د قابل تجدید توانائی کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے’ماہرین

د قابل تجدید توانائی کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے’ماہرین

  

د قابل تجدید توانائی کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے’ماہرین

لاہور(اے پی پی )اسلام آباد لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی تاجر برادری نے کہا ہے کہ چین مصنوعات کی برآمدات میں کلیدی اہمیت کا حامل ہے جس کی بنیادی وجہ متبادل ذرائع سے توانائی کا حصول ہے جس میں وہ عالمی لیڈر کی حیثیت اختیار کر چکا ہے اور پاکستان کے پاس چین سے سیکھنے کے روشن امکانات موجود ہیں۔تاجر برادری کے مطابق ملک میں قابل تجدید توانائی کی پیداوار کی ضرورت ہے کیونکہ ان ذرائع کے ذریعے بجلی کی پیداوار کے وسیع امکانات موجود ہیں،اسلام آباد چیمبر آف پاکستان کے صدر احمد حسن مغل اور لاہور چیمبر کے صدر الماس حیدر و دیگر تاجر برادری نے اس سلسلہ میں بتایا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہونے سمیت کاروباری لاگتوں میں کمی‘کاروبار کا فروغ،صنعتوں کے استحکام کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری کی بھی حوصلہ افزائی ہو گی،انہوں نے کہا کہ توانائی کی ضروریات پوری ہونے سے درآمدات میں کمی جبکہ برآمدات میں اضافہ ہو گا اور نئی ملازمتوں کے مواقع بھی پیدا ہونگے، قابل تجدید توانائی کے ذرائع میں پون بجلی‘شمسی توانائی اہم ہیں کیونکہ عالمی سطح پر شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے پر بھرپور توجہ دی جا رہی ہے جو قیمت کے لحاظ سے کم بھی ہے،انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں شمسی اور پون بجلی کے ذرائع میں بالترتیب 5000 فیصد اور650فیصد اضافہ ہوا ہے لیکن پاکستان میں اس پر کوئی خاص توجہ نہیں دی جارہی۔

جس کے باعث ہماری معیشت بحران کا شکار ہے،انہوں نے کہا کہ بہت سے یورپی ممالک اپنے ذرائع توانائی کو کوئلے اور نیوکلیئر پاور پلانٹس پر تبدیل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں جبکہ جرمنی اور ڈنمارک نے توانائی کی ضروریات کو محسوس کرتے ہوئے موسمی اثرات کے باعث ہوا سے بجلی پیدا کرنے پر توجہ مرکوز کی ہے،اسی طرح خلیجی ممالک میں تیل اور گیس کے وسیع ذخائر موجود ہیں جس میں انہوں نے وسیع سرمایہ کاری کی ہے نیز سعودی عرب نے2023 ء تک ہوا سے پیدا ہونیوالی توانائی کا 9.5گیگا واٹ کا منصوبہ تیار کیا ہے،انہوں نے کہا کہ چین مصنوعات کی برآمدات میں کلیدی اہمیت کا حامل ہے جس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ وہ متبادل ذرائع سے توانائی کے حصول میں عالمی لیڈر کی حیثیت اختیار کر چکا ہے اور پاکستان کے پاس چین سے سیکھنے کے روشن امکانات موجود ہیں اور اپنے متبادل ذرائع سے توانائی پیدا کرنے کے عمل کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے ،انہوں نے کہا کہ بھارت پہلے ہی28گیگا واٹ پون بجلی پیدا کر رہا ہے اور شمسی توانائی کے ذریعے2022 ء تک سو گیگا واٹ شمسی توانائی کے منصوبے پر کام کر رہا ہے،انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو بھی اس طرح کے ذرائع سے بجلی پیدا کرنے پرتمام تر توجہ مرکوز کرنا ہو گی ۔

مزید :

کامرس -