اٹھارہویں آئینی ترمیم کا پنڈورا بکس نہ کھولیں

اٹھارہویں آئینی ترمیم کا پنڈورا بکس نہ کھولیں

  

وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ اٹھارہویں ترمیم وفاق کا قتل ہے یہ آسمان سے اُتری کتاب نہیں یہ انسان نے بنائی، اٹھارہویں ترمیم کی شقوں کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، اس ترمیم کے پیچھے لگا ہوا ہوں، اٹھارہویں ترمیم پر بات کریں تو یہ لوگ چھت سے لگ جاتے ہیں، پہلے یہ مُلک کھاتے تھے اب صوبہ کھا رہے ہیں، انہوں نے یہ وضاحت ضروری سمجھی کہ اٹھارہویں ترمیم کے متعلق یہ اُن کا ذاتی موقف ہے۔دوسری جانب سندھ کے مشیر اطلاعات مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم رول بیک کرنا اتنا آسان نہیں جتنا وفاقی وزیر صاحب سمجھ رہے ہیں۔اُن کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر آئین کی الف سے بھی واقف نہیں،صوبائی خود مختاری آئینِ پاکستان اور مضبوط وفاق کی ضمانت ہے یہ آئینی ترمیم منظور کرانے میں مُلک کی تمام مذہبی اور سیاسی جماعتوں کا کردار ہے۔نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما سینیٹر حاصل بزنجو نے بھی کہا ہے کہ این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کے حصے کی کٹوتی کسی صورت قبول نہیں، اٹھارہویں ترمیم کو رول بیک کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے آئین کا پارلیمانی کردار بحال کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور آئین کے اندر سے وہ تمام تجاوزات ختم کر دیئے گئے ہیں ،جو وقتاً فوقتاً فوجی حکومتوں اور اُن کے سایہ میں کام کرنے والے سول حکمرانوں نے آئین میں داخل کئے تھے یہ ترامیم کا ایک بڑا پیکیج ہے اور اس کے ذریعے آئین کی بہت سی دفعات میں ردو بدل کیا گیا ہے۔ سب سے بڑی اور نمایاں بات تو یہ ہے کہ صدر کے قومی اسمبلی توڑنے کا اختیار اس ترمیم کے ذریعے ختم کر دیا گیا ہے،جو پہلے آٹھویں ترمیم کے ذریعے جنرل ضیاء الحق کے دور میں اور پھر سترھویں ترمیم کے ذریعے جنرل پرویز مشرف کے دور میں آئین میں شامل کیا گیا تھا،آٹھویں ترمیم کے تحت تین صدور نے چار اسمبلیاں توڑیں۔ ایک جنرل ضیاء الحق نے ، دو غلام اسحاق خان نے اور ایک فاروق لغاری نے، نواز شریف جب دوسری مرتبہ وزیراعظم بنے تو انہوں نے صدرکے اسمبلی توڑنے کا اختیار تیرھویں ترمیم کے ذریعے ختم کر دیا،یہ معاملہ سپریم کورٹ میں پہنچا تو جسٹس سجاد علی شاہ نے یہ ترمیم ختم کر دی اور صدر کا اسمبلی توڑنے کا اختیار بحال کر دیا،صدر لغاری جو ایک اسمبلی پہلے توڑ چکے تھے یہ اختیار بحال ہوتے ہی نواز شریف کی حکومت اور اسمبلی توڑنے کے لئے بھی تیار بیٹھے تھے کہ حکومت نے اُن کے خلاف مواخذے کی قرارداد اسمبلی میں لانے کا اعلان کر دیا اور وہ صدر جو چند گھنٹے پہلے اسمبلی توڑنے کا مسودہ تیار کرا رہے تھے اُنہیں مستعفی ہو کر گھر جانا پڑا،اُن کے استعفے کی وجہ سے نواز شریف کی حکومت ختم ہونے کا امکان اس وقت تو ختم ہو گیا،لیکن بعدازاں جنرل پرویز مشرف کی فوجی مداخلت کے ذریعے اُن کی حکومت ختم ہوئی،جنہوں نے2002ء کے انتخابات کے بعد قائم ہونے والی اسمبلی میں ایم ایم اے کے تعاون سے سترھویں ترمیم کے ذریعے صدر کے اسمبلی توڑنے کا اختیار بحال کرا لیا،لیکن2008ء میں قائم ہونے والی اسمبلی نے یہ اختیار دوبارہ اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے ختم کر دیا۔

اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو جو وسیع تر خود مختاری دی گئی ہے وہ ’’مضبوط وفاق‘‘ کے حامیوں کو کبھی پسند نہیں آئی اور وہ عرصے سے اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح وہ اختیارات واپس وفاق کو مل جائیں، جو اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو دیئے گئے ہیں،لیکن تاحال اُنہیں کامیابی نہیں ہو رہی،ابھی حال ہی میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ آئی ایم ایف کی خواہش ہے کہ صوبوں کو این ایف سی ایوارڈ سے ملنے والا حصہ کم کیا جائے تاکہ وفاق کے مالی وسائل میں اضافہ ہو،پاکستان کے اندر مضبوط وفاق کے حامی بھی وفاق کے اختیارات پہلے کی طرح بڑھانا چاہتے ہیں۔فیصل واوڈا کا بیان بھی اسی سلسلے کی کڑی لگتا ہے۔

جہاں تک مُلکوں کی مضبوطی کا تعلق ہے اِس کا کوئی لگا بندھا اصول دُنیا میں کار فرما نہیں ہے، بعض ممالک نے صوبوں کو زیادہ خود مختاری دے کر اپنے مُلک کو مضبوط بنایا ہے تو بعض مُلک مضبوط مرکز کی وجہ سے مضبوط تصور کئے جاتے ہیں،جس مُلک نے اپنے لئے جو مناسب سمجھا وہ اختیار کر لیا،ممالک کی مضبوطی دو اور دو چار کے کسی فارمولے سے نہیں ہو تی،جس طرح کئی ممالک نے اپنے لئے صدارتی نظام پسند کیا اور بعض دوسروں نے پارلیمانی نظام اختیار کیا،کئی ایسے تھے جنہوں نے دونوں نظاموں کا ملغوبہ نظام اپنا لیا،آج بھی دُنیا میں ایسے ممالک ہیں،جو بادشاہت کے جال سے نکل نہیں سکے اور دُنیا کے کئی ممالک میں خاندانی حکومتیں بظاہر مضبوطی کا تاثر دینے کے لئے قائم کی گئی ہیں،لیکن ایسی بادشاہتیں بھی ہیں،جو بحران کے ایک ہی جھٹکے سے لرزنے لگتی ہیں۔یہ مُلکوں کی اپنی پسند کا معاملہ ہے۔

فیصل واوڈا نے یہ تو درست کہا کہ اٹھارہویں ترمیم آسمان سے نہیں اُتری،لیکن کیا یہ بھی اتنا ہی درست نہیں کہ جو کچھ وہ فرما رہے ہیں اِس میں بھی کوئی آسمانی رہنمائی شامل نہیں،وہ بھی اُن کی اپنی رائے ہے جو ضروری نہیں درست ہو،جس طرح وہ دوسروں کی رائے پر نکتہ چینی کر رہے ہیں دوسرے بھی اُن کی رائے کو جھٹلانے کا حق رکھتے ہیں،جس طرح اٹھارہویں ترمیم کے بارے میں اُن کے خیالات حرفِ آخر نہیں کہے جا سکتے اسی طرح اُن کے مخالفین کے خیالات بھی کوئی الہامی نہیں۔البتہ یہ درست ہے کہ آئین میں اٹھارہویں ترمیم آئین میں طے شدہ طریقِ کار کے تحت منظور ہوئی تھی، اب اگر اِس ترمیم کے کسی حصے پر کسی کو اعتراض ہے تو اس کے لئے بہتر یہ ہے کہ وہ آئین میں مزید ترمیم کرا لے،لیکن اس کا طریقہ بھی آئینی اختیار کرنا پڑے گا، کسی کی خواہش یا دھونس کے ذریعے آئین میں ترمیم نہیں ہو سکتی۔فیصل واوڈا کی جماعت برسر اقتدار ہے،وہ اپنے وزیراعظم کو کہیں کہ اس ترمیم کے فلاں فلاں حصے کو بدلنے کی ضرورت ہے،اِس لئے آئینی ترمیم کا اہتمام کریں،لیکن یہ کام محض نیک خواہشات سے نہیں ہو گا۔ تحریک انصاف کے پاس تو قومی اسمبلی میں سادہ اکثریت بھی نہیں، وفاقی حکومت آٹھ دوسری جماعتوں کی بیساکھیوں کے سہارے کھڑی ہے،اِن میں سے کوئی ایک بیساکھی کھسک گئی تو فیصل واوڈا کی پارٹی کی حکومت ختم ہو جائے گی، ایسے میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے خاتمے کا خواب دیکھنا درست نہیں،اِس لئے وہ آئینی ترمیم پر اظہارِ خیال سے پہلے معروضی صورتِ حال کو سامنے رکھیں تو اچھا ہے۔انہوں نے جوشِ جذبات میں ایم کیو ایم (پاکستان) کے کراچی میئر کو بھی رگڑا لگا دیا اور یہ دھیان نہیں رکھا کہ ایم کیو ایم کے دو وزیر وفاقی کابینہ میں شامل ہیں اور اگر ایم کیو ایم حکومت سے نکل جائے تو یہ دھڑام سے گِر سکتی ہے،اِس لئے بہتر یہ ہے کہ تحریک انصاف کے وزراء جوشیلی باتیں کرنے کی بجائے اپنی حکومت کی مجبوریوں کو پیشِ نظر رکھیں ایسا نہ ہو وہ آئین میں ترمیم کرتے کرتے اپنی حکومت ہی گنوا بیٹھیں۔

مزید :

کامرس -رائے -اداریہ -