بیرونی ممالک میں پاکستانیوں کے اثاثے!

بیرونی ممالک میں پاکستانیوں کے اثاثے!

  

بیرونی ممالک میں پاکستانیوں کی جائیدادوں کے سلسلے میں مزید پیش رفت کا اعلان کیا گیا،وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر کے مطابق برطانیہ اور امارات میں مزید دس ہزار جائیدادوں کا سراغ ملا ہے، ان میں سے تین سو افراد کو اظہار وجوہ کے نوٹس بھجوا دیئے گئے ہیں کہ وہ بتاسکیں، جائیداد کی قانونی حیثیت کیا ہے، ان راہنماؤں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ سابق وزیر خزانہ کے لندن میں مزید دو فلیٹیوں کا پتہ چلا ہے۔بیرونی ممالک میں جائیدادیں بنانا اور ملکی سرمائے کو منتقل کرنے کا یہ معاملہ آج سے نہیں ماضی سے چلا آرہا ہے۔ سابق حکومت نے تو ’’ایمنسٹی سکیم‘‘ بھی نافذ کی جس کے تحت ایسے حضرات نے اپنے بیرونی اور غیر قانونی اثاثے ظاہر کئے معمولی شرح سے ٹیکس ادا کیا اور ان کی ملکیت تسلیم کرلی گئی، اب وزرا کے بقول تحقیق کے بعد مزید دس ہزار جائیدادوں کا علم ہوا اور کارروائی شروع کی گئی تو اس کا خیر مقدم ہی کیا جاسکتا ہے، اب صورت حال یہ ہے کہ جائیدادوں کے یہ سراغ توکئی بار لگائے گئے، انکشافات بھی ہوئے لیکن ابھی تک کوئی بڑی کارروائی نہیں ہوسکی، موجودہ حکومت کے مطابق ابھی تین سو افراد کو نوٹس بھیجے گئے ہیں، ان کو جواب دینا ہوگا، جب جواب موصول ہوں گے تو پتہ چلے گا کہ یہ حضرات تسلیم کرتے ہیں کہ جائیداد ان کی ہے اور انہوں نے ایمنسٹی سکیم سے فائدہ اٹھایا یا نہیں۔ وزیر اطلاعات اور معاون خصوصی کے اعلان سے بہت خوش گمانی ہوتی ہے، اس لئے بہتر ہوگا کہ یہ سب ذرا جلد کیا جائے اور عوام کو آگاہ بھی رکھا جائے، عوام کی تو یہ خواہش ہے کہ جن حضرات نے قومی سرمایہ غیر قانونی طور پر بیرون منتقل کیا ان کا محاسبہ ہو اور سرمایہ ملک کے اندر آئے، شفافیت کا وعدہ ہے تو پورا ہونا چاہئے۔

مزید :

کامرس -رائے -اداریہ -