دودھ کی آڑ میں زہریلے کیمیکل کی فروخت عروج پر بیماریاں بھی پھیلنے لگیں

دودھ کی آڑ میں زہریلے کیمیکل کی فروخت عروج پر بیماریاں بھی پھیلنے لگیں

  

لاہور(جاوید اقبال)جعلی دودھ بنانے اور فروخت کرنے والے مافیا نے شہر کو دودھ کی شکل میں میٹھے زہر کی منڈی بنا دیا ہے آئے روز بیرون شہر سے آنے والے دودھ کے کنٹینرز لاہور میں جگہ جگہ پکڑے جارہے ہیں اس سے ثابت ہوگیا کہ لاہور میں کیمیکل ملا دودھ فروخت ہو رہا ہے اس کے باوجود لاہور کے گلی کوچوں پسماندہ آبادیوں میں بدبودار دودھ فروخت ہو رہا ہے جس کے پینے سے لوگوں کے معدے اور جگر تباہ ہورہے ہیں ایسے بدبودار دودھ کی فروخت کا مرکز چھوٹی پسماندہ آبادیاں ہیں اس طرح کا دودھ بعض بڑی ملک شاپس پر بھی ہو رہا ہے ایسے دودھ سے جب چائے بنائی جاتی ہے تو اس سے شدید قسم کی بدبو آتی ہے مگر وہ لوگ جو دودھ کی اصل خوشبو اور مہک سے واقف نہیں ان کو یہ پتا تک نہیں چلتا کہ یہ جعلی دودھ ہے ۔فوڈ اتھارٹی کی کارروائیاں صرف فوٹو سیشن ثابت ہو رہی ہیں ۔ ایک رپورٹ کے مطابق لاہور میں دو لاکھ لیٹر تک بیرون شہروں سے ناقص دودھ آ رہا ہے جو لوگوں کے معدوں میں اتارا جا رہا ہے ایسا دودھ پینے سے بچے لاغر پیدا ہورہے ہیں۔ اس حوالے سے فوڈ اتھارٹی کے ترجمان کا کہنا ہے کارروائیاں جاری ہیں حقیقت کو جھٹلایا جا نہیں جا سکتا کیمیکل والا دودھ آرہا ہے جسے آئے دن پکڑتے ہیں اس مافیا سے مکمل نجات کے لیے قانون سازی کرنا ہوگی ۔اس حوالے سے شہریوں سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا مضر صحت دودھ فروخت کرنے والوں کو کڑی سزا دی جائے

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -