لوگوں سے روٹی چھینی جارہی ہے ، حکومت پالیسیوں پر نظر ثانی کرے

لوگوں سے روٹی چھینی جارہی ہے ، حکومت پالیسیوں پر نظر ثانی کرے

  

لاہور(این این آئی)ایران پاک فیڈریشن آف کلچر اینڈ ٹریڈ کے صدر خواجہ حبیب الرحمان نے کہا ہے کہ ڈالر کی قیمت بڑھنے اور گیس و پٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کا جن بے قابو ہو گیاہے ، عالمی طاقتیں روپے کی قدر کم کر کے پاکستان کو معاشی میدان میں تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہیں،حکومت اگر قوم کو ریلیف نہیں دے سکتی تو کم از کم رہی سہی قوت خرید کو تو ختم نہ کرے ، چولہوں کو بجھانا اور لوگوں سے دو وقت کی روٹی چھیننا کوئی معاشی پالیسی نہیں اس لئے حکومت عجلت میں بنائی جانے والی پالیسیوں پر نظر ثانی کرے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملاقات کے لئے آنے والے صنعتکاروں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔وفد میں خواجہ ضیا لراحمان، طیب ساجد اورخواجہ عثمان سمیت دیگر شامل تھے۔انہوں نے کہا کہ حکومت آئی ایم ایف کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی بجائے بنکوں سے قرضے لے کر ہڑپ کرنے اور قومی خزانہ لوٹ کر بیرونی بنکوں میں دولت جمع کرنے والوں کی گردنوں پر ہاتھ ڈالے تو معیشت میں بہتری لائی جاسکتی ہے اورمہنگائی کو بھی کنٹرول کیا جاسکتاہے۔ پاکستان کا بڑا مسئلہ 1500 ارب روپے قرضوں کی ادائیگی ہے،پاکستان4500 ارب کی جو کل رقم جمع کرتا ہے اس میں سے ایک بڑا حصہ سود کی ادائیگی کی مد میں چلا جاتا ہے ۔خواجہ حبیب الرحمان نے کہا کہ پاکستان میں 35 لاکھ افراد میں سے 12 لاکھ ہی ٹیکس ادا کرتے ہیں، مسائل کے حل کیلئے ہمیں ٹیکس ٹو جی ڈی پی کا تناسب بڑھانا ہوگا ، زبانی دعوے اور باتیں کرنے سے معاشی حالات میں بہتری نہیں لائی جاسکتی ،موثر منصوبہ بندی، سرمایہ کاری کو استعمال میں لاکر روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کئے جائیں۔

، یہ رجحانات غربت میں کمی کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔

مزید :

کامرس -