بھٹے بند، اینٹیں مہنگی ، تعمیر یاتی منصوبے متاثر ، قیمتیں مزید بڑھنے کاامکان

بھٹے بند، اینٹیں مہنگی ، تعمیر یاتی منصوبے متاثر ، قیمتیں مزید بڑھنے کاامکان

  

کوٹ ادو(تحصیل رپورٹر)پنجاب بھر میں 27 اکتوبر سے خشت بھٹے بند رکھنے کے حکم،بھٹہ خشت مالکان نے اینٹیں مہنگی کر دیں، اینٹیں مہنگی ہونے سے تعمیراتی منصوبے ٹھپ ہوگئے ۔تفصیلات کے مطابق محکمہ ماحولیات نے بھٹہ مالکان کو 27 اکتوبر سے 31 دسمبر تک خشت بھٹے بند رکھنے کی (بقیہ نمبر31صفحہ12پر )

ہدایات جاری کر دی ہیں لیکن بھٹوں کی بندش سے قبل ہی مارکیٹ میں اینٹ کی قیمتیں اوپر جانا شروع ہو گئیں،ضلعی انتظامیہ کی عدم دلچسپی کے باعث تحصیل کوٹ ادومیں اینٹوں کی قیمتوں میں ہو شربا اضافہ ہو گیا ہے،اس وقت مارکیٹ میں درجہ اوّل کی اینٹ کی قیمت 7سے 8ہزار روپے فی ہزار، بارشی اینٹ 65سو روپے جبکہ دوئم اینٹ ساڑھے 6 سے 7 ہزار روپے تک جا پہنچی جبکہ مارکیٹ میں قلت کے باعث قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں ،اس بارے شہریوں وتاجر تنظیموں نے کہا کہ اینٹ‘سیمنٹ اور دیگر تعمیراتی سامان کی قیمتوں کے تعین اور انہیں برقرار رکھنے کے لیے کوئی نظام نہ ہونے کی وجہ سے گزشتہ دو ماہ کے دوران درجہ اول کی اینٹ کی قیمت میں 4500 روپے فی ہزار جبکہ سیمنٹ کی قیمت میں 225 روپے فی بوری اضافہ ہوگیا ہے اور تعمیراتی سامان کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے،شہریوں کا اکہنا تھا کہ اینٹوں کی بھٹہ پر قیمت دوماہ قبل4000 روپے سے5000 روپے فی ہزار تک تھی تاہم اکتوبرمیں بھٹہ پر اینٹ کی قیمت7500سے7700روپے فی ہزار تک جاپہنچی ہے جبکہ فی ہزارکا کرایہ جوکہ دوماہ قبل500سے900روپے تھا بڑھ کر 1200سے1500روپے تک ہوگیا ہے ،انہوں نے کہا کہ بھٹہ خشت اور پرچون والوں نے ڈی سی مظفرگڑھ کا حکم بھی ہوا میں اڑا دیا ہے ،موجودہ حالات میں حکومت کو چاہیے کہ بھٹے بند کرنے کا دورانیہ کم کرے ورنہ مارکیٹ میں اینٹ غریب آدمی کی پہنچ سے باہر نکل جائیگی،بھٹہ مافیا کی جانب سے خودساختہ اینٹوں کی قیمتوں میں اضافہ ہونے سے تعمیراتی امور بری طرح متاثر ہوگئے، کام رکنے کے باعث مزدور طبقہ گھروں میں بیٹھ گیا، ٹائل جو قبل ازیں ساڑھے 7 ہزار روپے کی 1 ہزار آتی تھی اب اس کی قیمت 14ہزارروپے فی ہزارکردی گئی ہے جبکہ ٹسو کی قیمت 4ہزار سے بڑھکر7ہزار روپے فی ہزار ہو گئی ہے، شہریوں اور تاجروں نے احتجاج کرتے ہوئے حکام سے بھٹہ مالکان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -