طب کی ترقی ،حکومت یہ اقدامات اٹھا سکتی ہے

طب کی ترقی ،حکومت یہ اقدامات اٹھا سکتی ہے
طب کی ترقی ،حکومت یہ اقدامات اٹھا سکتی ہے

  

تحریر: ڈاکٹر زاہد اشرف(تمغہ امتیاز،ڈائریکٹر اشرف لیبارٹریز)

اسلامی علوم وفنون میں طب اسلامی (یونانی)اہم ترین مقام رکھتی ہے۔پاکستان میں مقبول ترین طریقہ علاج بھی طب ہے ،تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو اسکا متبادل ایلوپیتھک کو قرار دینا چاہئے کیونکہ طب اس سے زیادہ قدیمی علاج ہے۔لیکن پاکستان میں طب کی بجائے ایلوپیتھک کو حکومتی سرپرستی زیادہ حاصل ہے۔ ترویج و ترقی طب قیامِ پاکستان کے اہداف میں سے ایک ہے ، اس لئے طب ِاسلامی ( یونانی) کے حوالے سے پاکستانی ریاست و حکومت پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ درج ذیل اقدامات کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کرے۔

1۔ طب کی ترویج و ترقی کو حکومت اپنی ذمہ داری قرار دے اور پھر خلوصِ نیت سے اس سے عہد ہ برآ ہونے کے لئے اپنی تمام تر استعداد و وسائل کو بروئے کار لائے۔

2۔ ترجیحی طور پر حکومت طب کی الگ وزارت قائم کرے یا پھر ایک خود مختار طبی ڈائریکٹوریٹ مرکز اور صوبوں میں قائم کیا جائے جو طب اسلامی ( یونانی) کے ماہرین پر مشتمل ہو۔ ان ڈائریکٹوریٹس کا باقاعدہ ڈھانچہ بنایا جائے اور ان کا سارا عملہ متعلقہ شعبے میں مہارت ، قابلیت اور استعداد کے ساتھ دیانت و امانت کا بھی حامل ہو۔

3۔ طب اسلامی(یونانی ) کے شعبے سے وابستہ افراد کی خدمات حاصل کی جائیں اور تعلیم سے تحقیق تک،رولز کی تیاری سے لے کر قوانین کی تشکیل تک، معائنہ جات اور چھاپوں سے لے کر طبی دوا سازی تک کے جملہ مراحل میں غیر طبی یا کم از کم ایلو پیتھک سے وابستہ حضرات کو تعینات نہ کیا جائے کیونکہ یہ لوگ نہ تو طب کی فلاسفی سے آگاہ ہوتے ہیں اور نہ ہی اس کی اساسات و مبادیات سے۔

4۔ ملک بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں طب کے شعبے قائم کئے جائیں اور ان میں اہل اور تجربہ کار اطباءاور معاون عملے کو تعینات کیا جائے ۔ ہر سرکاری ہسپتال میں ایک اقامتی طبی وارڈ قائم کیا جائے جس میں طبی ادویات سے مریضوں کا علاج معالجہ کیا جائے ۔ مزید برآں ہر ضلعے میں طب اسلامی (یونانی) کا ایک اقامتی ہسپتال قائم کیا جائے۔

5۔ تعلیم طب کے لئے پبلک سیکٹر میں معیاری طبیہ کالجز قائم کئے جائیں جن میں بہترین تدریسی و عملی سہولیات فراہم کی جائیں۔

6۔ پرائیویٹ طبیہ کالجز کو معقول سالانہ گرانٹ دی جائے تاکہ ان کے معیار کو بہتر بنایا جاسکے ۔

طبیہ کالجز کو مالی استحکام دینے کے لئے ضروری ہے کہ ان میں داخلے کی اہلیت پر نظر ثانی کی جائے ۔ چند سال پیشتر میٹرک کی سند سائنس کے ساتھ مشروط نہ تھی۔ اسی طرح دینی مدارس سے ثانویہ/ عالیہ/ عالمیہ کی سند رکھنے والے بھی داخلہ لینے کے اہل تھے ، جس کے نتیجے میں طبیہ کالجز میں آج کی نسبت طلبہ کی زیادہ تعداد حصولِ داخلہ کے لئے رجوع کرتی تھی ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سابقہ اہلیت کی بحالی سے داخلوں میں اضافے سے طبیہ کالجز کو مالی استحکام مل سکے گا۔ البتہ طبیہ کالجز کے نصاب میں سائنسی مضامین کی بنیادی معلومات دینے کا اہتمام لازماً کیا جائے تاکہ میٹرک (آرٹس) او ردینی مدارس کے طلبہ سائنسی اصلاحات و معلومات سے آگہی حاصل کرسکیں۔ دینی مدارس کے طلبہ کا طبیہ کالجز میں داخلہ دو حوالوں سے اہمیت کا حامل ہوگا۔

i۔ ہماری طب کا زیادہ تر علمی ورثہ عربی زبان ہے ۔ دینی مدارس کے طلبہ عربی زبان میں مہارت کے باعث اس سے استفادے کے صرف اہل ہی نہیں ہوں گے بلکہ اپنی استعداد کی بنا پر پرانے طبی ورثے کے اساسات و مبتدیات کی روشنی میں طبی تحقیق میں نمایاں کردار ادا کرسکیں گے۔

ii۔ دینی مدارس کے طلبہ ، حصولِ علم طب کے بعد اپنے روزگار کے لئے کسی کے محتاج نہیں ہوں گے۔ وہ طبابت کو بطورِ پیشہ اپنا کر معاشرے کا ایک نہایت ہی کارآمد حصہ بن جائیں گے ۔ اس سے فرقہ واریت کے عفریت کو زیر دام لانے میں بھی مدد ملے گی اور ان کی معاشی بد حالی کی بنا پر جن ممکنہ خطرات کو ان سے منسوب کیا جاتا ہے ، ان کا سدباب بھی ہوسکے گا۔

ہماری ذاتی رائے میں ، طبیہ کالجز کے مالیاتی استحکام کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ طلبہ سے وصول کی جانے والی قانونی فیسوں میں اضافہ کرکے غیر قانونی ذرائع آمدن کو مسدود کردیا جائے ۔ آج کسی بھی پرائیویٹ تعلیمی ادارے میں نرسری کلاس کی فیس ڈیڑھ ہزار سے کم نہیں ہے ، ایسے میں پیشہ وارانہ طبی تعلیم دینے کے لئے موجودہ فیسیں ایک مذاق سے کم نہیں ہیں۔

7۔ خالص طبی اصولوں اور فلاسفی کے مطابق طبی تحقیق کے لئے مرکز اور صوبوں میں تحقیقی ادارے قائم کئے جائیں اور اس مقصد کے لئے سالانہ بجٹ میں خاطر خواہ رقم مختص کی جائے۔

8۔ طبی دواسازی کا شعبہ ہمارے نظام میں بے حد اہمیت کا حامل ہے۔ خالص اور معیاری دوا کی تیاری کے بغیر ،صحّتی میدان میں کامیابی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ ماہر طبیب کی حذاقت و مہارت بالکل بے نتیجہ ہوگی ، اگر مارکیٹ میں خالص اور معیاری دوا موجود نہیں ہوگی ۔ ایسی ادویات کے حصول کو یقینی بنانے کے لئے ضروری ہے کہ طبی ادویات ، طب اسلامی (یونانی) کے بنیادی اصولوں اور فلاسفی کی روشنی میں طبی ماہرین کی زیر نگرانی تیار کی جائیں۔ یہ ایک بدیہی امر ہے کہ خالص طبی طریق کار کے مطابق تیار کردہ دوا کی جانچ پڑتال کا فریضہ بھی وہی شخص سرانجام دے سکتا ہے جو ماہر ِطبِ اسلامی (یونانی) ہو۔ جس شخص کو طب کی مبادیات آگہی نہ ہو ، جو فلسفہ¿ طب سے روشناس نہ ہو، جو طبی ادویات کی اقسام (dosage formes) سے شناسا نہ ہو، جسے طبی دوا سازی کی اصطلاحات اور طُرقِ تیاری سے واقفیت نہ ہو ، وہ بھلا طبی ادویات کی تیاری کے مراحل اور ان کے تقاضوں کی کیسے چھان بین کرسکے گا، وہ ان کے مطلوبہ تقاضہ ہائے حفظان صحت کو کیسے پرکھ پائے گا ، وہ ان کے ٹیسٹ اور تجزیہ کا فریضہ کیسے بجا لائے گا؟ اس لئے حکومت کو طبی دوا سازی کے لئے ایک ایسا میکا نزم وضع کرنا ہوگا جو طبی ماہرین پر مشتمل ہو اور ہماری رائے میں قومی طبی کونسل سے بہتر کوئی اور فورم اس کام کے لئے نہیں ہوسکتا۔ بنابریں ہماری رائے ہے کہ طبی دوا سازی کی صنعت کو قومی طبی کونسل کے دائرہ اختیار میں لے آنا چاہیے۔

9۔ زائرین ِبیت اللہ کی خدمت اور ان کے علاج معالجے کے لئے ایلو پیتھک کے ساتھ ساتھ دیگر مسلمہ طریقِ ہائے علاج بالخصوص طب ِیونانی سے استفادہ بے حد ضروری ہے ۔ ہمارے عوام کی بھاری اکثریت اپنے ملک میں اسی سے استفادہ کرتی ہے اس لئے حجِ بیت اللہ کے دوران بھی پاکستانی حجاج کو طبی علاج معالجے کی سہولیات بہم پہنچانا حکومت کا بنیادی فریضہ ہے ۔ اس کی انجام دہی کے لئے حکومت کو چاہیے کہ وہ اطباءکو حج میڈیکل مشن کا جزولاینفک بنائے اور ہر سال کم از کم بیس طبیب اور ان کے معاون عملہ کو طبی ادویات کی وافر مقدار کے ساتھ سعودی عرب بھجوائے۔

10۔ یہ امر نہایت ضروری ہے کہ قومی طبی کونسل کو زیادہ باوقار ادارہ بنایا جائے۔ا لحمد للہ موجودہ کونسل اپنے صدر اور ان کی ٹیم کے باعث وقار کی نئی بلندیوں پر فائز ہوئی ہے۔ طبی معاملات کو زیادہ بہتر انداز میں چلانے اور قومی طبی کونسل کے کردار کو مزید فعال کرنے کے لئے اسے زیادہ بااختیار بنانا از حد ضروری ہے۔ وزارتِ صحت کو اس ضمن میں قوانین وضوابط میں تبدیلی کرکے کونسل کے دائرہ اختیار ، کردار اور اختیارات میں اضافہ کرنا ہوگا۔

اس تاریخی حقیقت کو کسی طو رپرجھٹلایا نہیں جاسکتا کہ علوم وفنون نے ہمیشہ سرکاری سرپرستی میں ہی ترویج پائی ہے اور ترقی کی منازل سے ہم کنار ہوتے رہے ہیں ۔ اسلامی عہد کا تابناک دور اسی کا ہی آئینہ دار ہے ۔ آج کے دور میں بھارت اور چین کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جہاں حکومتوں نے اپنے اپنے مقامی طریقِ علاج کی سرپرستی کی جس کی بدولت نہ صرف ان کی طبوں نے اپنے ملک میں قابلِ رشک ترقی کی بلکہ ان کی تیار کردہ طبی ادویات نے دنیا بھر کی مارکیٹوں میں اپنے قدم جمائے اور یوں ان کی طبی دوا سازی کی صنعت اپنے اپنے ملکوں کے لئے زر مبادلہ کی بھاری رقوم کے حصول کا ذریعہ بن گئی۔ اگر پاکستان میں بھی طب ِیونانی کے شعبے اور اس کی صنعت ِدوا سازی کو حکومتی سرپرستی میسر آجائے تو پاکستان کے لئے خطیر زرمبادلہ اس شعبے کی بدولت حاصل کیا جاسکتا ہے۔

مزید :

بلاگ -