رحیم یارخان، دو بھائیوں کو پھانسی کے ایک سال بعد انصاف مل گیا

رحیم یارخان، دو بھائیوں کو پھانسی کے ایک سال بعد انصاف مل گیا

  

رحیم یارخان( صباح نیوز)عدالت سے انصاف ملابھی لیکن مرنے کے بعد ایک سال پہلے قتل کیس میں پھانسی ملنے والے رحیم یار خان کے دو ملزموں کو سپریم کورٹ نے بری کرنے کا فیصلہ سنا دیا۔ ملزم غلام قادر اور غلام سرور کوتیرہ اکتوبر دو ہزار پندرہ میں ہی تختہ دار پرلٹکا دیا گیا تھا عدالت عظمی کی جانب سے بری ہونے کا فیصلہ آنے کے بعد ورثا پولیس کی غفلت کے خلاف احتجاج کرتے رہے۔تفصیلات کیمطابق کسی نے سچ کہا ہے کہ انصاف میں تاخیر ناانصافی کے مترادف ہوتی ہے ،جیل میں انصاف کے لیے ایڑیاں رگڑنے والے رحیم یار خان کے قتل کے ملزم غلام قادر اور غلام سرور کو انصاف ملا بھی تو موت کے بعد۔ سلاخوں کے پیچھے دونوں ملزم اپنی سچائی کو ثابت کرنے کے لیے عمر بھر کوششیں کرتے رہے لیکن اس کوشش میں کامیابی نہ مل سکی،،دونوں ملزموں پر رحیم یار خان کے نواحی علاقہ بستی رانجھے خان میں ہونے والے دو ہزار دو میں قتل کی واردات میں ملوث ہونے کا الزام تھا اس الزام میں ان کے ساتھ چھ دوسرے ملزموں کو بھی شریک کیا گیا تھا لیکن ٹرائل کورٹ نے ان چھ نامزد ملزمان کو بری اور غلام قادر اور غلام سرو ر کو تین تین بار سزائے موت کا حکم دیدیا تھا۔لاہور ہائیکورٹ کے بہاولپور بنچ نے اس فیصلے کو برقرار رکھا جس کے بعد سپریم کورٹ کے جسٹس راجہ ریاض اور جسٹس طارق پرویز نے بھی ان کی سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھا بعد میں جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں فل بنچ نے چھ اکتوبر دو ہزار سولہ کو جب کیس کی سماعت کی تو قتل کے ایک گواہ نے گواہی میں دونوں ملزمان کو قاتل نہیں مانا جس پر عدالت نے از خود نوٹس لیتے ہوئے ملزم غلام قادر اور غلام سرور کو قتل کے الزام سے بری کر دیا بریت کا فیصلہ آنے کے بعد ورثا اور اہلخانہ نے پولیس کی غفلت اور ناقص تفتیش کرنے کے خلاف احتجاج کیا مظاہرین پولیس کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے

مزید :

ملتان صفحہ اول -