تحریک انصاف کی گورنر سندھ اور مصطفیٰ کمال کے خلاف سندھ اسمبلی میں تحریک التواء

تحریک انصاف کی گورنر سندھ اور مصطفیٰ کمال کے خلاف سندھ اسمبلی میں تحریک ...

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر) پاکستان تحریک انصاف نے گورنر سندھ ڈاکٹرعشرت العباد اورمصطفی کمال کی ایک دوسرے پرالزام تراشی کے معاملے پر سندھ اسمبلی میں تحریک التوا جمع کرائی ہے۔تحریک التواجمعہ کو پاکستان تحریک انصاف کے رکن سندھ اسمبلی خرم شیرزمان اور ثمرعلی خان نے سندھ اسمبلی میں جمع کرائی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹرعشرت العباد اورمصطفی کمال نے ایک دوسرے پرسنگین الزامات لگائے، دونوں نے جو الزامات ایک دوسرے پرلگائے ہیں اس سے کراچی سمیت پورے ملک میں امن وامان کی صورتحال متاثرہوئی ہے۔گورنرسندھ اورمصطفی کمال کے الزامات نے واضح کردیا ہے کہ کراچی میں دہشتگردی کا ذمہ دارکون ہے۔تحریک التوا میں کہا گیا کہ 12 مئی اورسانحہ بلدیہ کوبھلایا نہیں جا سکتا، گورنرسندھ اور مصطفی کمال پہلے کیوں خاموش تھے اور گورنرسندھ فوری مستعفی ہوجائیں۔ تحریک التوا میں مطالبہ کیا گیا کہ سپریم کورٹ گورنرسندھ اورمصطفی کمال کو کراچی بد امنی کیس میں شامل تفتیش کرے اور عدالتی کمیشن تشکیل دے کر الزامات کی تحقیقات کرائی جائے۔بعدازاں میڈیا سے بات چیت میں خرم شیرزمان نے کہاکہ کراچی میں دہشت گردی سے متعلق الزامات کی تحقیقات ہونی چاہئے ،الزامات سنگین نوعیت کے ہیں۔سندھ حکومت الزامات کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن قائم کرے۔انہوں نے کہاکہ بلدیہ فیکٹری میں لوگوں کو زندہ جلایا گیا۔لوگ قاتلوں کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں، سانحہ12مئی کو کھلے عام قتل وغارتگری کی گئی۔وفاق عوام کوبتائے گورنر سندھ کا رول کیا ہے۔کراچی میں بھتہ خوری اور دہشت گردی کے باعث جان بحق ہونے والوں کے لواحقین حقائق جاننا چاہتے ہیں سندھ اسمبلی میں بحث کرائی جائے۔ خرم شیرزمان نے کہاکہ سانحہ بلدیہ ،12مئی، عزیز آباد اسلحہ، سانحہ نشترپارک اور کرپشن کے الزامات کی تحقیقات عوامی مطالبہ ہے۔اگرحکومت سندھ نے سنجیدہ نہ لیا تو عدالت جائیں گے۔انہوں نے کہاکہ کراچی میں کرپشن اور دہشت گردی سے متاثر ہونے والوں کو انصاف کی فراہمی تک خاموش نہیں بیٹھیں گے۔خرم شیرزمان نے کہاکہ گورنر اور سابق ناظم کو عدالتی کٹہرے میں لایا جائے۔گورنر نوازشریف کا نمائندہ ہے گورنر پر لگنے والے الزامات کی وفاقی حکومت بھی ذمہ دار ہے۔انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی مک مکا کرکے حکومت کرتی رہے اب سامنے آنے والے الزامات کی تحقیقات کرائی جائے ۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -