قلم کی قسم!

قلم کی قسم!
قلم کی قسم!

  

قلم ، زمین والوں کے لئے ایک متبرک آسمانی تحفہ ہے ،اوررب العزت نے اس کی قرآن میں قسم کھائی ۔ جو کچھ کہ لکھا اور جس سے لکھاگیا ۔ قرطاسِ نظر و فصلِ فکر ! کاغذ کی کھیتی میں الفاظ کے بیچ !! جس نے آج جو بویا کل وہی کاٹے گا کانٹے یا گلاب ۔جس طرح ترکِ عمل اور ارتکابِ عمل کا حساب کتاب مقرر ہے، بالکل ایسے قلم کے عمل کا احتساب بھی۔ بلکہ کچھ زائد! جو لکھانہیں جانا چاہیئے تھا، لکھایا پھر جو لکھا جانا چاہیئے تھا ، نہ لکھا۔ لفظوں کی حرمت اور ،مجھے یوں یاد پڑتا ہے کہ آغا شورش کاشمیری نے کہا تھا ، عورتوں کی عصمت ایک سی شے ہیں ۔ کمیاب اور انمول! قلم فروشی درحقیقت قحبگی ہے ۔ ایک غیرت مند انسان، اگر کسی لالچ یا خوف میں اپنی عزت کو پامال نہیں ہونے دے سکتا تو ذاتی مفاد کے لئے وہ چشم خامہ سے ٹپکنے والے مقدس آنسوؤں کی حرمت کیونکر بیچے گا۔ اگر کسی کا قلم فروختنی ہے تو اس کامطلب گویا یہ ہوا کہ اس کا سب کچھ برائے فروخت ہے۔ بازار کا مال ! خود بازاری!! خودبازاری ! جہاں اور جب کوئی بیوپاری لگا، قیمت بڑھی، دام ملے تو بکا!

لکھنے کو کیا نہیں لکھا جارہا اور کون نہیں لکھ رہا، مگر سوال یہ ہے کہ کیا لکھا جارہا ہے ؟ کون لکھ رہا ہے ؟اور کیوں لکھ رہا ہے ؟ ایک سے ایک بڑھ کر نام ہے ۔ پرکار، ہوشیار، چابکدست اور علم دوست! صحافت کے کاریگر!! زبان و بیان کے باٹ سے موتی رولنے اور پھول تولنے والے۔ افسانہ ساز، داستان گو، تجزیہ نگار ! قاتل کے ہمنوا، مقتول کے بھی نوحہ خواں!! اہل اقتدار کے ہاتھ میں ہاتھ، حزبِ اختلاف کا بھی زبانی کلامی ساتھ! یا تو بال کی کھال اتاریں یا کھال کو بھی بال بنا کے رکھ دیں ۔ میں یہ نہیں کہتا کہ جھوٹ لکھا جاتا ہے، لیکن سچ عموماً نہیں لکھتے ۔ ایک قیمت لکھنے کی ہے اور ایک نہ لکھنے کی۔" ہر آدمی کا ایک اپنا سچ ہوتاہے " ۔ شاید کوئی لکھنے والا بزعم خود سچائی کا دامن ہی تھامے رکھتا ہو گا ، لیکن حق اور حقیقت ؟ حقیقت یہ ہے، حق بہت ہی کم لکھا جارہا ہے۔ جسے میں سچ سمجھتا ہوں ، ممکن ہے کہ کوئی دوسرا اسے سچ نہ جانتا اور مانتا ہو لیکن حقیقت تو ریاضی کے کلیہ کی طرح ہے ۲+۲= ۴۔ حقیقت ،اجتماعی شعور کے آخری سرے کا نام ہے ۔ " ناقابل تردید!" میں تو یہ کہتا ہوں کہ جو کچھ لکھاجانا چاہئے، نہیں لکھا جارہا ، اور جو کچھ لکھا جارہا ہے، نہیں لکھا جانا چاہیے تھا!

" حق کو شخصیات کے لئے نہ مانو" ۔ جناب امیرؓ نے فرمایا "شخصیت کو حق سے پہچانو" واقعہ یہ ہے کہ ہم شخصیات کو حق و باطل اور سچ جھوٹ کا معیار نہیں ٹھہرا سکتے اور نہ ہی یہ کسی طور روایابجاہو گا۔ واقعات بھی چونکہ شخصیات سے جڑے ہوتے ہیں ، لہذا واقعات کے آئینے میں رطب و یابس اور مبالغہ کی جھلک بہرحال در آتی ہے ۔ سچ اور جھوٹ کی آمیزش ! پسند و ناپسند کا ملغوبہ! ! تعصبات ؟ جسے چاہا فرشتہ بنادیا ، اور جب ضرورت پڑی کسی کو شیطان بنالیا ، حالانکہ انسان انسان ہوتاہے، فرشتہ یا شیطان نہیں۔ ہم نے یہ دیکھا ہے کہ اکثر اوقات بیشتر اہل قلم شخصیات ہی کے چنگل سے نکل نہیں پاتے ۔ شخصی اچھائیاں اور ذاتی برائیاں گنوانے یا اسی خام پیمانہ سے واقعات دہرانے بیٹھ جاتے ہیں ۔ ایک کو زمین سے پکڑا اور آسمان پر لے جابٹھایا ، کسی دوسرے کو ثریا سے جکڑا اور بلا حیل و حجت تحت الثریٰ میں لاگرایا۔ آخر قلم قبیلہ کی اکثریت اپنے گرد کھنچے ہوئے اس دائرہ ہی کے اندر طواف کیوں کرتی چلی آتی ہے ۔ خود ساختہ حصار سے باہر کیوں نہیں نکل آیاجاتا؟ وہ فکری نشوونما اور ذہنی ارتقاء کیا ہوا؟

وہ سب لوگ جنہیں قلم کی حرمت نے معتبر کیا ، کیوں لکھتے ہیں اور کس کے لئے ؟ قلم اٹھایا ہے تو کچھ حلف بھی تو لیا ہو گا" کیا لکھوگے؟" روشنی یا اندھیرا ؟ موت کی بستی یا زندگی کے شہر کے لئے؟ امن کی عظمت کہ سچ کی رفعت کے لئے ؟ سیاسی مسخروں کے لئے، یا کھوئے حقوق کی بازیابی کے لئے؟ نمرود کی آل اولاد یا قبل از پیدائش قیدیوں کے لئے؟ " انسان جس نے سچ کے لئے ذمہ داری قبول کی اور یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ سچ کی جانب سے لڑے گا، اسے یہ جان لینا چاہیے کہ ہمیشہ سے جاری و ساری اس جنگ میں جو ہر زمانے اور ہر دور میں ہر جگہ لڑی گئی ، ہر میدان ، میدانِ کربلا ہے ۔ تمام مہینے محرم کے مہینے ہیں اور ہر دن عاشورے کا دن ہے" ۔ یہ انقلاب ایران کے معلم کبیر کی آواز ہے ۔ درد کی سنگت ۔ " ہر ایک مجاہد کو خون دینا ہے یا پھر بقول خالد علیگ پیغام!" ہاتھوں میں قلم رکھنا یا پھر ہاتھ قلم رکھنا۔

ایک سے ایک بڑھ کر کالم نویس اور تجربہ کار ترین تجزیہ نگار کے ہوتے ہوئے میں وادی صحافت میں کیوں قدم رکھنے جارہا ہوں ؟ یہ خود کلامی کے سے انداز میں اپنی نوع کا اہم سوال تھا ، مگر اس کا کوئی حتمی و قطعی جواب فی الحال میری گرفت میں نہیں۔ لمحۂ حال میں اس کا جواب بھی ایک سوال متصور ہو گا۔ دراصل اس کا جواب مستقبل کے پردے میں چھپا ہوا ہے۔ اگر تو میں نے قلم کی عظمت و حرمت کو سنبھالے رکھا تو میرا اس حلقے میں داخل یا شامل ہونا خوشگوار ہو گا، نہیں تو اضافی بوجھ!

میں اس سوچ اور جذبہ کے ساتھ ملک سخن کی شہریت اختیار کرنے جارہا ہوں کہ سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ لکھوں گا۔ حق میں باطل کو نہیں ملاؤں گا اور نہ باطل میں حق کو۔ احقاق حق اور ابطال باطل! قلم اٹھانے سے پہلے میں نے رب کا نام لیا ہے۔ سچ اور صرف سچ لکھنے کا عہد کیا ہے۔ گونگے لفظ کبھی نہ برتنے اور ہمیشہ مظلوم کے حقوق کی جنگ لڑنے کا عہد ! میں انہی گرد آلود فضاؤں میں رہتا ہوں، میرا دامن بھی میلا ہو سکتاہے، مگر میں نے یہ عزم باندھا ہے کہ قرطاس و قلم کی آبرو پر کبھی آنچ نہیں آنے دوں گا۔ اچھے کو اچھا لکھوں گا اور برے کو برا۔ ظالم کو ظالم اور مظلوم کو مظلوم! جوکچھ بھی لکھوں گا ، ملکی مفاد اور قومی تناظر میں لکھوں گا ۔ بونے قد کے کسی فرد یا حقیقت کے خلاف کسی واقعہ پر کبھی کچھ نہیں لکھوں گا ۔ وہ کچھ لکھوں گا اور بروقت لکھوں گا، جو لکھا جانا چاہیئے۔ وہ ہر گز نہیں لکھوں گا جو نہیں لکھاجاناچاہئے۔ یہ وعدہ رہا ۔ قلم کی قسم!

مزید :

رائے -کالم -