’’ تھپڑکھا کے بے مزہ نہ ہوا‘‘

’’ تھپڑکھا کے بے مزہ نہ ہوا‘‘
’’ تھپڑکھا کے بے مزہ نہ ہوا‘‘

  

تحریر:ڈاکٹر رانا تنویر قاسم

صحافت کو جمہوری ممالک میں ایک ستون کی حیثیت حاصل ہے بلکہ اب تو یہ پاور پالیٹکس ہے،حکومتیں اور جماعتیں اسے اپنے دفاع کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔ پاکستان میں صحافتی انقلاب کے کرشمے قوم آئے روز دیکھتی ہے۔ا س نے ا تنی سرعت کے ساتھ ترقی کی ہے کہ یہ ایک سماجی ادارہ بن گیا ہے،تلخ وشیریں تجربات سے گزر کر یہ اپنی نامعلوم منزل کی طرف رواں دواں ہے۔ کراچی میں ایک خاتون صحافی کا ایک سیکورٹی اہلکار کے ساتھ ’’ حسن سلوک‘‘ زیر بحث ہے۔ظاہری طور پر اگر چہ یہ ایک تھپڑ ہے جوبزعم خود چوتھے ستون کو پڑا ، تاہم اہل صحافت کے لیے اس میں بڑے اسباق پوشیدہ ہیں۔

مرزا غالب نے تو کہا تھاکہ’’ کتنے شیریں ہیں تیرے لب کہ رقیب، گالیاں کھا کے بے مزہ نہ ہوا ‘‘غالب سے معذرت کے ساتھ یہاں ’’ تھپڑ‘‘ کھا کے بے مزہ نہ ہوا والا معاملہ ہے۔ ہمارا معاشرہ عدم برداشت کی انتہاؤں کو چھورہا ہے، یہ ایک سماجی بیماری ہے جسکے مظاہرے ہمارے ارد گرد روزانہ رونما ہوتے ہیں۔ ٹی وی ٹاک شوز میں اینکرز حضرات سیاست دانوں کو ککڑوں کی طرح لڑا کر ایسے تھپڑوں کے آزادانہ استعمال کے مواقع فراہم کرتے ہیں اور جب طنز کے نشتر چلا کر اینکر حضرات مہمانوں کو زچ کررہے ہوتے ہیں ،انہیں اگر آزادی صحافت کے ہتھوڑے کا ڈر نہ ہو تو دل انکا بھی تھپڑلگانے کو کررہا ہوتا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ خاتون صحافی نے اہلکار کی صرف قمیض کھینچی ، میرے نزدیک وہ اس کی قمیض نہ بھی کھینچتی یا انہیں ٹچ بھی نہ کرتی ، اتنا ہی کافی تھا کہ وہ اپنے اسلحے کے ساتھ لیس تھی جس کا استعمال اس نے ہر قسم کی صحافتی اخلاقیات کو پاما ل کرکے کیا۔ اپنے دعوے کی سچائی کے لئے اسے ایک بھی خاتون نہیں ملی جو پولیس اہلکار کے رویے پر شاکی ہو۔ البتہ وہ صحافتی داروغہ بن کر ضرور حملہ آور نظر آئی۔ اسے شکر کرنا چاہیے کہ اس کو صرف تھپڑ لگا اس نے گن نہیں چلا دی۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ تھپڑ ایک صحافی کو نہیں بلکہ ایک بے مہار رویے کو پڑا ہے۔ اسکے بعد اس خاتون کو جتنی تنقید کے تھپڑ اسکی اپنی برادری نے رسید کیے ہیں مجھے ڈر ہے کہ اسکے بعد کہیں وہ خاتون خود کشی نہ کرلے۔

سماج اور سماج کے ٹھیکداروں کو آئینہ دکھانے کا یہ برقی اسلوب خوفناک حد تک بے باک ہو تا جا رہا ہے۔ ہمارے برقی مسلح افراد یہ بھول جاتے ہیں کہ جب وہ تاریکیوں میں چھپے دوسروں کیچہرے بے نقاب کررہے ہوتے ہیں ساتھ انکا اپنا چہرہ بھی بے نقاب ہورہا ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے شعبدہ بازی نے ہر میدان میں اپنا سکہ جمالیا ہے، سیاست اور مذہب کے بعد صحافت میں بھی مداری پن اور شعبدہ بازی کا فن اب عروج پر ہے۔ سنسنی خیزی اور ریٹنگ کے خناس نے صحافتی اقدار کا جناز ہ نکال دیا ہے۔مجھے یاد ہے کہ ایک ابھرتے ہوئے نیوز چینل کا اسائنمنٹ ایڈیٹر ٹکر چلاتا ہے کہ یوای ٹی کے باتھ روم میں بچے کی پیدائش، تحقیق سے پتہ چلتا ہے خبر غلط ہے۔ مگر اس سے پیدا ہونے والی سنسنی خیزی اور ہیجان خیزی کے منفی اثرات کا ذمہ دار کون ؟ کوئی تعین نہیں کوئی محاسبہ نہیں، شتر بے محار ،کاش برپا ہونے والے ان شر انگیز واقعات سے خیر کے پہلو نکل سکیں جو اگرچہ مشکل ہیں مگر ناممکن نہیں۔ زبان وقلم کی حرمت کے پاسبان جب خود ہی اسکی پامالی شروع کردیں گے تو صحافت کی تقدیس کی کون حفاطت کرے گا؟؟؟

ٹھیک ہے برقی میڈیا ایک بہت بڑی انڈسٹری میں تبدیل ہو گیا ہے، پیسہ ہر ایک ضرورت ہے مگریہ فروخت برائے اقدار، برائے سماج ، برائے وطن، برائے مذہب، برائے لسانیت اور برائے سیاست کی بنیاد پر ہو گا تو تباہی ہی تباہی ہو گی، جیسا کہ ہو رہا ہے۔ ایک سرمایہ دار سے پوچھا گیا کہ آپ کو کیا ضرورت ہے اخبار یا ٹی وی کی؟ تو اس نے کہا کہ لوگ گن مین بھی تو رکھتے ہیں،یعنی یہ مقدس فریضہ برائے شیلٹر کے طور پر انجام پایا جائے گا۔ میں بہت سارے ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو پہلے گھڑی سازتھے، کریانے کی دکانیں کرتے تھے، کوئی میڈیکل ریپ تو کوئی پراپرٹی ڈیلر تھا آج وہ میدان صحافت کے شہسوار ہیں۔ برقی میڈیا میں آپ کو میڈیکل فیلڈ، شوبز کی فیلڈ سے دھتکارے ہوئے شام کو چینلز پر ایسے دانشور بن کر بیٹھے نظر آئیں گے کہ جیسے ان سے بڑا کوئی سقراط اور افلاطون پید ا ہی نہیں ہوا۔ صحافی کو جب سکوں کی کھنک نے متحیر کیا تو صحافیوں اور صحافتی اداروں کے لیے یہ خوشگوا رتجربہ نہ صرف حیرت انگیز ثابت ہوا بلکہ بعض اداروں اور صحافیوں نے اسی عمل کو اپنا مقصد ومنہج بنالیا اورصحافت نے اپنی شناخت کھو دی۔

صحافت کے بارے میں سوالات کا پیدا ہونا فطر ی امر ہے،کیا یہ کوئی سماجی ادارہ ہے یا اقتصادی ؟کیاصحافت طاقتور حکمرانوں کی طاقت و قوت کا اسیر ہے؟ کیا یہ سرمایہ دار کے ہاتھ کا کھلونا ہے یاصحافت بلیک میل کرنے کا ذریعہ ؟ یانصب العین اور نقطہ نظر سے محروم محض اقتصادی فائدے کی لونڈی ؟،جسے آپ کسی بھی غرض کے لیے استعمال کرسکتے ہیں، چند معدودے اداروں اوررسائل وجرائد کو چھوڑ کر اکثریت عالمی ایجنڈوں کی تکمیل اور انکے اشاروں پر ناچ رہے ہیں۔

ٹیلی ویژن کی صحافت نے دوسرے ذرائع ابلاغ کے وجود پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ بعض چینلزمغربی ممالک کے اسیر ہیں؟کیا یہ میڈیا کا کرشمہ نہیں ہے کہ آج مسلمان اور اسلامی ممالک کو پوری دنیامیں ہدف کا شکار بنارکھا ہے؟مکرمی سیدارشاد عارف کا احساس بالکل بجا ہے کہ ’’امریکہ ویورپ میں کسی برتر خاندان کے فرد کو ٹریفک قوانین کی خلاف وزری پر جرمانہ ہو تو ہمارا میڈیا آسمان سر پراٹھا لیتا ہے ،قانون کی حکمرانی کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے مگر سعودی شاہی خاندان کے ایک فرد کو سنگین جرم کی عبرتناک سزا ملنے پر کسی نے نوٹس نہیں لیا۔‘‘

میڈیا کے اس رویے پہ اس سے زیادہ اور کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ :جو چاہے آ پ کا حسن کرشمہ ساز کرے۔ صحافت کے پاکیزہ فن کو آلائشوں سے محفوظ رکھنا کس کی ذمہ داری ہے؟کس طرح صاف و شفاف صحافت کو نئی سمت دی جاسکتی ہے اور مکر وفریب سے بھری دنیا میں کیسے نئی مثال قائم کی جا سکتی ہے؟میں یہاں پرذہنی غلامی کی تازہ مثال دو نگا کہ ایک لڑکی نے اسلام آباد کے چائے والے نوجوان کی تصویر پوسٹ کی ،مگراس کی تصویر سوشل میڈیا پر وائر ل بھارتی میڈیا ، انکے اخبارات اور بی بی سی کی وجہ سے ہوئی۔ اسکے حسن کے چرچے اور خوبرو ہونے کا جب مکمل اعتراف بھار ت میں ہو گیا تو پھر ہمیں بھی اسکے خوبرو ہونے پر یقین آیا، جب پتہ چلا کہ بھارتی لڑکیاں اسکی دیوانی ہو رہی ہیں، تو پھر پاکستانی لڑکیوں نے بھی انکی تقلید شروع کردی۔ ہماری حالت بھی اس میراثی کی ہے کہ جس کے گھر بیٹا پیدا ہو ا تو اس نے چوم چوم کر ہی مار دیا۔پھر ستم پر ستم یہ کہ دیوانگی کا یہی معیار ٹھہرا ٹی وی والوں کے ہاں۔یعنی جب تک انڈیا والوں نے اسے ’’سند حسن‘‘ عطا نہیں کردی ، ہمیں ارشد خاں کے حسن کا کوئی خیال نہیں آیا۔ ہمارے میڈیا اور معاشر ے کی تحقیقی حس کتنی بیدار ہے؟ اسکا انداز ہ مذکورہ صورتحال سے باآسانی سے لگایا جاسکتا ہے۔ یعنی ہم اپنے خوبرو ’’ ارشدوں ‘‘ کی تلاش میں بھی انڈین پراپیگنڈے کے محتاج ہیں۔ خوبرو ارشدخاں کو اگرچہ جیا علی نامی لڑکی نے دریافت کیا، مگر اسکے حسن اوردلکشی پر یقین اس وقت آیا جب اس کی پذیرائی مکمل طور پر انڈیا میں ہوچکی۔ پھر سوال تو پیدا ہو گا کہ کیا ہمارے کلچر کا ٹرینڈ سیٹر انڈیا ہی رہے گا؟

جھوٹ کے پاس اگر زیادہ طاقت ہے تو اس کی آواز زیادہ بلند ہوگی اور کمزور آواز کی طرف داری جھوٹ کے سامنے کوئی اثر نہیں دکھا پائے گی۔ ہمارے سامنے صحافت اور اہل صحافت کا جو منظر اورمثالیں ہیں وہ صحافت کی تاریخ میں ایک بد نما داغ کی حیثیت رکھتی ہیں۔اگر صحافت اسی ڈگر پر چلتی رہی تو وہ دن دور نہیں جب صحافت بھی اپنی معنویت کھو بیٹھے گی۔ صحافت کی بے سمتی اور بے راہ روی کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ اعتدال ، توازن اور غیر جانبداری جیسی خوبیوں کو نامہ نگاری کی اصل خوبی تصور کی جائے۔ایک اچھے صحافی کا فرض ہے کہ وہ معاشرے کی فلاح کے لیے کام کرے اور مثبت نقطہ نظر کو پیش کرے اور منفی خبروں کو اشتعال کے بجائے سنجیدگی سے اس طرح پیش کرے کہ منفی قوتوں سے عوام متنفر ہو جائیں اور وہ خود بھی شرمسار ہوں اور انھیں دوبارہ اس طرح کی بد عنوانیوں میں ملوث ہونے کی جرآت نہ ہو سکے۔ اگرچہ پاکستان میں میڈیا اپنی ارتقائی منازل طے کر رہاہے مگر اس امر پر غور کی ضرورت ہے کہ آخر اس شعبے کو صحیح معنوں میں چوتھا ستون بننے میں مزید کتنا وقت درکار ہے؟ہمیں اپنے ملک کی تہذیبی ،ثقافتی ،معاشرتی اور مذہبی اقدار کی پاسداری کرتے ہوئے صحافتی ضابط اخلاق ترتیب دینا ہو گا تاکہ ا پنے قومی ورثے کی حفاظت اور اس کی توقیر و تعظیم کواولیت مل سکے۔

(ڈاکٹر رانا تنویرقاسم تدریسی وصحافتی شعبوں سے منسلک ہیں،یوای ٹی شعبہ اسلامیات میں اسسٹنٹ پروفیسر کے ساتھ ساتھ ایک نجی مذہبی ٹی وی چینل پر بطور اینکر بھی فرائض انجام دیتے ہیں۔ ابراہیمی مذاہب میں امن اور جنگ کے تصورات پر انہوں نے پی ایچ ڈی کر رکھی ہے)

مزید :

بلاگ -