زعیم قادری صاحب! ضیاء الحق سے بے انصافی نہ کیجئے

زعیم قادری صاحب! ضیاء الحق سے بے انصافی نہ کیجئے
 زعیم قادری صاحب! ضیاء الحق سے بے انصافی نہ کیجئے

  

ہفت روزہ زندگی کے شمارہ 15اکتوبر میں پنجاب کے وزیر اوقاف زعیم قادری صاحب کا ایک خصوصی انٹرویو شائع ہوا ہے، جس میں انہوں نے ملک میں دہشت گردی اور انتشار کی ساری ذمہ داری جنرل ضیاء الحق پر ڈال دی ہے اور ان کے دور کو پاکستانی قوم کے لئے بدترین دور قرار دیا ہے۔

انہوں نے فرمایا کہ ہیروئن اور کلاشنکوف کلچر ضیاء الحق کے دور کا تحفہ ہیں۔

انہوں نے مزید گوہر افشانی کی کہ جہاد کو استعمال کرتے ہوئے ہم نے افغانستان میں امریکہ کی جنگ لڑی۔۔۔نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ زعیم قادری صاحب کے یہ فرمودات حقائق کے قطعی برعکس ہیں۔ افغانستان میں جہاد دسمبر 1978ء میں شروع ہوا اور یہ خالصتاً افغانستان کے مجاہدین نے جنرل ضیاء الحق کے تعاون سے شروع کیا اور جب یہ شروع ہوا تو ساری دنیا نے اس کا مذاق اُڑایا کہ ہاتھی کے سامنے خرگوش آکھڑا ہوا ہے، جس کا نتیجہ لازماً شکست اور تباہی کی صورت میں برآمد ہوگا، لیکن مجاہدین روس کے مقابلے میں لوہے کے چنے ثابت ہوئے، انہوں نے ڈھائی سال تک تن تنہا جارح فوج کا اس پامردی سے مقابلہ کیا کہ اس کے دانت کھٹے ہوگئے۔

یاد رہے کہ امریکہ نے پاکستان کی ہر طرح کی امداد اس وقت بند کردی تھی، جب اس کی مرضی کے برخلاف ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی تھی، لیکن مجاہدین کی لگاتار کامیابیوں کو دیکھ کر امریکہ نے موقع سے فائدہ اٹھایا اور جنگ میں مداخلت کا فیصلہ کرلیا اور ضیاء الحق کو فوجی امداد کی پیش کش کردی، مگر یہ امداد ضیاء الحق کے نزدیک اتنی حقیر تھی کہ انہوں نے بڑی بے نیازی سے اسے مونگ پھلی کا دانہ قرار دے کر مسترد کردیا اور پھر مجاہدین کے بے مثال جذبۂ جہاد اور ضیاء الحق کی سجدہ ریزیوں کی برکت سے صورت حال میں انقلاب برپا ہوگیا۔ افغانستان میں روس کو شکست فاش ہوئی اور اس کی عظیم الشان سلطنت کے پرخچے اُڑ گئے۔

زعیم قادری صاحب کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ روس افغانستان میں محض چہل قدمی کے لئے یاتفریح کی خاطر نہیں آیا تھا۔ اس کا اصل ہدف پاکستان کا صوبہ بلوچستان تھا اور بلوچستان پر قبضہ کرکے وہ بحیرۂ عرب اور خلیج فارس کے گرم پانیوں تک پہنچنا چاہتا تھا، جس کا منصوبہ ڈیڑھ سو سال پہلے پیٹردی گریٹ کے دور میں بنا تھا اور اس کے لئے روس نے افغانستان کے حوالے سے بڑی ہی دوررس منصوبہ بندی کی تھی جو اگر کامیاب ہوجاتی تو خدانخواستہ نہ صرف پاکستان کا وجود تحلیل ہوجاتا، بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کا نقشہ مسخ ہوجاتا اور روس خلیج فارس اور بحیرۂ عرب پر قبضے کے بعد کویت اور سعودی عرب کے تیل کے چشموں پر قبضہ کرلیتا اور خدا ہی جانتا ہے کہ 1980ء کے آغاز ہی میں حرمین کے تقدس کا کیا بنتا؟اس طرح افغان مجاہدین اور ضیاء الحق پاکستان اور عالم اسلام کے غیر معمولی محسن ہیں، جنہوں نے اس خطے کو ہولناک تباہی سے بچالیا، لیکن جس کی قدر افزائی زعیم قادری صاحب اس انداز میں کررہے ہیں کہ گویا ضیاء الحق ہی ساری خرابیوں کی جڑ ہیں اور افغان مجاہدین دراصل امریکہ کے ایجنٹوں کی حیثیت سے جانی و مالی قربانیاں دے رہے تھے۔

۔۔۔اور یہ جو آپ نے ضیاء الحق کو ہیروئن اور کلاشنکوف کلچر کا طعنہ دیا ہے تو اس کی ذمہ دار دراصل بعد میں آنے والی وہ حکومت ہے، جس نے مختلف محکموں میں ساٹھ ہزار جیالے بھر دیئے، جس کے نتیجے میں سٹیل مل،پی آئی اے، ریلوے، واپڈا سب برباد ہوگئے۔ ضیاء الحق کے دور کا کمال تو یہ ہے کہ پینتس لاکھ افغان مہاجرین پاکستان کے مہمان تھے، لیکن اس دوران میں نہ امن و امان کا کوئی مسئلہ پیدا ہوا نہ ملک میں قحط سالی کی کیفیت رونما ہوئی، بلکہ جہاد کی برکت سے ملک 1983ء میں پہلی بار گندم کی پیداوار میں خودکفیل ہوا اور پاکستان نے فاضل گندم ایران کو برآمد کی۔

ضیاء الحق کا یہی احسان کم نہیں ہے کہ انہوں نے پاکستان کی سالمیت بچا لی۔ ملک و قوم پر ان کا بہت بڑا احسان یہ بھی ہے کہ انہوں نے افغان جہاد کی آڑ میں، امریکہ کی نظریں بچا کر ایٹمی پروگرام مکمل کرلیا اور نہ صرف دوبار ہندوستان کے حملوں کو ناکام بنایا، بلکہ آج جو ہم انتہائی گھمبیر حالات میں ہندوستان اور امریکہ کے حملوں سے بچے ہوئے ہیں، وہ اسی ایٹمی پروگرام کی وجہ سے بچے ہوئے ہیں۔

کاش ضیاء الحق کے احسانات کا بدلہ اس بھیانک صورت میں نہ دیا جاتا۔ نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ جو بندوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ خدا کا بھی شکر گزار نہیں ہوتا۔ زعیم قادری صاحب غور فرمائیں کہ مستقبل کا مورخ اس بے مثال ناشکرے پن پر اُن کا ذکر کس انداز میں کرے گا اور وہ خدا کے حضور اس کا کیا جواب دیں گے۔

یہ حقیقت بھی قابل غور ہے کہ موجودہ مسلم لیگ کی حکومت ضیاء الحق کے قدموں کی برکت سے قائم ہوئی تھی اور پنجاب میں اگر قادری صاحب برسراقتدار ہیں اور وزارت کے مزے لوٹ رہے ہیں تو یہ بھی بالواسطہ ضیاء الحق کی وجہ سے ہے، اس لئے ضیاء الحق کو گالی دنیا کسی مسلم لیگی کے لئے کسی طرح بھی روا نہیں ہے۔

مزید :

کالم -