بُک شیلف:ظفر نامہ رنجیت سنگھ (1)

بُک شیلف:ظفر نامہ رنجیت سنگھ (1)
بُک شیلف:ظفر نامہ رنجیت سنگھ (1)

  

نام کتاب:ظفر نامہ رنجیت سنگھ

مصنف:امر ناتھ اکبری

زبان:فارسی

تدوین:سیتا رام کوہلی، ایم اے لیکچرار(تاریخ)

گورنمنٹ کالج، لاہور

پبلشرز:پنجاب یونیورسٹی، لاہور

سالِ اشاعت1928:ء

صفحات308:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کتاب کا متن تو فارسی زبان میں ہے لیکن اس کا تعارف انگریزی میں ہے جو 16صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ انگریزی زبان ہی میں ان اجنبی الفاظ کی تشریح دی ہوئی ہے جن کی اصل انگریزی نہیں، پنجابی ہے۔ یہ 3صفحات میں درج ہے اور ان کے بعد اغلاط نامہ ہے جو 4صفحات پر پھیلا ہوا ہے۔ انگریزی زبان کی طرح اس کتاب کے آخر میں بھی 10صفحات پر مشتمل انڈکس بھی شامل ہے جو ان شخصیات کے بارے میں ہے جو فارسی متن میں درج ہیں۔ اس اشاریئے (Index) کو ایک نظر دیکھ کر اندازہ ہو جاتا ہے کہ مرتب نے اس پر کتنی محنت کی ہوگی۔ انگریزی زبان کے تتبع میں یہ انڈکس بھی حروف تہجی کی ترتیب میں دیا گیا ہے۔ مثلاً حرف (ت) میں جن شخصیات کا نام ہے ان میں تاراسنگھ، (راہوں والا)۔۔۔تارا چند۔۔۔ تیج سنگھ۔۔۔ تیغ بہادر اور تیمور شاہ شامل ہیں۔ ان کے سامنے وہ صفحات درج ہیں جن میں یہ نام آئے ہیں۔ کسی بھی قاری یا محقق کے لئے یہ انڈکس بہت فائدہ مند ہوتا ہے۔ نوٹ کرنے کی بات یہ بھی ہے کہ آج سے 90برس پہلے فارسی زبان میں لکھی گئی اس کتاب میں انڈکس کا جو اہتمام کیا گیا ہے وہ کس درجہ قابلِ تحسین ہے۔

یہ گراں بہا کتاب میرے ہاتھ کیسے لگی تو اس کا کریڈٹ میرے ایک رفیقِ کار پروفیسر خالد ہمایوں صاحب کو جاتا ہے۔ پروفیسر صاحب ازسر تاپا ’’پروفیسر‘‘ ہیں۔ ان کی سب سے بڑی صفت ’’بھول جانا‘‘ ہے۔ میرا خیال ہے خود فراموشی ان کو اپنے پیشۂ تدریس کی اس روائت (Legend) سے عطا ہوئی ہے جو پروفیسر حضرات کے ساتھ خاص تصور کی جاتی ہے۔ وہ ماہنامہ قومی ڈائجسٹ کے ایڈیٹر بھی ہیں اور اسی اخبار (پاکستان) میں کالم نویسی بھی کرتے ہیں۔ لیکن ان کی کالم نگاری کو دیکھ اور پڑھ کر یہ اندازہ لگانا کہ وہ کسی خود فراموشی وغیرہ کا شکار ہیں، ازبس غلط ہو گا۔ جہاں تک میں نے ان کو دیکھا ہے وہ زبانی کلامی چیزوں کی یادداشت سے اتنے ہی بے خبر رہتے ہیں جتنے تحریری مضامین اور موضوعات سے باخبر ہیں۔۔۔۔ ان کی تحریریں پڑھ کر یہ اندازہ نہیں لگایا جاسکتا کہ وہ کسی طرح کے نسیان وغیرہ کا شکار ہیں۔۔۔ ان کی یہ خوبیاں دیکھ کر تو مجھے غالب یاد آتا ہے:

ستائش گر ہے زاہد جس قدر اس باغِ رضواں کا

وہ اِک گلدستہ ہے ہم بیخودوں کے طاقِ نسیاں کا

خالد ہمایوں صاحب کو پرانی کتابیں پڑھنے اور ڈھونڈنے کا ازبس شوق ہے اور سچی بات یہ ہے کہ اگر کسی کو یہ شوقِ فراداں لاحق نہ ہو تو وہ شخص ’’پروفیسر‘‘ کہلانے کا حقدار نہیں ہو سکتا۔ ان کی دوسری صفت یہ ہے کہ چونکہ یونیورسٹی (اورینٹل کالج لاہور) میں پنجابی زبان کے استاد رہے ہیں اس لئے اس زبان سے والہانہ شغف رکھتے ہیں۔ البتہ ان کی تیسری صفت جو ہے وہ قابلِ ستائش بھی ہے اور قابلِ اعتراض بھی۔۔۔ ان کو نہ صرف پاکستانی پنجاب کے پنجابی ادب اور اس کی ثقافت سے بے انتہا لگاؤ ہے بلکہ بھارتی پنجاب کی پنجابی اور بالخصوص ’سکھوں‘ کی پنجابی کے تو جنون کی حد تک عاشقِ زار ہیں۔ میں نے کئی دفعہ ان کے بارے میں سوچا ہے کہ وہ اگر کہیں امرتسر یا ترن تارن میں رہ جاتے تو سکھ حضرات ان کو سر آنکھوں پر بٹھاتے، ان کو کینیڈا کی سیر کرواتے اور ان کے اوصافِ گزیدہ کے صدقے واری جاتے!

مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ ان کو سکھوں کی تاریخ و زبان و ثقافت سے اتنی دلچسپی کیوں ہے۔ ان کی لائبریری میں اگر 1000کتابیں ہوں گی تو ان میں کم از کم آدھی سکھوں کی ثقافت اور بالخصوص ’سکھ دربار‘ کے بارے میں ہوں گی جو 19ویں صدی کے آغاز سے لے کر اسی صدی کے وسط تک قائم رہا۔ رنجیت سنگھ کی سلطنت مشرق میں دریائے ستلج سے لے کر مغرب میں دریائے کابل کے منبع تک پھیلی ہوئی تھی جس میں آج کے کشمیر، گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا، فاٹا، سوات اور افغانستان کے صوبہ جات کابل و قندھار شامل تھے۔ رنجیت سنگھ کا عہد بلاشبہ، ایک ایسا شعلہ ء مستعجل تھا جو نصف صدی تک درج بالا علاقوں میں چمکتا دمکتا رہا اور آخر رنجیت سنگھ کی موت کے بعد اس کے جانشینوں کی اس ’سکھا شاہی‘ سے گُل ہو گیا جس کے چرچے آج تک کئے جاتے ہیں۔ 1846ء میں انگریزوں نے دریائے ستلج کے کنارے سبراؤں کے مقام پر خالصہ فوج کو تب شکست دی جب رنجیت سنگھ کی وفات کو سات برس گزر چکے تھے۔ اس تاریخی لڑائی (Battle)کے بعد 19ویں صدی کا دوسرا نصف(1849ء تا1900ء)، برصغیر کے اس شمال مغربی حصے کا ایک نیا دور تھا جس کی باقیات میں ہم پاکستانی بھی آج شامل ہیں!

اب زیرِ تبصرہ کتاب کی طرف آتے ہیں۔۔۔

اس کا متن فارسی زبان میں ہے اور یہ تالیف ایک ہندو مورخ امرناتھ کی ہے۔۔۔ پہلے مورخ کا مختصر حال احوال جانتے ہیں۔۔۔ امرناتھ کے اجداد کشمیر کے رہنے والے پنڈت تھے۔1803ء میں جب لارڈ لیک (Lord Lake) نے دہلی پر قبضہ کیا تو امرناتھ کے دادا بخت مل کشمیر سے دہلی آ گئے۔ چونکہ محنتی اور قابل شخص تھے اس لئے بہت جلد حکمرانوں کی نظروں میں سما گئے۔ 1815ء میں عہدِ رنجیت سنگھ میں دیوان گنگارام نے پنڈت بخت مل کو لاہور بلوا لیا۔ پنجاب میں 1801ء میں رنجیت سنگھ نے مہاراجہ کا لقب اختیار کیا اور تختِ لاہور پر 39سالہ اس طویل سکھ حکمرانی کا آغاز کیا جو اس کی وفات (1839ء) کے بعد بھی 6،7سال تک باقی رہی اور آخر انگریزوں نے، جیسا کہ اوپر کہا گیا،1846ء میں لاہور پر قبضہ کرکے اس کا خاتمہ کر دیا۔

پنڈت بخت مل کے بڑے بیٹے کا نام دینا ناتھ تھا جو عربی،فارسی اور کشمیری زبانوں پر کامل دسترس رکھتا تھا۔ 1826ء میں رنجیت سنگھ کے ایک مشہور وزیر،دیوان گنگا رام کا انتقال ہوا تو اس کی جگہ دینا ناتھ نے سنبھالی اور اسے سول بیور وکریسی کا انچارج بنا دیا گیا۔ 1834ء میں جب رنجیت سنگھ کا وزیر خزانہ دیوان بھوانی داس دنیا سے رخصت ہوا تو خزانے کا چارج بھی دینا ناتھ کو مل گیا۔ رنجیت سنگھ کو دینا ناتھ پر اتنا اعتماد تھا کہ وہ مالی معاملات کے علاوہ دوسرے حکومتی شعبوں کے مسائل کے حل میں بھی دینا ناتھ سے صلاح مشورہ کرتا رہتا تھا۔۔۔

امرناتھ اسی دینا ناتھ کا بیٹا تھا جو 1822ء میں پیدا ہوا اور 45 سال کی عمر میں 1867ء میں بعارضہ ہیضہ اس کا انتقال ہو گیا۔۔۔ یہ شخص نابغہ ء روزگار تھا!

جب 1828ء میں وہ 6سال کا تھا تو اس کو مولوی احمد بخش چشتی کے مدرسے میں بھیج دیا گیا۔ امرناتھ وہاں پانچ سال تک مولوی چشتی صاحب کے سامنے زانوئے تلمذ طے کرتا رہا اور نہ صرف عربی، فارسی میں کمال حاصل کیا بلکہ صرف گیارہ برس کی عمر میں فارسی نثر پر کامل دستگاہ حاصل کر لی۔ فارسی شاعری سے امرناتھ کو خاص لگاؤ تھا اور اس کم عمری میں بھی وہ ایران اور ہندوستان کے اکابر شعرا کی بحروں میں غزلیں کہنے لگا۔ مولوی صاحب نے امرناتھ کو اس کے اصرار پر قرآن حکیم بھی پڑھایا اور احادیث کا عالم بھی بنا دیا۔اسی عمر میں اس نے اپنے استاد محترم کے کہنے پر فارسی زبان میں ایک معرکتہ آلارا مضمون لکھا جس میں لاہور کے باغات کا بڑی خوبصورتی سے نقشہ کھینچا۔ پندرہ صفحات پر مشتمل یہ مضمون فارسی میں ہے اور زیرِ تبصرہ کتاب میں شامل ہے۔ اسی مضمون کی اشاعت پر مہاراجہ رنجیت سنگھ نے امرناتھ کو اپنے دربار میں بلایا اور اسے اپنے عہد کی تاریخ لکھنے پر مامور کر دیا۔۔۔ یہ 1832ء کی بات ہے۔

1834ء میں رنجیت سنگھ کی خالصہ فوج نے پشاور پر قبضہ کیا تو افغانوں پر اس فتح پانے کی تاریخ لکھنے کا کام بھی امرناتھ کو سونپا گیا۔ اس وقت درباری زبان فارسی تھی، اس لئے فتحِ پشاور کو بھی ’’فتح نامہ‘‘ کے نام سے ظفرنامہ میں شامل کر لیا گیا۔

ظفر نامہ کے عنوان سے اردو زبان میں کئی اور تصانیف بھی لکھی گئیں لیکن مصنف نے اس کتاب میں اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ اس نے یہ ٹائٹل کیوں منتخب کیا۔ وہ لکھتا ہے کہ رنجیت سنگھ کا عہد مسلسل 39برس تک فتوحات کا عہد تھا اور اسے کسی بھی چھوٹے بڑے معرکے میں شکست کا سامنا نہیں ہوا۔ اور یہ کتاب چونکہ دورِ رنجیت سنگھ کی مختصر تاریخ ہے اس لئے اس دور کو بجا طور پر فتح و ظفر کا دور کہا جا سکتا ہے۔ اور چونکہ اس نام (ظفرنامہ) سے کئی اور تواریخ و تصانیف بھی موجود ہیں، اس لئے اس کا نام ’’ظفر نامہ رنجیت سنگھ‘‘ یعنی ’’رنجیت سنگھ کے دورِ فتوحات کی تفصیل‘‘ رکھا گیا ہے۔۔۔ (ہمیں مصنف کے اس استدلال سے اتفاق نہیں کیونکہ تاریخ میں کئی لڑائیاں ایسی بھی ہیں جن میں رنجیت سنگھ کو شکست ہوئی تھی۔)

اس کتاب کو چار حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔۔۔ پہلا حصہ پہلے 271صفحات پر مشتمل ہے جس میں مہاراجہ کے عہد کے واقعات 40ابواب کی شکل میں درج ہیں۔ یہ حصہ 1801ء سے لے کر 1837ء تک کے عرصے کو کور (Cover) کرتا ہے۔ یعنی رنجیت سنگھ کے انتقال سے دو سال پہلے تک۔۔۔ 1837ء میں مصنف (امرناتھ) کو اس کے والد کی سفارش پر کہ جو مہاراجہ کے ندیمانِ خاص میں تھے ، ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ۔ اس کی وجہ امرناتھ کی سوتیلی والدہ بیان کی جاتی ہے جو امرناتھ کے خلاف اپنے شوہر کے کان بھرتی رہتی تھی۔۔۔

دوسرا حصہ لاہور کے ان باغات کے تذکرے پر مشتمل ہے جو اس خطہ ء پنجاب میں، کشمیرِ جنت نظیر کے بعد خوبصورتی اور زیبائی میں بے مثال ہیں۔ یہ حصہ بھی مہاراجہ کی خصوصی سفارش پر ظفر نامے میں شامل کیا گیا ۔۔۔ تیسرے حصہ میں ایک طویل نظم ہے جس میں اس دور کے دو اعیانِ سلطنت، یعنی مرزا اکرم بیگ اور الٰہی بخش کی باہمی محبت و یگانگت کی داستان ہے۔ یہ الٰہی بخش بعد میں مہاراجہ کے شعبہ ء توپخانہ میں جنرل کے عہدے تک پہنچا۔ اس میں چونکہ اس

دور کے چند اہم تاریخی واقعات بھی نظم کئے گئے ہیں اس لئے اس کو بھی ظفر نامے کا حصہ بنا دیا گیا ۔۔۔ اور چوتھا حصہ بطور قصیدہ شامل ہے جو 15صفحات پر مشتمل ہے۔(جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -