشترکہ آواز ااٹھائی جائے ۔ملاقات میں فیصلہ کیا گیا کہ خیبر پختونخوا کو راہداری منصوبے میں اس کا جائز حق دلانے سمیت صوبے کے دیگر حقوق کے لئے حکومت اور اپوزیشن سمیت تمام سیاسی جماعتیں متفقہ جدوجہد کیلئے اپنا بھر پور کردار ادا کریں گی ۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -