ایک بوڑھے بچے کی موت

ایک بوڑھے بچے کی موت
ایک بوڑھے بچے کی موت

  

مجھے ہمیشہ وہی بڑے بوڑھے اچھے لگتے ہیں جن میں بچوں کی سی سادگی، معصومیت اور سچائی ہوتی ہے۔ جو دل میں ہوتا ہے، وہی زبان پر لاتے ہیں۔

کسی بات پر ناراض ہو جائیں تو ذرا سی خوشامد پر راضی ہو جاتے ہیں۔سامنے اچھا بھلا ہموار اور سیدھا راستہ ہوتا ہے، لیکن کسی پگڈنڈی پر چلنا پسند کرتے ہیں۔

ساری دنیا جدھر جا رہی ہوتی ہے۔ اس کے اُلٹ چلتے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی چیزیں دیکھ کر نہ صرف حیران ہوتے ہیں، بلکہ حیرت کا اظہار بھی کر ڈالتے ہیں۔

ڈاکٹر محمد منیر مرزا بھی ایسے ہی بڑے بوڑھے تھے۔ کل وہ اپنی ساری سادگی، معصومیت، سچائی اور حیرتوں کے ساتھ زیرِ خاک جا سوئے۔ ان کی عمر تقریباً نوے برس تھی۔

اے جی آفس میں آڈٹ افسر تھے۔ مرزا صاحب نے اپنے دفتر کے کچھ ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایک ٹورسٹ کلب بنا رکھا تھا۔ پاکستان کا شاید ہی کوئی ایسا علاقہ ہو گا جو انھوں نے خود جا کر نہ دیکھا ہو۔ یہی نہیں وہ سیر و سیاحت کے دوران میں اپنی ڈائری میں نوٹس بھی لینے جاتے تھے۔ لاہور پہنچ کر سب سے پہلا کام یہ کرتے کہ سفر کی تمام حیرتوں کو سفر نامے کی شکل میں لکھتے اور کتابی صورت میں چھاپ کر دوستوں میں تقسیم کرنے نکل کھڑے ہوتے۔

ان کے تقریباً بیس سفرنامے چھپ چکے ہیں۔ میرا ان سے تعلق پچھلے پانچ برسوں میں استوار ہوا اور ایسا استوار ہُوا کہ مرتے دم تک قائم رہا۔یہ تعلق بنائے رکھنے میں میرا کوئی کمال نہ تھا۔

یہ سب ان کا کمال تھا، ان کا سفرنامہ چھپ کر آتا تو اپنی ٹوٹی پھوٹی موٹربائیک چلاتے ہوئے میرے غریب خانے کے دروازے پر پہنچ جاتے۔ کتاب کے ساتھ وہ ہر بار کسی نہ کسی علاقے کی کھانے پینے کی کوئی چیز ضرور لاتے ،جسے ہم سب سوغات سمجھ کر مزے مزے سے کھاتے۔ پکے پیڑھے ادیبوں کی طرح وہ کتاب کی رونمائی کے عادی نہ تھے۔

بس اپنے چند احباب کو اپنی پسند کے کسی مقام پر مدعو کرتے، گھر سے لائی ہوئی چیزیں کھلاتے، پلاتے اور محفل میں موجود ہر شخص کے سامنے اپنی نئی کتاب کا ایک نسخہ رکھ دیتے۔

ان کی آخری پانچ کتابوں کی رونمائیوں میں، مجھے بھی شریک ہونے کا موقع ملا۔ یوں کہیے کہ مجھ پر وہ ضرورت سے کچھ زیادہ ہی مہربان تھے۔ صدارت بھی میری رکھتے اور مہمانِ خصوصی بھی مجھی کو بنا دیتے۔ شاید انھوں نے محسوس کر لیا تھا کہ ان کی طرح میرے اندر بھی ایک کُلبلاتا ہوا بچہ موجود ہے۔

تعلق کو بنائے رکھنے کی ایک کوشش وہ یوں بھی کرتے تھے کہ ہر سال سردی کے دنوں میں ایک مچھلی پارٹی کا اہتمام کرتے جس میں میرے اور ان کے مشترکہ دوست ڈاکٹر ملک محمد یوسف اور برادرم محمد نصیر الحق ہاشمی بھی مدعو ہوا کرتے تھے۔

مجھے تاکید کیا کرتے تھے کہ اپنے دونوں بیٹوں احسن اور جوّاد کو ضرور ساتھ لاؤں۔ وہ چونکہ خود ایک بچے کا دل رکھتے تھے اس لیے بچوں کو اپنے پاس بٹھا کر، ان سے ہنس کھیل کر اور ان سے باتیں کرکے خوش ہوتے تھے۔

کبھی کبھی تو ایسا بھی ہوتا کہ وہ میرے گھر آتے۔ میں نہ مِلتا تو میرے بچوں کے ساتھ بیٹھ جاتے۔ ان کے ساتھ ہنستے کھیلتے، باتیں کرتے، چائے کا کپ پیتے اور چلے جاتے۔

وہ ایسے گرم دمِ جستجو تھے کہ زندگی کے آخری دنوں میں بھی سیاحت کے لیے تربیلا ڈیم کے علاقے میں تھے۔ ان کی زندگی کا معمول یہ تھا کہ صبح سویرے ناشتا کرتے، اخبار پڑھتے اور بائیک اٹھا کر دوستوں کو ملنے کے لیے چل پڑتے۔

پہلا پڑاؤ، ایوانِ عدل میں ڈالتے۔ ان کے حلقہ ء احباب میں کئی وکلا بھی شامل تھے۔ کبھی اے جی آفس جا نکلتے۔ کبھی میوہسپتال چلے جاتے ، کبھی میرے پاس گورنمنٹ دیال سنگھ کالج آ جاتے۔

انتقال سے چند ہفتے پہلے میرے گھر آئے تو میں گھر نہیں تھا۔ میرے والد گرامی احسن اور جوّاد کے ساتھ بیٹھک میں بیٹھے ہوئے تھے۔ مرزا صاحب، میرے والد صاحب کے ساتھ کافی دیر گپ شپ کرتے رہے۔ رات گئے میں گھر پہنچا تو والد صاحب بھی مرزا صاحب کی زندہ دلی، شگفتہ مزاجی اور کھرے پن کے گیت گا رہے تھے۔ کہنے لگے: ’’مرزا صاحب کو دیکھ کر یقین آ گیا کہ اہلِ لاہور واقعی زندہ دل ہوتے ہیں‘‘۔

اسی طرح ایک بار مرزا صاحب گھر آئے۔جانے کے لئے اپنی بائیک پر سوار ہوئے تو میں نے ازراہِ مذاق کہا: ’’مرزا صاحب! آپ بوڑھے ہو گئے ہیں۔

میں آپ کی بائیک کو کِک مار کر اسٹارٹ کر دوں؟‘‘ میری بات سنتے ہی جیسے ان میں کرنٹ بھر گیا۔ انھوں نے پہلی ہی کِک میں بائیک اسٹارٹ کی اور اپنی اگلی منزل کی طرف روانہ ہو گئے۔

مرزا صاحب نے اپنے ایک سفر نامے میں لکھا تھا کہ پہاڑ کبھی بوڑھے نہیں ہوتے۔ میں ان کی بات میں صِرف اِتنا اضافہ کروں گا کہ پہاڑوں کو اپنے پُرشوق قدموں سے کچلنے والے سیاح بھی بوڑھے نہیں ہوتے اور جب میں ان کے لکھے ہوئے سفرناموں کی طرف دیکھتا ہوں تو ایسا لگتا ہے کہ سیّاح کبھی مرتے بھی نہیں۔

ڈاکٹر محمد منیر مرزا کے چلے جانے سے مجھے لگ رہا ہے کہ اس حیرتوں بھری دنیا سے ایک کلبلاتا ہُوا بُوڑھا رخصت ہو گیا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -