خلیجی ممالک کی اقتصادی شرح نمو میں بہتری کی توقع

خلیجی ممالک کی اقتصادی شرح نمو میں بہتری کی توقع

  

دبئی(آن لائن)اقتصادی ماہرین نے کہا ہے کہ آئندہ دو سالوں کے دوران خلیجی ممالک کی جانب سے سرکاری سطح پر مختلف شعبوں کی بہتری کیلئے اخراجات میں اضافے کے باعث ان کی اقتصادی شرح نمو میں بہتری آئے گی تاہم یہ 2014 ء میں خام تیل کے نرخ گرنے سے پہلے کی بلندیوں پر نہیں جاسکے گی۔ رائٹرز کی جانب سے اقتصادی ماہرین سے کیے گئے جائزہ سروے کی رپورٹ کے مطابق خلیجی ممالک نے رواں سال کے وسط سے خام تیل کی پیداوار میں کمی کے عالمی معاہدے میں نرمی کرکے پیداوار بڑھانے کا سلسلہ شروع کررکھا ہے اس سے ان کے تیل کے شعبے کی مجموعی قومی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔انھوں نے کہا کہ ان حکومتوں کو تیل کے بڑھتے نرخوں سے زیادہ آمدنی ہورہی ہے جس سے وہ تیل کے شعبے سے ہٹ کر دوسرے شعبوں کی بہتری کے لیے خرچ کرسکتے ہیں۔اس وقت خام تیل کے نرخ 80 ڈالر فی بیرل سے زیادہ ہیں جو کہ 4 سال کی بلند ترین سطح ہے، اس سے امکان ہے کہ یہ ممالک اپنی مالیاتی پالیسی کوآسان بنائیں گی۔ان کا کہناتھاکہ فی الوقت کئی خلیجی ممالک اپنے 2019 ء کے مالیاتی بجٹ کی تیاری میں مصروف ہیں اور توقع ہے کہ وہ آئندہ سال ترقیاتی و دیگر منصوبوں کیلئے حکومتی اخراجات میں اضافہ کریں گے جس سے تیل سے ہٹ کر دوسرے شعبوں کی ترقی میں مدد ملے گی۔

سعودی حکومت نے تو پہلے ہی اعلان کردیا ہے کہ وہ آئندہ سال حکومتی اخراجات میں 7 فیصد اضافہ کرے گی۔اس سے ملک میں کاروباری سرگرمیوں کو فروغ اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ رواں سال سعودی عرب کی مجموعی قومی پیداوار کی شرح نمو 2 فیصد ،2019 ء4 میں 2.5 فیصد اور 2020 ء4 میں 3 فیصد رہنے کی توقع ہے۔متحدہ عرب امارات، کویت اور قطر میں بھی اقتصادی شرح نمو میں آئندہ سال بہتری جبکہ 2020 ء4 میں مزید بہتری یا 2019 ء4 کی سطح پر فلیٹ رہنے کا امکان ظاہر کیاگیا ہے۔متحدہ عرب امارات کی مجموعی قومی پیداوار کی شرح نمو رواں سال 2.5 فیصد، 2019 ء4 میں 3.1 فیصد اور 2020 ء4 میں 3.5 فیصد رہنے کا امکان ہے۔بحرین کی مجموعی قومی پیداوار کی شرح نمو اس وقت 2.9 فیصد ہے جو آئندہ سال کم ہوکر 2.8 فیصد اور 2020 ء4 میں 2.6 فیصد تک آجانے کا امکان ہے۔#/s#

مزید :

کامرس -