حکومت کی سمجھ میں نہیں آرہاکہ بحران کاکیسے مقابلہ کرے، ڈاکٹر وسیم اختر

حکومت کی سمجھ میں نہیں آرہاکہ بحران کاکیسے مقابلہ کرے، ڈاکٹر وسیم اختر

  

بہاولپور( نامہ نگار)جماعت اسلامی کے سابق پارلیمانی لیڈر پنجاب اسمبلی ڈاکٹر (بقیہ نمبر24صفحہ12پر )

سید وسیم اخترنے کہاہے کہ ڈالر کی قیمت بڑھنے اور گیس و پٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کا سیلاب آرہاہے۔مہنگائی اسی رفتار سے بڑھتی اور روپے کی قدر گھٹتی رہی تو اگلے چند ماہ میں مہنگائی دوگنی ہو جائیگی اور قرضوں کا حجم بھی ایک ہزار ارب سے بڑھ جائیگا۔ محسوس ہوتا ہے کہ بین الاقوامی مافیا روپے کی قدر گھٹانے میں لگاہواہے تاکہ پاکستان کو معاشی میدان میں تباہ کردیا جائے۔ حکومت کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ وہ اس بحران کا کیسے مقابلہ کرے۔حکومت اگر قوم کو ریلیف نہیں دے سکتی تو کم از کم رہی سہی قوت خرید کو تو ختم نہ کرے۔ چولہوں کو بجھانا اور لوگوں سے دو وقت کی روٹی چھیننا تو کوئی معاشی پالیسی نہیں۔ جب تک استحصالی اور طبقاتی نظام ختم نہیں ہوتا اور حکومت اپنا اعتماد بحال نہیں کرتی، معیشت میں کوئی بہتری نہیں آئے گی۔ لوگوں نے حکومت سے بڑی توقعات وابستہ کی تھیں لیکن حکومت کے فیصلے قوم میں مایوسی کا سبب بن رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ معیشت کی کشتی ڈوب رہی ہے حالانکہ ملک میں جمہوریت ہے۔ حکمرانوں نے انتخابات سے قبل معیشت کو پٹڑی پر چڑھانے کے بلند وبانگ دعوے کیے تھے اور قوم کو خوشخبری سنائی تھی کہ وہ آئی ایم ایف کے پاس جانے سے موت کو ترجیح دیں گے۔انہوں نے کہاکہ پوری قوم حکمرانوں کی طرف دیکھ رہی ہے اور عوام اس انتظار میں ہیں کہ انہیں کوئی ریلیف ملے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت اگر آئی ایم ایف کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی بجائے بنکوں سے قرضے لے کر ہڑپ کرنے اور قومی خزانہ لوٹ کر بیرونی بنکوں میں دولت جمع کرنے والوں کی گردنوں پر ہاتھ ڈالے تو معیشت میں بہتری لائی جاسکتی ہے اورمہنگائی کو کنٹرول کیا جاسکتاہے۔ زبانی دعوے اور باتیں کرنے سے معاشی حالات میں بہتری نہیں لائی جاسکتی۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -