سٹاف بحران حادثے ، پیغام یونین کا احتجاج ، آج دھرنا دینے کا اعلان

سٹاف بحران حادثے ، پیغام یونین کا احتجاج ، آج دھرنا دینے کا اعلان

  

ملتان ( سٹاف رپورٹر ) مرکزی صدر پیغام یونین سراج الدین ثاقب کی قیادت میں پیغام یونین آج میپکو ہیڈکوارٹر کے باہر احتجاجی دھرنا دے گی۔ اس سلسلے میں گزشتہ روز میپکو پیغام یونین کا اجلاس ہوا جس میں مرکزی سیکرٹری جنرل اے ڈی ساجد نے کہا کہ میپکو میں لائن سٹاف کی شدید کمی (بقیہ نمبر37صفحہ12پر )

ہے اور آئے روز حادثات ہو رہے ہیں۔ لائن سٹاف کی کمی اس قدر ہے کہ لائن پر چوکیداروں سے کام کروایا جا رہا ہے اور ملازمین حادثات کا شکار ہو رہے ہیں۔ میپکو اتھارٹی کی نظر میں انسانی جان کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے۔ آج کسی زمیندار کا کوئی جانور بجلی کے پول کے ساتھ کرنٹ لگنے سے مر جائے تو زمیندار اس وقت تک چین سے نہیں لیتا جب تک واپڈا والوں کے خلاف ایف آئی آر درج نہ کرائے۔ آج تک جتنے فیٹل حادثات ہوئے ہیں کسی ذمہ دار کے خلاف ایف نہیں کرائی گئی ہے۔ میپکو پیغام یونین مطالبہ کرتی ہے کہ فیٹل حادثات کی صورت میں ذمہ داروں کے خلاف ایف آئی آردرج کرائی جائے۔ میپکو میں سٹاف کی شدید کمی ہے جس وجہ سے حادثات ہورہے ہیں۔ 1163 سلیکٹڈ اے ایل ایم جنہوں نے این ٹی ایس کے ذریعے محکمہ کے بھرتی کے تمام مراحل کامیابی سے طے کر لئے تھے ان کو فی الفور بھرتی کیا جائے۔ 1163 سلیکٹڈ اے ایل ایمز کے آرڈر کروانے کیلئے پیغام یونین آج22 اکتوبر سوموار کو صبح 9 بجے میپکو ہیڈکوارٹر کے باہر پرامن احتجاجی دھرنا دے گی اور جب تک 1163 سلیکٹڈ اے ایل ایمز کے آرڈر نہیں ہو جاتے پیغام یونین کا دھرنا جاری رہے گا۔ اس موقع پر مرکزی چیئرمین چوہدری محمد نواز چدھڑ نے کہا کہ ہائیڈرو ورکر یونین اور میپکو اتھارٹی ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں۔ میپکو میں افسروں کے بچے بھرتی ہوئے ہیں اس کے بدلے میں ہائیڈرو ورکر یونین کے نمائندوں نے اپنے دو،دو بچے بھرتی کروا لئے ہیں لیکن 1163 سلیکٹڈ اے ایل ایمز جو میرٹ پر آئے ہیں ان کے آرڈر جاری نہیں کئے گئے ہیں۔ ہائیڈرو والے نہ تو خود کام کرتے ہیں بلکہ اپنی گاڑیوں کے ڈرائیور بھی اے ایل ایم رکھے ہوئے ہیں۔ ان تمام کا بوجھ ملازمین اٹھا رہے ہیں۔ میپکواتھارٹی غیرجانبدار رہے اور یکساں سلوک کرے ورنہ اس ناانصافی کی ذمہ دار میپکو اتھارٹی ہوگی۔ اس موقع پر ظفر اقبال بیگ، سلیم عباس صدیقی، نذیر ارجن، خدا بخش بوسن، تقی حیدر، اشفاق محمود اور دیگر موجود تھے۔

پیغام یونین

مزید :

ملتان صفحہ آخر -