موٹر سائیکل حادثات کی شرح میں اضافہ اور ہیلمٹ

موٹر سائیکل حادثات کی شرح میں اضافہ اور ہیلمٹ
 موٹر سائیکل حادثات کی شرح میں اضافہ اور ہیلمٹ

  

اس وقت شاہراوں پر رواں دواں، فراٹے بھرتی چھوٹی بڑی گاڑیوں پر اگر ایک نظر ڈالی جائے تو سب سے زیادہ تعداد موٹر سائیکل سوار حضرات کی دیکھنے کو ملے گی۔ چند عشرے قبل موٹر سائیکل صرف شہروں تک محدود تھی، لیکن اب تو دیہاتوں میں بھی ان کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوچکا ہے۔ ایک وقت تھا کہ جب پاکستان میں موٹر سائیکل بنانے والی چند کمپنیاں تھیں، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس انڈسٹری نے بھی خوب ترقی کی اور آج صورت حال یہ ہے کہ موٹرسائیکل بنانے والی کمپنیوں کی تعداد ستر کے قریب پہنچ چکی ہے، جبکہ موٹر سائیکل استعمال کرنے والوں کی تعداد پانچ ملین سے بھی تجاوز کرچکی ہے، جن میں روز بروز اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق آئندہ چند برسوں میں پاکستان کا شمار بھی ان بڑے ممالک میں ہوگا، جہاں موٹر سائیکلز کی مینوفیکچرنگ اور فروخت سب سے زیادہ ہوگی، اگر اعدادو شمار کے چکر میں نہ بھی پڑیں تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پہلے پورے محلے میں چند لوگوں کے پاس اپنی موٹر سائیکل ہوتی تھی،

اب ہر گھر میں موجود ہے، بلکہ گھر کے زیادہ افراد کے پاس اپنی ذاتی موٹر سائیکل ہے۔اس کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ موٹر سائیکل اب ماہانہ کی بنیاد سے لے کر روزانہ کی قسطوں کی ادائیگی پر بھی دستیاب ہے، خریداری کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے۔ اب ایک طرف تو موٹر سائیکل بلاشبہ سستی سواری ہے، لیکن تصویر کا دوسرا رخ دیکھا جائے تو عصر حاضر میں یہ ایک نہائت خطرناک ترین سواری بھی بن چکی ہے، اس وقت موٹر سائیکل ایکسیڈنٹس کا گراف مسلسل بڑھ رہا ہے، بلکہ اس طرح کے ایکسیڈنٹس روز مرہ کا معمول بن چکے ہیں، اخبارات موٹر سائیکل ایکسیڈنٹس سے بھرے پڑے ہیں، اگر آپ کو ہسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز میں جانے کا اتفاق ہو تو زیادہ تعداد موٹر سائیکل ایکسیڈنٹ حضرات کی دیکھنے کو ملے گی، موٹر سائیکل ایکسیڈینٹس کی وجوہات کا جائزہ لیا جائے تو کئی عوامل ہیں، لیکن ہم یہاں چند ایک کا ذکر کریں گے ان میں سب سے بڑی وجہ تیز رفتاری ہے۔ زیادہ تر لوگ اتنی تیز رفتاری سے موٹر سائیکل چلا رہے ہوتے ہیں کہ خدا کی پناہ ایسے افراد نے دراصل اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کی زندگیاں بھی داؤ پر لگا رکھی ہوتی ہیں۔ صرف دو پہیوں پر مشتمل ایسی سواری جس کا توازن تھوڑی سی رکاوٹ پر بھی بگڑ جائے، اسے اَسی سے سو کلومیٹر فی گھنٹہ یا اس سے بھی زیادہ تیز رفتاری سے چلانا کہاں کی عقلمندی ہے؟

اتنی تیز رفتار موٹر سائیکل سوار کے سامنے یا سائیڈ سے اگر کوئی دوسری گاڑی آجائے تو وہ کسی طرح بھی اپنی موٹر سائیکل کو کنٹرول نہیں کرسکتا اور نتیجہ حادثے کی صورت میں نکلتا ہے، اگر مناسب سپیڈ رکھی جائے تو اس قسم کے حادثات میں خاطر خواہ کمی لائی جاسکتی ہے، لیکن نجانے ہمارے لوگوں کو اتنی جلدی کیا ہوتی ہے، کم از کم ہماری سمجھ سے تو باہر ہے۔ اس کے علاوہ چھوٹی عمر کے بچے بھی تیز رفتاری سے موٹر سائیکل بھگا رہے ہوتے ہیں، جن کو نہ تو موٹر سائیکل ٹھیک طرح سے چلانا آتا ہے اور نہ ہی ٹریفک کے اصولوں کا پتہ ہوتا ہے اور وہ حادثے کا باعث بنتے ہیں یا خود حادثے کی نذر ہو جاتے ہیں۔ اِس ضمن میں والدین سے گزارش ہے کہ وہ اس معاملے میں بہت زیادہ احتیاط برتیں، اِس سے پہلے کہ خدانخواستہ عمر بھر کا پچھتاوا بن جائے۔ بچوں کے ساتھ ساتھ بعض بڑی عمر کے افراد بھی موٹر سائیکل چلاتے دکھائی دیتے ہیں، جن کو ٹھیک طرح سے ڈرائیونگ نہیں آتی اور حادثے کا سبب بنتے ہیں، اِن ایکسیڈینٹس کی ایک اور بڑی وجہ موٹر سائیکل پر ایک سے زائد افراد کا سفر کرنا بھی ہے،

لیکن بعض اوقات تو چار چار افراد بھی سوار ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے مومینٹم بہت بڑھ جاتا ہے اور موٹر سائیکل پر کنٹرول نہیں رہتا۔ اس کے علاوہ موٹر سائیکل استعمال کرنے والے حضرات اشاروں کا استعمال نہیں کرتے اور زیادہ تعداد میں تو ایسے موٹر سائیکل ہیں، جن کے اشارے سرے سے ہیں ہی نہیں، اگر مڑتے وقت دائیں بائیں دیکھ لیا جائے تو کئی ناخوشگوار واقعات سے بچا جاسکتا ہے۔ غلط اوور ٹیکنگ بھی موٹر سائیکل ایکسیڈینٹس کی ایک بڑی وجہ ہے۔ کئی موٹر سائیکل سوار روزانہ غلط اوور ٹیکنگ کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں، اب خدانخواستہ ایکسیڈنٹ ہو جائے تو سر کے زخموں کی سب سے بڑی وجہ ہیلمٹ کا استعمال نہ ہونا ہے۔ ہیلمٹ زندگی بچانے کے لئے ہے، لیکن ہم بدقسمتی سے اسے صرف جرمانے سے بچنے کے لئے استعمال کرتے ہیں، ایک رپورٹ کے مطابق ہیلمٹ کے استعمال سے ستر فیصد تک مہلک قسم کی انجری کے چانس کم ہوتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے ہمارے یہاں بمشکل دس فیصد افراد ہی ہیلمٹ استعمال کرتے ہیں۔

دنیا کے کئی ممالک میں ہیلمٹ کے بغیر موٹر سائیکل نہیں چلایا جاسکتا، لیکن ہمارے یہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق موٹر سائیکل حادثات کے نتیجے میں سب سے زیادہ اموات دماغی چوٹ کی وجہ سے ہوتی ہیں، اگر کسی بھی موٹرسائیکل سوار نے ہیلمٹ پہن رکھا ہو تو سیریس قسم کی انجری سے بچ سکتا ہے۔ خیر اب تو لاہور ہائیکورٹ کے ایک حکم کے مطابق ہمارے یہاں بھی ہیلمٹ لازمی قرار دے دیا گیا ہے اور لاہور سمیت بڑے شہروں میں جرمانے کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا ہے۔ ہمارے خیال میں تو اس عمل کو جتنا بھی سراہا جائے کم ہے، لیکن سوشل میڈیا پر اس حوالے سے ملا جلا ردعمل دیکھنے کو ملا۔ زیادہ تر صارفین نے اسے بہترین عمل قرار دیا تو بعض صارفین بھاری جرمانے پر نالاں بھی دکھائی دیئے کہ غریب عوام ان جرمانوں کی سکت نہیں رکھتے۔

عرض یہ ہے کہ زندگی سے بڑھ کے کچھ بھی زیادہ قیمتی نہیں ہے اور باقی جو آدمی کم از کم چالیس پچاس ہزار کا موٹر سائیکل خرید سکتا ہے، ایک ہزار کا ہیلمٹ بھی خرید سکتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ اس حوالے سے کسی بھی طرح کی رعایت نہ دی جائے اور ساتھ ساتھ موٹر سائیکل کمپنیوں کو بھی پابند کرے کہ وہ ہیلمٹ کے بغیر موٹر سائیکل فروخت نہ کریں۔ ایک بات یہاں دیکھنے کو ملی ہے کہ ہیلمٹ کی قیمتوں میں خود ساختہ اضافہ کر دیا گیا ہے تو اس صورت حال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے حکومت کو چاہیے کہ وہ کوالٹی کے لحاظ سے ان کی قیمت مقرر کر دے۔

اب عوام الناس سے بھی گزارش ہے کہ وہ نہ صرف ہیلمٹ کا استعمال کریں، بلکہ ہیلمٹ بھی اچھی قسم کا خریدیں، کیونکہ گھٹیا میٹریل سے بنا ہیلمٹ بجائے فائدے کے اور زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ آخر میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ موٹر سائیکل ایکسیڈنٹس کی شرح کم کیسے کی جاسکتی ہے؟ اس کے لئے چند احتیاطی تدابیر ضروری ہیں، مثلاً ٹریفک قوانین پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے۔ اشاروں کا بالکل صحیح استعمال کیا جائے، صرف یہی نہیں سڑک پر کسی بھی وقت مڑتے ہوئے آگے، پیچھے، دائیں، بائیں ضرور دیکھنا چاہئے، جب تک موٹر سائیکل چلانے کا طریقہ ٹھیک طرح سے نہ سیکھ لیا جائے، موٹر سائیکل ہرگز نہ چلائیں اور سب سے اہم بات کہ سپیڈ پر قابو پایا جائے، کیونکہ دیر سے پہنچنا کبھی بھی نہ پہنچنے سے بہتر ہے۔

مزید :

رائے -کالم -