شہر میں دہشتگردی کی کوشش ناکام ، کالعدم انصارالشریعہ کا سربراہ اپنے 7ساتھیوں سمیت ماراگیا: سندھ رینجرز

شہر میں دہشتگردی کی کوشش ناکام ، کالعدم انصارالشریعہ کا سربراہ اپنے 7ساتھیوں ...
شہر میں دہشتگردی کی کوشش ناکام ، کالعدم انصارالشریعہ کا سربراہ اپنے 7ساتھیوں سمیت ماراگیا: سندھ رینجرز

  

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن)سندھ رینجرز اور کاﺅنٹرٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی ) کے بلدیہ ٹاﺅن کے علاقے رئیس گوٹھ میں مشترکہ آپریشن کے دوران 8مشتبہ دہشتگرد مارے گئے ہیں، پانچ موقع پر ہلاک ہوگئے جبکہ تین شدت پسندہسپتال منتقلی کے دوران جانبر نہ ہوسکے،آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں رینجرز کے دو اور سی ٹی ڈی کا ایک جوان بھی زخمی ہوا۔

رینجرز ترجمان کے مطابق رینجرز اور سی ٹی ڈی نے رئیس گوٹھ میں شدت پسندوں کے ٹھکانے کا گھیراﺅ کیا اور انہیں سرنڈر کرنے کو کہالیکن جوابی طورپر فائرنگ شروع ہوگئی جس کے بعد رینجرز نے ٹھکانے پر دھاوابولنے سے قبل مزید نفری بلالی۔پریس کانفرنس کے دوران کرنل فیصل نے بتایاکہ مرنیوالے افراد کی شناخت ہوگئی ہے ،مرنیوالوں میں کالعدم انصارالشریعہ کے سربراہ شہریارالدین وارثی المعروف ڈاکٹرعبداللہ ہاشمی بھی شامل تھا جو سیکیورٹی فورسز پر بھی حملوں کا ماسٹرمائنڈ تھاجبکہ ایک حملہ آور کی شناخت ارسلان بیگ کے نام سے ہوئی جو اے ایس پیز کو نشانہ بنانے والی ٹارگٹ کلنگ ٹیم کا حصہ تھاجبکہ تین افراد فرار ہوگئے جن کی تلاش شروع کردی گئی، فرارہونیوالوں میں دانش، جنید ، سروش اور مزمل شامل ہیں۔ترجمان نے بتایاکہ مرنیوالوں کے ٹھکانے سے بھاری مقدار میں اسلحہ بارود بھی برآمد کیاگیا۔

سندھ رینجرز کے کرنل فیصل نے بتایا کہ کالعدم انصار الشریعہ کے دہشت گرد نظریاتی طور پر القاعدہ سے متاثر تھے جنہوں نے القاعدہ کے شدت پسندوں سے افغانستان میں ٹریننگ حاصل کی، اس گروہ میں15سے20اعلیٰ تعلیم یافتہ دہشت گرد شامل ہیں،مرنیوالے دہشتگردارسلان بیگ نے القاعدہ سے افغانستان میں جنگی تربیت حاصل کی، سیکیورٹی اداروں نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں سے بڑی مقدار میں جدید اسلحہ ، ریکارڈنگ ڈیوائسز اور ریکی کے آلات برآمد کئے ہیں،یہ دہشت گرد شہر قائد میں تباہی پھیلانے کی منصوبہ بند ی کر رہے تھے۔

کراچی میں سندھ رینجرز کے کرنل فیصل اور ڈی آئی جی کاﺅنٹرٹیررازم ڈیپارٹمنٹ(سی ٹی ڈی) عامرفاروقی نے گذشتہ رات ہونے والے آپریشن کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کیا ، اس موقع پر سی ٹی ڈی کے عامر فاروقی کا کہنا تھا کہ کالعدم انصار الشریعہ کے دہشت گردوں کا پہلا ناکام حملہ ایم کیو ایم کے خواجہ اظہار الحسن پر کیا جانے والا حملہ تھا۔ اس دوران انصار الشریعہ کا ایک دہشت گرد پولیس یونیفارم پہن کر جائے وقوعہ پر موجود تھا۔ پولیس وردی پہننے کامطلب سیکیورٹی اداروں پرالزام لگاناتھا، اگرپولیس کی وردی میں یہ حملہ کامیاب ہوجاتاتوبڑانقصان ہوتا۔گذشتہ رات خفیہ اداروں نے معلومات شیئر کیں کہ دہشت گرد کراچی میں تخریب کاری کا منصوبہ بنا رہے ہیں جس کے بعد رینجرز اور سی ٹی ڈی حرکت میں آئے ۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رینجرز کے کرنل فیصل کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کے خواجہ اظہار الحسن پر حملے کے بعد عبد الکریم سروش کی گرفتاری کے لئے چھاپہ مار کارروائی کی گئی، چھاپامارکارروائی میں عبدالکریم سروش فرارہوا،عبدالکریم سروش کے گھر سے ملنے والے لیپ ٹاپ سے تفصیلات سامنے آئیں،یہ گروہ 15 سے 20 انتہائی پڑھے لکھے افراد پر مشتمل تھا۔ گذشتہ رات انصارالشریعہ کی موجودگی پرکارروائی کی گئی ، آپریشن کے دوران انصار الشریعہ کے8دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ گذشتہ عرصے کے دوران کراچی میں ہونے والی دہشت گردانہ کارروائیوں میں یہی گروہ شامل تھا، ان دہشت گردانہ کارروائیوں کا ماسٹر مائنڈ  ڈاکٹر عبداللہ ہاشمی کل رات کے آپریشن میں ماراگیا۔ انہوں نے کہا کہ 2017 میں پولیس اہلکار کا قتل کالعدم انصار الشریعہ کے ان مارے جانے والے دہشت گردوں  کی پہلی کارروائی تھی،پولیس اہلکارکے قتل کے بعدانصار الشریعہ نے القاعدہ سے منسلک ہونے کا اعلان کیا۔کالعدم انصار الشریعہ نے21مئی 2017 کو دوسری کارروائی کی، یہ دہشت گرد موٹر سائیکل پر ڈیوائس لگا کر ٹارگٹ کی ریکی کرنے کے بعد ہی کارروائی کرتے تھے۔ ان دہشت گردوں نے 23جون 2017کو 4 پولیس اہلکاروں کوافطاری کے دوران شہیدکیا۔کرنل فیصل کا کہنا تھا کہ مارے جانے والے  دہشت گرد افغانستان سے تربیت یافتہ تھے مگر ان کے گھر والوں کو بھی ان کی سرگرمیوں کے بارے میں اطلاع نہیں تھی جبکہ کسی بھی تعلیمی ادارے میں ان دہشت گردوں کے رابطے نہیں تھے۔انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں پر کڑی نظر رکھیں کہ وہ کس سے ملتے اور کہاں  اٹھتے بیٹھتے ہیں تاکہ کوئی دہشت گرد گروہ ہمارے بچوں کو اپنے مذموم مقاصد کے لئے  استعمال نہ کر سکے ۔

مزید :

قومی -اہم خبریں -