پاکستان کی محبت میں آنسو!

پاکستان کی محبت میں آنسو!
 پاکستان کی محبت میں آنسو!

  

پاکستان کی محبت میں آنکھیں نم ہو جانا اب ایک خبر بن جاتی ہے،حالانکہ وطن کی محبت تو چند ارفع و اعلیٰ ترین جذبوں میں سے ایک ہے۔سپریم کورٹ کے مسٹر جسٹس عمر عطا بندیال پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے،اُن کی آواز رندھ گئی،اُنہیں دیکھ کر چیف جسٹس ثاقب نثار اور دیگر حاضرین کی آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے۔یہ جذبہ تو ہر پاکستانی میں ہونا چاہئے،پھر یہ کبھی کبھار کیوں نظر آتا ہے۔کیا ہم پاکستان کو بھولے ہوئے ہیں، اپنی ذات میں کھو کر رہ گئے ہیں،اپنے مفادات میں اُلجھ کر پاکستان کی محبت کو فراموش کر بیٹھے ہیں، مان لینا چاہئے کہ ہم سب سے یہ جرم سر زد ہوا ہے۔ پاکستان پیچھے رہ گیا ہے اور ہم اپنے مفادات سمیت آگے بڑھ گئے ہیں۔خوشی اِس بات کی ہے کہ آج کل پاکستان کا ذکر ہو رہا ہے،وگرنہ تو یہ ہماری اشرافیہ کا موضوع ہی نہیں۔ یہاں کوئی یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ پاکستان کو لوٹا گیا ہے،

اسے برباد کیا گیا ہے۔ شیدے ریڑھی والے سے لے کر اعلیٰ مناصب پر بیٹھے ہوئے لوگوں تک سب اپنی ذات کے اسیر نظر آتے ہیں۔اِس بات کو اپنا حق سمجھ بیٹھے ہیں کہ ہمیں آزاد رہنا ہے۔یہ بھول گئے ہیں کہ آزادی کی قیمت بھی چکانا پڑتی ہے۔قربانی بھی دینا پڑتی ہے۔پاکستان ہم سے کچھ نہ مانگے اور ہم اُس سے سب کچھ لیں،یہ ہمارا وطیرہ بن چکا ہے،ہر پاکستانی اگر تنہائی میں بیٹھ کر اپنے گریبان میں جھانک کر یہ پوچھے کہ وہ زندگی میں پاکستان کے لئے کتنی بار رویا ہے،کتنی بار اُس کی محبت میں اپنی آنکھیں نم کی ہیں، تو اُسے اپنا دامن اس نعمت سے خالی نظرآئے گا۔ ہمیں تو ساری زندگی اِس بات کا بھی خیال نہیں آتا کہ جس زمین پر ہم آزادی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، وہ خیرات میں نہیں ملی،بلکہ اس کے لئے لاکھوں جانوں اور عصمتوں کی قربانی دی گئی ہے۔

کوئی کچھ بھی کہتا رہے،لیکن میرے نزدیک چیف جسٹس میاں ثاقب نثار ایک مسیحا ہیں،وہ مسیحا جنہوں نے پاکستانیت کو زندہ کیا ہے،اُس کے تن ِ مردہ میں جان ڈال دی ہے۔لوگ کہتے ہیں جو وہ کر رہے ہیں، اُن کا کام نہیں،اُنہیں اپنے ادارے پر توجہ دینی چاہئے،مگر مَیں سوچتا ہوں کہ اگر اُن کی باتوں سے پاکستانیت کا جذبہ پوری شدت سے بیدار ہو جاتا ہے تو پھر ہر جگہ تبدیلی آئے گی،سب ٹھیک ہو جائیں گے،وطن کا سوچیں گے،اپنی ذات سے ماورا ہو کر فیصلے کریں گے۔قصہ تو پانی کی کمی سے شروع ہوا تھا، پھر ڈیم کی طرف گیا اور اب اُس پانی کا ذکر ہونے لگا ہے،جو آنکھ میں نظر آتا ہے۔ اگر آنکھ کا پانی مر جائے تو انسان جیتے جی مر جاتا ہے۔اکہتر برس گزر گئے، ہمارے حالات نہیں بدلے،ہم ایک قوم نہیں بن سکے۔ ایک ہجوم بن کر زندگی گزار رہے ہیں۔قوم بننے کے لئے بنیادی شرط اپنے وطن سے محبت ہے۔زبانی کلامی نہیں، بلکہ عملی محبت جو ہمارے کردار و عمل میں نظر آئے۔

یوں کہنے کو تو یہاں ایک سے بڑھ کر ایک محب وطن پڑا ہے،مگر اُس کے اعمال دیکھے جائیں تو وہ ملک کی جڑیں کھوکھلی کرتا ملے گا۔یہ ڈیم کا معاملہ ہی دیکھ لیں،کسی نے اسے ایک تحریک بنانے پر توجہ دی،یہ تحریک تو چلتی رہی کہ کالا باغ ڈیم نہیں بننے دیں گے،مگر کسی نے یہ نہیں سوچا کہ ڈیم نہ بنے تو اِس مُلک کا کیا ہو گا؟فیصلہ کرنے والوں کے اپنے گھروں اور محلات میں چونکہ پانی کی کبھی کمی نہیں رہی،اِس لئے انہیں اِس بات کا احساس ہی نہیں تھا کہ ڈیم کے بغیر ملک بنجر ہونے جا رہا ہے۔مَیں کہتا ہوں اگر سبھی قائدین سچے پاکستانی بن کر سوچیں اور دِل میں پاکستان کے درد کو زندہ رکھیں تو کالا باغ ڈیم بنانے پر بھی رضا مند ہو جائیں۔بیڑہ غرق ہو اِس سیاست کا، جس نے پاکستان کی محبت کو پیچھے چھوڑ دیا اور خود آگے آ گئی۔سب اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات میں اس طرح اُلجھے کہ پاکستان کا عظیم تر مفاد اُن کی نظروں سے اوجھل ہو گیا۔جو لوگ ’’ڈیم بناؤ مہم‘‘ کو فنڈز اکٹھا ہونے کی رفتار کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں،وہ کوتاہ نظر ہیں،اصل کامیابی یہ ہے کہ آج ڈیم بنانے کا خیال ہر پاکستانی کے دِل میں جاگزیں ہو گیا ہے۔یہ واحد تحریک ہے جو سڑکوں پر آئے بغیر کامیابی سے ہمکنار ہوئی ہے۔ 22کروڑ عوام اِس بات پر متفق ہو گئے ہیں کہ ملک میں ڈیم ضرور بننے چاہئیں،سب کو یہ فکر بھی لاحق ہو گئی ہے کہ اگر ڈیم نہ بنے تو چند برسوں میں پاکستان قحط اور خشک سالی کا شکار ہو سکتا ہے۔

یہ ضروری تو نہیں کہ ہماری آنکھ میں پاکستان کے لئے آنسو اُسی وقت آئیں جب اُس کے ساتھ کوئی سانحہ ہو،دُکھ اور محبت کے آنسوؤں میں بہت فرق ہوتا ہے۔مَیں14برس کا تھا، جب سانحہ مشرقی پاکستان پیش آیا۔ مجھے وہ دن نہیں بھولتا جب میرے والد پھوٹ پھوٹ کر روئے تھے۔وہ چونکہ انڈین آرمی میں حوالدار تھے اور پاکستان بننے کے بعد پاکستان کی فوج میں آ گئے تھے، اِس لئے سقوطِ ڈھاکہ کی شکست اُن کے لئے بہت بڑا صدمہ تھی۔دوپہر بارہ بجے کے قریب جب ریڈیو پر اعلان ہوا کہ پاکستانی فوج نے ہتھیار ڈال دیئے ہیں تو صرف وہی تھے گھر میں جو اِس صدمے کی شدت سے نڈھال تھے،کیونکہ ہمیں تو چھوٹے ہونے کی وجہ سے اِس کا احساس ہی نہیں تھا۔میری والدہ اور ہم سب بہن بھائی اُن کے گرد اکٹھے ہو گئے،اُن کی آنکھوں میں آنسو تھے کہ رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔پھر انہوں نے رُندھی ہوئی آواز میں سمجھایا کہ پاکستان کا آدھا حصہ ہم سے چھن گیا ہے،ہم آدھے رہ گئے ہیں۔انہوں نے گھر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا اگر اس کا ایک حصہ کوئی لے جائے تو تمہیں کیسا محسوس ہو گا؟ہم سب دُکھی ہو گئے،یہی آج ہمارے ساتھ ہوا ہے،اُن کی آنکھوں میں پاکستان کے لئے دُکھ کے آنسو تھے، مجھے آج تک اُن کے یہ آنسو نہیں بھولتے،اللہ نہ کرے کہ ہم پھر کبھی ایسے دُکھ کے آنسو دیکھیں، ہماری آنکھوں میں پاکستان سے محبت کے آنسو آنے چاہئیں۔ان محبت کے آنسوؤں کا اگر ذکر جسٹس عمر عطا بندیال اور چیف جسٹس ثاقب نثار کی وجہ سے زندہ ہوا ہے تو ہمیں اُن کی قدر کرنی چاہئے۔یہ آنسو صرف خوش نصیبوں کی آنکھ میں آتے ہیں،جن کا دِل اپنی مٹی کی محبت میں دھڑکتا ہے،جنہیں اِس بات کا یقین ہوتا ہے کہ وطن کی محبت سے بڑھ کر دُنیا میں اورکوئی قیمتی شے نہیں۔

چیف جسٹس ثاقب نثار پاکستان سے محبت کی نئی جہتیں اور نئی صورتیں متعارف کرا رہے ہیں۔لگتا یہی ہے کہ آج کل وہ خود جس کیفیت کے زیر اثر ہیں،دوسروں کو بھی اُس میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔ اُن کی یہ بات بھی اسی کیفیت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ پاکستان کو ہر پاکستانی اپنا معشوق بنا لے۔ معشوق وہ ہستی ہے،جس سے عشق کیا جاتا ہے،اور جس سے عشق ہو جائے اُس کی دِل و جان سے حفاظت کی جاتی ہے۔اُس کی ہر بات پر سر تسلیمِ خم کیا جاتا ہے۔اُس کے لئے اپنی راحت اور سُکھ چین قربان کرنا پڑتا ہے۔چیف جسٹس یہی پیغام عام کر رہے ہیں، معشوق کا لفظ انہوں نے غالباً سوچ سمجھ کر استعمال کیا ہے۔ یہ عام فہم لفظ ہر ایک کو سمجھ آ جاتا ہے۔ملک کو معشوق بنانا گویا کسی شخص کے محدود عشق سے نکل کر ایک لامحدود عشق میں داخل ہونا ہے۔پھر جس طرح ہم پاکستان کو اپنا رقیب سمجھ بیٹھے ہیں اور ہر کام اُس کے مفاد کو پسِ پشت ڈال کر کرتے ہیں، اُس کا توڑ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ ہم پاکستان سے رقابت کے تعلق کو چھوڑ کر عشق کے تعلق کو استوار کریں۔اگر ہمیں واقعی پاکستان سے عشق ہو جائے تو ہم ٹیکس بھی دیں گے،قانون پر عمل بھی کریں گے۔

رشوت، ملاوٹ اور دھوکہ دہی بھی چھوڑ دیں گے،اپنے فرائض ایمانداری سے ادا کرنے کا ارادہ باندھ لیں گے، پاکستان کو صاف ستھرا رکھیں گے،اس کی املاک پر ناجائز قبضے نہیں کریں گے، ہماری سیاست، عدالت،پارلیمینٹ، انتظامیہ، عوام سب پاکستان کے اچھے عاشق کی طرح اُس کے قانون اور آئین کی پیروی کریں گے۔پاکستان سے عشق کے بعد ہمارے اندر صحیح معنوں میں قومیت کا جذبہ پروان چڑھے گا۔ صوبائیت، علاقائیت، لسانیت اور نسلی تضادات ختم ہو جائیں گے،سب کا ایک ہی معشوق ہو گا، پیارا پاکستان۔ یہ کوئی نیا آئیڈیا نہیں،دُنیا کی جو قومیں اس وقت ترقی و خوشحالی کے عروج پر کھڑی ہیں،اُن کے عوام اور ملک میں عاشق اور معشوق کا رشتہ ہی ہے،وہاں کوئی اپنے گھر کے باہر کوڑا اس لئے نہیں پھینکتا کہ معشوق کی توہین ہو گی۔قانون اِس لئے نہیں توڑتا کہ معشوق ناراض ہو جائے گا، ملک کے خلاف کوئی زبان کھولے تو اُسے اِس لئے معاف نہیں کرتا کہ اپنے معشوق کی توہین اُسے گوارا نہیں۔پاکستان سے عشق کا یہ تعلق ہمیں بھی اب قائم کرنا ہے۔ہماری آنکھیں بھی پاکستان کی محبت میں نم ہونی چاہئیں۔یہ پیارا پاکستان جس نے ہم سے آج تک کچھ نہیں مانگا، کیا ہم اُسے اپنی سچی اور بے لوث محبت بھی نہیں دے سکتے۔

مزید :

رائے -کالم -